انٹر نیشنلتازہ ترینجرم-وسزا

غزہ پراسرائیلی ڈرون حملے،ہنیہ کے بھتیجے،بحری پولیس کے سربراہ سمیت 8افراد شہید،متعددزخمی

ولید ہنیہ شہید نخبا فورس کے نائب کمانڈر تھے،محفوظ قرار علاقے پر بھی حملہ،بہن بھائی شہید،سرنگوں کے یونٹ کے سربراہ کمال محمد بھی شہید

رفح:(ویب ڈیسک) اسرائیل نے غزہ کے مختلف علاقوں پر ڈرون حملے کیے جن میں اسماعیل ہنیہ کے بھتیجے اور حماس کی بحری پولیس کے سربراہ سمیت 8افراد شہید جبکہ درجنوں زخمی ہو گئے۔ اسرائیلی حملے میں حماس کے عسکری ونگ کے اہم کمانڈر ولید ہنیہ کو نشانہ بنایا گیا جو شہید اسماعیل ہنیہ کے بھتیجے ہیں۔

صیہونی فوجی ترجمان نے دعویٰ کیا کہ ولید ہنیہ حماس کی نخبا فورس کی ایک کمپنی کے نائب کمانڈر تھے، وہ 7 اکتوبر کے حملے اور اسرائیلی شہریوں کو یرغمال بنا کر غزہ منتقل کرنے کی کارروائی میں ملوث تھے۔ولید ہنیہ حماس کیلئے نئے جنگجو بھی بھرتی کر رہے تھے۔دریں اثنا غزہ کے المغازی پناہ گزین کیمپ پر اسرائیل نے ڈرون حملہ کیا جس میں 3پولیس آفیسرز شہید اور متعدد افراد زخمی ہو گئے۔

فلسطینی وزارت داخلہ کے مطابق پولیس کی گاڑی کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ معمول کے گشت پر تھی، شہید ہونے والوں میں کیپٹن منصور،کیپٹن محمد خالد نوفل اور فرسٹ سارجنٹ مہدی نادر شامل ہیں۔

یہ افسران شہریوں کے تحفظ، امن و امان برقرار رکھنے، امدادی سامان کی تقسیم اور لوٹ مار کی روک تھام جیسے فرائض انجام دے رہے تھے۔صیہونی فوج نے خان یونس شہر میں محفوظ قرار دیے گئے علاقے المواصی پر بھی ڈرون حملہ کیا جس میں 15سالہ لڑکی اسلام موسیٰ اور اس کا بھائی عبداللہ موسیٰ شہید ہو گئے۔

دونوں بہن بھائی بے گھر افراد کیلئے قائم عارضی خیموں میں موجود تھے۔ ڈرون حملے میں 8افراد زخمی بھی ہوئے جنہیں شہریوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ریڈ کراس ہسپتال منتقل کیا۔ادھر غزہ شہر کے مغربی علاقے میں بے گھر افراد کے خیمے پر بھی ڈرون حملہ کیا گیا جس میں 12افراد زخمی ہو گئے،فلسطینی ہلال احمر کے مطابق زخمیوں میں زیادہ تر خواتین شامل ہیں جبکہ دو افراد کی حالت تشویش ناک ہے۔

صیہونی فوج نے اپنے بیان میں بتایا کہ وسطی غزہ پر بمباری میں حماس کی بحری پولیس کے سربراہ عبدالرحمٰن اور سرنگوں کے یونٹ کے سربراہ کمال محمد شہید ہو گئے۔صیہونی فوجی ترجمان نے بیان میں دعویٰ کیا کہ یہ افراد غزہ میں موجود اسرائیلی فوج کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button