بلاگپاکستانتازہ ترینعلاقائی خبریںکالم

گوجرانوالہ میں پیغامِ امن سیمینار

 

پاکستان نے حالیہ برسوں میں دفاعی اور سفارتی محاذوں پر جو نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، عالمی برادری نہ صرف ان کی معترف ہے بلکہ خطے میں امن و استحکام کے لیے اسلام آباد کے کلیدی کردار کو تسلیم بھی کرتی ہے۔ تاہم یہی کامیابیاں پاکستان دشمن قوتوں کی آنکھوں میں کھٹک رہی ہیں اور ان کے سینوں پر سانپ لوٹ رہے ہیں۔ جب یہ عناصر سفارتی یا دفاعی محاذ پر پاکستان کا مقابلہ کرنے میں ناکام رہے تو انہوں نے ملک کو اندرونی طور پر نقصان پہنچانے کے لیے ہائبرڈ جنگ اور نت نئی سازشوں کے جال بننا شروع کر دیے۔

 

اس سازشی ایجنڈے کے تحت محرم الحرام کا مقدس مہینہ ان کے لیے ہمیشہ سے ایک سافٹ ٹارگٹ رہا ہے، جہاں یہ بدنیت عناصر مذہبی حساسیت کا فائدہ اٹھا کر فرقہ وارانہ ماحول پیدا کرنے اور ملک کے امن و امان کو سبوتاژ کرنے کی مذموم کوشش کرتے ہیں لیکن دشمن یہ بھول رہا ہے کہ اب پاکستان کے ریاستی، حکومتی اور سکیورٹی ادارے ان تمام خطرات سے پوری طرح باخبر اور چوکنا ہیں۔ انٹیلی جنس ایجنسیوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور حکومت کی بروقت حکمت عملی، فول پروف سکیورٹی اقدامات اور علما و مشائخ کے تعاون سے بین المسالک ہم آہنگی کو فروغ دے کر ان سازشوں کا راستہ روک رہے ہیں۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے قومی پیغامِ امن کمیٹی کی اپیل پر ملک گیر سطح پر امن و امان کے قیام اور بین مسالک ہم آہنگی کے عنوان سے سیمینارز کا ایک تاریخ ساز سلسلہ جاری ہے۔

صوبائی پیغامِ امن کمیٹی پنجاب نے پاکستان علماء کونسل گوجرانوالہ کے تعاون سے گوجرانوالہ چیمبر آف کامرس میں ایک پروقار اور انتہائی اہمیت کے حامل سیمینار کا انعقاد کیا، جس میں راقم الحروف بھی شریک تھا۔بلاشبہ یہ تقریب محض ایک روایتی نشست نہیں تھی بلکہ یہ پاکستان میں مذہبی و مسالکی ہم آہنگی کے ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہوئی۔سیمینار کے مہمانِ خصوصی قومی پیغامِ امن کمیٹی کے مرکزی کوآرڈینیٹر اور پاکستان علماء کونسل کے سربراہ حافظ محمد طاہر محمود اشرفی تھے جن کی امن پسندی اور اتحادِ امت کے لیے کوششیں کسی تعارف کی محتاج نہیں ہیں، جبکہ تقریب کی صدارت صوبائی پیغامِ امن کمیٹی کے کوآرڈینیٹر حافظ مقبول احمد نے کی۔ اس سیمینار کی سب سے خوبصورت بات معاشرے کے تمام طبقات کی بھرپور اور جاندار نمائندگی تھی۔

تقریب میں علامہ خالد حسین مجددی، حاجی یوسف کھوکھر، مولانا حافظ شہباز رسول، قاضی ضیاء محسن اعوان، مولانا قاضی عصمت اللہ، مولانا عبدالغفار اعوان، علامہ کاظم رضا ترابی، پروفیسر شہزاد لارنس، پادری عارف سراج، مولانا قاری نور حسین غزنوی، مولانا پیر سلطان محمود قادری، مولانا مفتی حنیف عمر، مولانا طلحہ زاہد صدیقی، مولانا اکبر نقشبندی، مولانا زبیر کھٹانہ، مولانا عثمان بٹ، مفتی کامران ہزاروی، حاجی ملک نواز، میاں راشد منیر، ملک ذیشان عالم اور مولانا معاذ احمد سمیت مختلف مسالک کے جید علماء و مشائخ اور دیگر مذاہب کے قائدین نے بڑی تعداد میں شرکت کر کے یہ ثابت کیا کہ جب بات پاکستان کی سلامتی اور امن کی ہو تو پوری قوم ایک صف میں کھڑی ہو جاتی ہے۔

گوجرانوالہ چیمبر آف کامرس کا ہال اس دن ایک منفرد منظر پیش کر رہا تھا، جہاں یہ سیمینار نہ صرف اتحاد بین المسلمین کی عملی تصویر بن کر سامنے آیا بلکہ بین المذاہب ہم آہنگی کا ایک ایسا بے مثال شاہکار بھی ثابت ہوا جس کی نظیر کم ہی ملتی ہے۔ ایک ہی چھت کے نیچے دیوبندی، بریلوی، اہلحدیث اور اہل تشیع مکاتبِ فکر کے علماء کے ساتھ ساتھ مسیحی برادری کے رہنماؤں کا دوش بدوش بیٹھنا اس بات کی گواہی تھا کہ پاکستان کا امن ہر شہری کا مشترکہ خواب ہے۔

مقررین نے اپنے فکر انگیز خطابات میں واضح کیا کہ اسلام امن، محبت اور سلامتی کا دین ہے اور کسی بھی فرد یا گروہ کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ قانون کو ہاتھ میں لے یا دوسروں پر اپنے نظریات زبردستی مسلط کرے۔ بین مسالک ہم آہنگی کے لیے تمام مکاتبِ فکر کی مقدس ہستیوں کے احترام کو لازم و ملزوم قرار دیا گیا جبکہ پروفیسر شہزاد لارنس اور پادری عارف سراج کی موجودگی میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ آئینِ پاکستان کے تحت غیر مسلم شہریوں کو حاصل تمام حقوق کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جائے گا۔

حاصل کلام یہ ہے کہ گوجرانوالہ میں منعقدہ یہ سیمینار اس بات کا واضح اعلان تھا کہ پاکستان کے علماء، مشائخ اور اقلیتی قائدین دشمن کی ہر اس سازش کو ناکام بنا دیں گے جو ملک میں فرقہ واریت اور مذہبی منافرت پھیلانے کے لیے رچی جاتی ہے۔ چیمبر آف کامرس جیسے تجارتی مرکز میں اس سیمینار کا انعقاد یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ امن اور معیشت کا چولی دامن کا ساتھ ہے جب تک ملک میں امن نہیں ہوگا، معاشی خوشحالی ممکن نہیں۔

سیمینار میں تمام مکاتبِ فکر کے علماء، مشائخ اور قائدین نے پیغام پاکستان ضابطہ اخلاق کی مکمل توثیق کرتے ہوئے محرم الحرام کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے قومی پیغامِ امن کمیٹی کے ساتھ بھرپور تعاون کا اعلان کیا۔ انہوں نے اس بات کا بھی برملا اظہار کیا کہ پیغام پاکستان ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے والا کوئی بھی اس کی حمایت نہیں کی جائے گی اسے قانون کے مطابق سزا دی جائے۔
قومی و صوبائی پیغامِ امن کمیٹی اور پاکستان علماء کونسل گوجرانوالہ کی یہ مشترکہ کاوش نہ صرف انتہائی قابلِ ستائش ہے بلکہ اس امر کی متقاضی ہے کہ ایسے سیمینارز تحصیل اور یونین کونسل کی سطح پر بھی منعقد کیے جائیں تاکہ امن کی یہ شمع پورے ملک کو روشن کر دے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button