پیرا فورس کا عوام پر تشدد، قانون کی حکمرانی سوالیہ نشان
فیصل درانی

کسی بھی مہذب معاشرے کی بنیاد قانون کی حکمرانی، شہری آزادیوں کے تحفظ اور ریاستی اداروں کی آئینی حدود کے احترام پر قائم ہوتی ہے۔ جب قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی ذمہ داریوں سے تجاوز کرتے ہوئے غیر قانونی چھاپوں، بلاجواز گرفتاریوں اور عوام پر تشدد کا راستہ اختیار کرتے ہیں تو نہ صرف شہریوں کا اعتماد مجروح ہوتا ہے بلکہ پورا معاشرتی ڈھانچہ عدم تحفظ اور خوف کی فضا میں مبتلا ہو جاتا ہے۔
حالیہ عرصے میں مختلف علاقوں سے ایسی شکایات سامنے آئی ہیں کہ بعض کارروائیوں کے دوران پیرا فورس کے اہلکار قانونی تقاضوں کو نظرانداز کرتے ہوئے گھروں میں داخل ہوتے ہیں، شہریوں کو ہراساں کرتے ہیں اور بعض مواقع پر طاقت کا غیر ضروری استعمال بھی کیا جاتا ہے۔ اگر یہ الزامات درست ہیں تو یہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے، کیونکہ کسی بھی ریاستی ادارے کا اختیار قانون اور آئین سے بالاتر نہیں ہو سکتا۔
عوام کا کہنا ہے کہ غیر قانونی چھاپوں کی وجہ سے گھروں کا تقدس پامال ہو رہا ہے۔ خواتین، بزرگ اور بچے خوف و ہراس کا شکار ہیں۔ رات کے وقت ہونے والی کارروائیاں کئی خاندانوں کی ذہنی اذیت کا سبب بنتی ہیں۔ ایسے واقعات صرف متاثرہ افراد ہی نہیں بلکہ پورے معاشرے میں بے چینی اور عدم اعتماد کو جنم دیتے ہیں۔
تشدد اور طاقت کا بے جا استعمال کسی مسئلے کا حل نہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا مقصد شہریوں کا تحفظ ہونا چاہیے، نہ کہ انہیں خوفزدہ کرنا۔ اگر کسی شخص پر جرم کا شبہ ہے تو اس کے خلاف قانونی طریقہ کار موجود ہے۔ عدالتیں، تفتیشی نظام اور آئینی تقاضے اسی لیے بنائے گئے ہیں تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوں اور کسی بے گناہ کے حقوق متاثر نہ ہوں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ متعلقہ حکام ان شکایات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائیں۔ اگر کسی اہلکار نے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا ہے تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔ ساتھ ہی شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے واضح نگرانی اور احتساب کا نظام بھی قائم کیا جانا چاہیے۔
ایک مضبوط ریاست وہ نہیں ہوتی جو اپنے شہریوں کو خوف کے ذریعے خاموش کر دے، بلکہ وہ ہوتی ہے جو انصاف، شفافیت اور قانون کی بالادستی کے ذریعے عوام کا اعتماد حاصل کرے۔ اگر عوام خود کو غیر محفوظ محسوس کریں اور ریاستی کارروائیوں کو انصاف کے بجائے جبر سمجھنے لگیں تو یہ صورتحال کسی بھی معاشرے کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی ذمہ داریاں آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ادا کریں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور معاشرے میں انصاف کا بول بالا ہو۔



