
جوں ہی تعلیمی اداروں میں بچوں کی طویل چھٹیوں کا اعلان ہوتا ہے، گھروں میں ایک عجیب سی ہلچل مچ جاتی ہے۔ بچوں کے چہروں پر کتابوں کے بوجھ سے نجات کی خوشی رقص کرنے لگتی ہے، جبکہ دوسری طرف والدین کے ماتھے پر یہ سوچ کر بل پڑ جاتے ہیں کہ اب ان”شرارتی فرشتوں“ کو پورا دن کیسے سنبھالا جائے؟ عام طور پر ہمارے معاشرے میں چھٹیوں کا مطلب بے ہنگم روٹین، رات دیر تک جاگنا، دوپہر تک سونا، اور سارا دن موبائل یا ٹی وی اسکرین کے سامنے گزارنا سمجھ لیا گیا ہے۔ لیکن کیا کبھی ہم نے سوچا کہ یہ چھٹیاں صرف وقت گزاری کا نام ہیں، یا یہ ہمارے بچوں کی شخصیت سازی کا ایک انتہائی اہم اور سنہری موقع ہیں؟
موجودہ تیز رفتار دور میں اسکول کی روٹین اتنی سخت ہو چکی ہے کہ بچے صبح سے دوپہر تک اسکول، اور دوپہر سے شام تک اکیڈمی یا ٹیوشن میں مصروف رہتے ہیں۔ اس مشینی زندگی میں انہیں اپنی ذات کو سمجھنے اور نصاب سے ہٹ کر کچھ نیا سیکھنے کا وقت ہی نہیں ملتا۔ یہی وہ خلا ہے جسے پر کرنے کے لیے چھٹیاں دی جاتی ہیں۔ چھٹیاں دراصل تعلیم سے فرار نہیں، بلکہ اسکول کی چاردیواری سے باہر نکل کر”زندگی کی عملی کتاب“ پڑھنے کا نام ہیں۔ اور اس کتاب کو پڑھانے میں سب سے بڑا اور بنیادی کردار والدین کا ہے۔ بچوں کے لیے ایک متوازن نظام الاوقات (ٹائم ٹیبل) بنائیں۔
چھٹیوں کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہونا چاہیے کہ نظم و ضبط کو یکسر الوداع کہہ دیا جائے۔ اگر بچے رات گئے تک جاگیں گے اور دن کا بڑا حصہ سونے میں گزاریں گے، تو ان کی جسمانی اور ذہنی صحت بری طرح متاثر ہوگی۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کے سونے اور جاگنے کے اوقات کو اعتدال میں رکھیں۔ صبح جلدی اٹھنے کی عادت برقرار رکھی جائے، تاکہ وہ دن کے آغاز میں متحرک رہ سکیں۔
آج کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ والدین بچوں کی شرارتوں سے بچنے کے لیے ان کے ہاتھ میں اسمارٹ فون تھما دیتے ہیں۔ یہ عمل بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔ چھٹیوں میں اسکرین کا وقت سخت حد تک محدود ہونا چاہیے اور اس کا متبادل جسمانی کھیلوں، جیسے کرکٹ، فٹ بال، بیڈمنٹن یا انڈور گیمز (شطرنج، لڈو وغیرہ) کی صورت میں فراہم کیا جانا چاہیے۔ جسمانی سرگرمیاں بچوں کے مدافعتی نظام کو مضبوط کرتی ہیں اور انہیں ذہنی طور پر چست بناتی ہیں۔
تعلیمی چھٹیاں بچوں کو نئی مہارتیں سکھانے کا بہترین وقت ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کی عمر کے مطابق انہیں مختلف کورسز کروائیں۔ مثال کے طور پر، ڈیجیٹل دور کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بچوں کو بنیادی کمپیوٹر اسکلز، گرافک ڈیزائننگ یا کوڈنگ سکھائی جا سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، عملی زندگی کے بنیادی کام، جیسے لڑکوں اور لڑکیوں دونوں کو کوکنگ (بغیر آگ کے ہلکی پھلکی چیزیں بنانا)، باغبانی (گارڈننگ)، اور اپنے کمرے کی صفائی خود کرنا سکھانا چاہیے۔ یہ چھوٹی چھوٹی عادتیں بچوں میں احساسِ ذمہ داری اور خود اعتمادی پیدا کرتی ہیں۔
سب سے بڑھ کر، یہ وقت بچوں کی اخلاقی اور دینی تربیت کا ہے۔ اسکول کے دنوں میں وقت کی کمی کے باعث جو کسر رہ جاتی ہے، اسے ان چھٹیوں میں پورا کیا جا سکتا ہے۔ والدین بچوں کو ناظرہ قرآن کی درستی، نماز کی پابندی اور روزمرہ کی مسنون دعائیں یاد کروا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، کہانیوں اور تاریخ کی کتابوں کے ذریعے بچوں میں مطالعے کا شوق پیدا کیا جائے۔ اچھی کتابیں انسان کی بہترین دوست ہوتی ہیں اور یہ بچوں کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو جلا بخشتی ہیں۔ چھٹیوں کے دوران بچوں کو قریبی رشتہ داروں اور دادا دادی، نانا نانی کے پاس لے کر جائیں۔ بزرگوں کی صحبت سے بچے اخلاقیات، تہذیب اور رشتوں کا احترام سیکھتے ہیں۔انہیں کسی فلاحی کام یا کمیونٹی سروس کا حصہ بنائیں، تاکہ ان کے اندر دوسروں کی مدد کرنے کا جذبہ اور ہمدردی پیدا ہو۔
والدین کو یہ سمجھنا ہوگا کہ بچے صرف پیسوں یا مہنگے کھلونوں کے طلبگار نہیں ہوتے، وہ آپ کا”معیاری وقت“ چاہتے ہیں۔ روزانہ چند گھنٹے بچوں کے ساتھ بیٹھ کر ان کے دل کی باتیں سنیں، ان کے دوست بنیں، اور ہفتے میں ایک بار انہیں کسی تاریخی مقام، میوزیم، چڑیا گھر یا پارک کی سیر پر لے کر جائیں۔ اسکول کی چھٹیاں والدین کے لیے ایک امتحان بھی ہیں اور ایک آزمائش بھی۔ اگر ہم نے ان چھٹیوں کو صرف غفلت میں گزار دیا، تو بچے سست اور چڑچڑے ہو جائیں گے۔ لیکن اگر ایک منظم حکمتِ عملی کے ساتھ ان کا وقت استعمال کیا گیا، تو یہی بچے چھٹیوں کے بعد جب دوبارہ اسکول جائیں گے، تو وہ پہلے سے زیادہ بااعتماد، ذہین اور ایک بہتر انسان بن کر سامنے آئیں گے۔ فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہم ان چھٹیوں کو ضائع کرنا چاہتے ہیں یا اپنے بچوں کے مستقبل کا سرمایہ بنانا چاہتے ہیں۔



