ناقص پالیسیاں،پاکستان پانی کی قلت کا شکار،زراعت،معیشت کو سنگین خطرہ:تحقیقی رپورٹ
بحران کی ذمہ داری موسمیاتی تبدیلی پر ڈالنا درست نہیں،غیرموثر آبپاشی،کھادوں کے بے دریغ استعمال نے خطرات کے اثرات کو بڑھا دیا

اسلام آباد :(ویب ڈیسک) عالمی سطح پر پاکستان کو پانی کی شدید قلت کے شکار ممالک میں 14ویں نمبر پر شمار کیا جا رہا ہے جو ملک کی زراعت، غذائی تحفظ اور معیشت کے لیے سنگین خطرے کی نشاندہی کرتا ہے۔
یہ انکشاف ایمپیک سٹریٹیجیز کی جاری کردہ تحقیقی رپورٹ “پاکستان میں پائیدار زراعت: کیا پاکستان مستقبل میں اپنی غذائی ضروریات پوری کر سکے گا؟” میں کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے زرعی بحران کی ذمہ داری صرف موسمیاتی تبدیلی پر ڈالنا درست نہیں بلکہ اس میں دہائیوں سے جاری ناقص پالیسیوں اور انتظامی کمزوریوں کا بھی بڑا کردار ہے۔

غیر مؤثر آبپاشی زمین کی زرخیزی میں کمی کیمیائی کھادوں اور زرعی ادویات کا بے دریغ استعمال ایک ہی فصل کی مسلسل کاشت اور پالیسیوں پر کمزور عملدرآمد نے سیلاب خشک سالی اور ہیٹ ویوز جیسے موسمی خطرات کے اثرات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
زراعت کو پاکستان کی معیشت کا بنیادی ستون قرار دیتے ہوئے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ شعبہ مجموعی قومی پیداوار میں تقریباً 24 فیصد حصہ ڈالتا ہے اور 37 فیصد سے زائد افرادی قوت کو روزگار فراہم کرتا ہے۔ یہ 24 کروڑ سے زائد آبادی کی غذائی ضروریات اور معاشی استحکام کا بھی اہم ذریعہ ہے تاہم اس وقت شدید دباؤ کا شکار ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں فی کس سالانہ قابلِ تجدید میٹھے پانی کی دستیابی میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے۔1951 میں فی شخص پانی کی مقدار تقریباً پانچ ہزار دو سو ساٹھ کیوبک میٹر تھی جو وقت کے ساتھ کم ہو کر اب ایک ہزار مکعب میٹر سے بھی نیچے آ چکی ہے جو شدید پانی کی قلت کی خطرناک حد ہے۔

ملک کی تقریباً 90 فیصد زراعت دریائے سندھ کے آبپاشی نظام پر انحصار کرتی ہے جس سے پانی کے وسائل پر دباؤ مزید بڑھ جاتا ہے۔ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات میں بڑھتا ہوا درجہ حرارت بے ترتیب مون سون طویل خشک سالی اور بار بار آنے والے سیلاب شامل ہیں جو زرعی پیداوار کو متاثر کر رہے ہیں۔
اس کے ساتھ کیڑوں کے حملوں میں اضافہ اور کسانوں پر معاشی دباؤ بھی بڑھ رہا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حد سے زیادہ آبپاشی زمین کا مسلسل ایک ہی فصل کے لیے استعمال اور کیمیائی کھادوں پر انحصار نہ صرف پیداوار بلکہ ماحول کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔حل کے طور پر موجودہ پالیسیوں پر مؤثر عملدرآمد پر زور دیا گیا ہے۔
ان میں قومی موسمیاتی تبدیلی پالیسی، قومی غذائی تحفظ پالیسی، ری چارج پاکستان منصوبہ اور گرین ٹیکسانومی جیسے فریم ورک شامل ہیں جو پہلے سے موجود ہیں مگر ان پر عملدرآمد کمزور ہے۔مزید سفارشات میں جدید آبپاشی نظام زمین کی بحالی،کسانوں کے لیے مشاورتی خدمات، موسمیاتی لحاظ سے موزوں مالیاتی سہولیات اور حکومت، جامعات و نجی شعبے کے درمیان مضبوط تعاون شامل ہے۔ زرعی توسیعی خدمات میں سرمایہ کاری بڑھانے پر بھی زور دیا گیا ہے تاکہ کسان جدید ٹیکنالوجی اور بہتر رہنمائی حاصل کر سکیں۔
رپورٹ کے مرکزی محقق عزیز احمد کے مطابق پاکستان کی زراعت کا مستقبل صرف موسم نہیں بلکہ آج کیے جانے والے فیصلے طے کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ خوراک پانی اور موسمیاتی تحفظ کے بڑھتے ہوئے چیلنجز کے باعث پائیدار زراعت اب قومی سلامتی اور معاشی بقاکیلئےناگزیر ہو چکی ہے۔



