
پشاور (ویب ڈیسک): خیبرپختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما علی امین گنڈاپور نے اپنی ہی حکومت کے بجٹ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کئی ترقیاتی منصوبے سو سال میں بھی مکمل نہیں ہو سکیں گے۔
خیبرپختونخوا اسمبلی میں بجٹ پر اظہار خیال کرتے ہوئے علی امین گنڈاپور نے کہا کہ ترقیاتی سکیموں کی صورتحال انتہائی خراب ہے اور موجودہ منصوبہ بندی کے باعث عوام کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
"منصوبے 100 سال میں بھی مکمل نہیں ہوں گے”
سابق وزیراعلیٰ نے کہا کہ بعض بڑے منصوبوں جیسے خوشحال ہزارہ پروجیکٹ کی تکمیل کے لیے نہایت کم فنڈز رکھے گئے ہیں، جس کے باعث یہ منصوبے عملاً غیر مؤثر ہو چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کئی سکیموں میں کروڑوں کے منصوبوں کے لیے صرف ہزاروں روپے مختص کیے جا رہے ہیں، جس سے یہ سکیمیں اراکین اسمبلی کے لیے مشکلات پیدا کریں گی۔
وفاق اور فنڈز پر تنقید
علی امین گنڈاپور نے کہا کہ خیبرپختونخوا اپنے آئینی حق کے مطابق وسائل حاصل نہیں کر سکا اور وفاق سے مؤثر طریقے سے مذاکرات نہیں کیے جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں کے حقوق تسلیم کیے جانے چاہئیں اور این ایف سی ایوارڈ میں آبادی اور قربانیوں کو مدنظر رکھا جانا ضروری ہے۔
"اپوزیشن کو فنڈز نہ دینا ہماری غلطی تھی”
سابق وزیراعلیٰ نے اعتراف کیا کہ ماضی میں اپوزیشن کے حلقوں میں فنڈز کی تقسیم میں عدم توازن رہا جو ایک غلطی تھی۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلاف کے باوجود ترقیاتی عمل کو سب کے لیے برابر ہونا چاہیے۔
مہنگائی، صحت کارڈ اور ترقیاتی منصوبے
علی امین گنڈاپور نے کہا کہ مہنگائی بڑھ رہی ہے اور سرکاری ملازمین کی تنخواہیں اور پنشن کم از کم 10 فیصد بڑھائی جانی چاہئیں۔
انہوں نے صحت کارڈ کو بانی پی ٹی آئی عمران خان کے وژن کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے سے اربوں روپے کی بچت ممکن ہے۔
"سیاسی انتقام کا خاتمہ ضروری ہے”
انہوں نے کہا کہ ملک میں سیاسی دشمنی اور انتقامی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہے اور تمام سیاسی جماعتوں کو مل کر عوامی مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔
علی امین گنڈاپور نے کہا کہ ترقی کے لیے قومی سطح پر اتحاد ضروری ہے اور موجودہ نظام میں اصلاحات ناگزیر ہیں۔



