انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینکالم

تختیاں، تابوت اور برگن سٹاخ سے ابھرتی نئی دنیا

عاصم رضا خیالوی

سوئٹزرلینڈ کے برف پوش پہاڑوں میں گھرا برگن سٹاخ کا پُرسکون ریزورٹ ان دنوں عالمی سیاست کے ایک غیر معمولی منظر کا گواہ بن رہا ہے۔ یہاں صرف امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات نہیں ہو رہے، بلکہ شاید ایک ایسے عالمی نظام کی تشکیل کے آثار بھی دکھائی دے رہے ہیں جہاں بندوق کی دھمکیوں سے زیادہ مذاکراتی میز کی اہمیت بڑھتی جا رہی ہے۔

کہتے ہیں ایک گاؤں کا چودھری اپنی دھاک بٹھانے کے لیے خود کم نکلتا تھا، صرف اپنی تختی بھیج دیتا تھا اور لوگ سمجھ جاتے تھے کہ چودھری موجود ہے۔ وقت گزرا، چودھری دنیا سے رخصت ہوا تو اس کے جنازے میں پورا گاؤں موجود تھا، لیکن لوگ خود نہ آئے، صرف اپنی اپنی تختیاں بھیج دیں۔ شاید آج عالمی سیاست میں بھی کچھ ایسا ہی منظر دکھائی دیتا ہے، جہاں طاقتور اتحادوں کے نام تو موجود ہیں مگر عملی شرکت کمزور پڑتی جا رہی ہے۔

برگن سٹاخ کے کانفرنس ہال میں ایک طرف امریکی نائب صدر جے ڈی وینس موجود ہیں، جنہیں صدر ٹرمپ نے ایک مشکل سفارتی امتحان میں آگے کر دیا ہے، جبکہ دوسری جانب عباس عراقچی اور محمد باقر قالیباف کی قیادت میں ایرانی وفد اپنے مطالبات اور ترجیحات کے ساتھ مذاکراتی میز پر بیٹھا ہے۔

مذاکرات کا دائرہ صرف جوہری پروگرام تک محدود نہیں رہا۔ لبنان میں جنگ بندی، آبنائے ہرمز کی سلامتی، پابندیوں میں نرمی، منجمد اثاثوں کی بحالی اور تعمیر نو کے منصوبے بھی اس پیچیدہ شطرنج کا حصہ بن چکے ہیں۔

اس مقصد کے لیے تین تکنیکی ورکنگ گروپس تشکیل دیے گئے ہیں۔ پہلا گروپ ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر اور جوہری نگرانی کے معاملات پر کام کر رہا ہے۔ دوسرا گروپ پابندیوں میں نرمی اور اس کے معاشی اثرات کا جائزہ لے رہا ہے، جبکہ تیسرا گروپ منجمد اثاثوں کی واپسی اور تعمیر نو کے مالیاتی فریم ورک کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہے۔

مفاہمتی یادداشت کا سب سے حساس پہلو آبنائے ہرمز ہے۔ ایک جانب ایران کو عالمی تجارت کے اس اہم راستے کو کھلا رکھنے کی ذمہ داری دی جا رہی ہے، تو دوسری جانب امریکہ بحری تصادم سے گریز کی یقین دہانیاں فراہم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اسی طرح لبنان میں کسی غیر ارادی تصادم کو روکنے کے لیے "ڈی کنفلیکشن سیل” کے قیام کی تجویز بھی سامنے آئی ہے۔

اس پورے عمل میں پاکستان اور قطر کا کردار غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ دونوں ممالک روایتی سفارت کاری سے آگے بڑھتے ہوئے "شٹل ڈپلومیسی” کے ذریعے ایسے پل کا کردار ادا کر رہے ہیں جو بظاہر ایک دوسرے سے دور کھڑے فریقوں کو بات چیت کے عمل سے جوڑے ہوئے ہے۔ بعض مواقع پر جب ایرانی وفد نے براہ راست بات چیت سے گریز کیا تو پیغامات کا تبادلہ انہی ثالثوں کے ذریعے جاری رکھا گیا۔

لیکن یہ راستہ آسان نہیں۔ حزب اللہ کی حیثیت، آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کی رسائی، اور صدر ٹرمپ کی دھمکی آمیز بیانات اب بھی مذاکراتی عمل پر سایہ ڈالے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر پیش رفت کے باوجود غیر یقینی کی فضا برقرار ہے۔

اس تمام منظرنامے میں ایک حقیقت واضح ہوتی جا رہی ہے کہ طاقت کا مفہوم بدل رہا ہے۔ آج شاید طاقت صرف بحری بیڑوں، میزائلوں اور پابندیوں کا نام نہیں، بلکہ صبر، سفارت کاری، اور مخالف کے ساتھ ایک ہی میز پر بیٹھنے کی صلاحیت بھی طاقت کی نئی تعریف بن چکی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ موسم ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے۔ بڑے بڑے چودھری بھی وقت کے ساتھ بدلتے موسموں کے سامنے اپنے رویے تبدیل کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ شاید برگن سٹاخ کی خاموش وادیوں میں لکھی جانے والی یہ داستان بھی اسی تبدیلی کی ایک نئی علامت ہے، جہاں تختیوں کی سیاست سے نکل کر انسانوں کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر آنا پڑ رہا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button