جنگ بندی کے باوجود لبنان اور غزہ پر اسرائیلی حملے، 24 فلسطینی و لبنانی شہید
جنوبی لبنان میں فضائی و ڈرون حملے، غزہ میں رہائشی عمارت نشانہ؛ یونیسیف کا بچوں کی ہلاکتوں پر اظہار تشویش
جنیوا، بیروت، غزہ (ویب ڈیسک) اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے باوجود لبنان اور غزہ میں اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جن کے نتیجے میں مزید 24 افراد شہید ہو گئے۔
لبنانی میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے علاقے نبطیہ میں فضائی اور ڈرون حملے کیے، جو جنگ بندی کے نفاذ کے چند گھنٹے بعد ہی کیے گئے۔ حملوں کے باعث رہائشی عمارتوں اور گھروں کو شدید نقصان پہنچا۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے علاقے کفر تبنیت کے قریب ایک فوجی چیک پوسٹ پر راکٹوں اور دھماکہ خیز ڈرون حملے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان کے مطابق اس حملے میں 21 سالہ سارجنٹ فرسٹ کلاس نیر بن آری ہلاک ہوئے، جبکہ 13 دیگر فوجی زخمی ہوئے، جن میں سے بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے غزہ میں ایک رہائشی عمارت کو بھی نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 4 فلسطینی شہید ہو گئے۔ عرب میڈیا کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک اسرائیلی حملوں میں متعدد فلسطینی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال یونیسیف نے غزہ کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود بچوں کی ہلاکتوں کا سلسلہ نہیں رک سکا۔
یونیسیف کے ترجمان جیمز ایلڈر کے مطابق جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے اب تک سیکڑوں فلسطینی بچے جاں بحق اور زخمی ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بچے گھروں، اسکولوں، خیموں اور عوامی مقامات پر بھی حملوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔
یونیسیف نے خبردار کیا کہ غزہ میں طبی سہولیات، ادویات اور بنیادی ضروری سامان کی کمی کے باعث زخمی بچوں کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ متعدد بچوں کو فوری طبی انخلا کی ضرورت ہے۔
ادارے نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ بچوں کے تحفظ اور بین الاقوامی انسانی قوانین کی پاسداری کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔



