انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینجرم-وسزاکالم

کابل کے شگوفے

شاہد جاوید ڈسکوی/ دستک

سیاست اور سفارت کاری میں بیانات کا ایک اپنا ہی رنگ ہوتا ہے لیکن بعض اوقات کچھ بیانات اتنے مضحکہ خیز اور حقیقت سے دور ہوتے ہیں کہ ان پر غصہ آنے کے بجائے بے اختیار قہقہہ لگانے کو دل کرتا ہے۔ حال ہی میں افغان طالبان حکومت کے مرکزی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے انٹرنیشنل میڈیا کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے کچھ ایسا ہی شگوفہ چھوڑا ہے، جسے سن کر یہ خوش فہمی پل بھر میں کافور ہو جاتی ہے کہ کابل کے ایوانوں میں کوئی عقل و دانش کا حامل بھی بیٹھا ہے۔

نام نہاد امارت اسلامی کے ترجمان کا یہ انٹرویو دراصل اس بات کا بین ثبوت ہے کہ افغان قیادت اب بھی ماضی کے کسی سراب میں جی رہی ہے اور حقائق کا سامنا کرنے کے بجائے اپنے ہی عوام کو چونا لگانے میں مصروف ہے۔ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے انٹرویو میں دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان میں ان کے "ہمدرد” موجود ہیں، وہاں کے بعض علما اور مخصوص طبقے ان کی حمایت کرتے ہیں۔ بات یہیں ختم نہیں ہوئی، انہوں نے دھمکی آمیز لہجے میں یہ بھی فرما دیا کہ اگر افغان قیادت اجازت دے تو افغانستان کے عوام پاکستان کی بمباری کا بدلہ لینے کے لیے حملہ کرنے کو تیار بیٹھے ہیں لیکن خطے کے امن کی خاطر انہوں نے اپنے عوام کو روک رکھا ہے۔

اس بیان پر اگر زیادہ کچھ نہ بھی کہا جائے تو اتنا کہنا ہی کافی ہے کہ کابل کے حکمران زمینی حقائق سے اس قدر کٹ چکے ہیں کہ انہیں سرحد کے اس پار اور خود اپنے ملک کے اندر کی صورتحال نظر ہی نہیں آ رہی۔سب سے پہلی اور بنیادی حقیقت تو یہ ہے کہ اگر آج افغانستان کے عوام کو کھلا چھوڑ دیا جائے تو ان کی سب سے بڑی اور پہلی خواہش پاکستان پر حملہ کرنا یا کوئی انتقام لینا نہیں بلکہ کسی بھی طرح پاکستان کا ویزہ حاصل کرنا ہے۔

افغان عوام اس وقت جس شدید معاشی بدحالی، روزگار کی بندش اور سخت سماجی پابندیوں کے جہنم میں جی رہے ہیں، وہاں سے ہر دوسرا شخص ہجرت کا خواہش مند ہے۔ بھوکے پیٹ کوئی جنگ نہیں لڑی جاتی۔ کابل کے پاسپورٹ اور ویزہ دفاتر کے باہر لگی میلوں لمبی لائنیں اور پاکستان کی سرحدوں پر داخلے کے لیے تڑپتے افغان شہری اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ افغان عوام افغانستان میں رہنا ہی نہیں چاہتے۔ جو عوام اپنے بچوں کی روٹی کے لیے پاکستان کے محتاج ہوں، انہیں پاکستان پر حملے کا لالی پاپ دینا صرف اپنی ناکامیاں چھپانے کا سستا طریقہ ہے۔

جہاں تک رہی بات پاکستان میں افغان طالبان کے "حامیوں اور ہمدردوں” کی تو ذبیح اللہ مجاہد صاحب کو چاہیے کہ وہ ذرا ہمت کریں اور ان حامیوں کی برملا نشاندہی کریں۔ وہ جن چند چہروں کے سہارے یہ خوش فہمی پالے بیٹھے ہیں وہ خود سامنے آ کر بتا دیں گے کہ آج کے پاکستان میں ان کی حیثیت کیا ہے۔ ماضی کی باتیں قصہ پارینہ بن چکی ہیں۔ آج پاکستان میں بچہ بچہ اس تلخ حقیقت سے واقف ہو چکا ہے کہ افغان سر زمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

کالعدم ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کو کابل کی سرپرستی حاصل ہے اور سرحد پار سے ہونے والے حملوں میں ہمارے جوانوں اور شہریوں کا خون بہایا جا رہا ہے۔آج پورے پاکستان میں خواہ وہ عسکری قیادت ہو، سیاسی جماعتیں ہوں یا عام عوام، سب کا ایک ہی متفقہ بیانیہ ہے اور وہ یہ کہ "غیر قانونی افغانیوں کو پاکستان سے نکالا جائے اور پاکستان کی سلامتی کو نقصان پہنچانے والوں کو ان کی اپنی زبان میں منہ توڑ جواب دیا جائے”۔

اب پاکستان میں کسی کے لیے کوئی "نرم گوشہ” باقی نہیں بچا۔ذبیح اللہ مجاہد کا یہ کہنا کہ پاکستان میں کوئی مخصوص عسکری یا سیاسی حلقہ اپنی بقا کے لیے افغان سرزمین پر حملے کر رہا ہے، دراصل ایک روایتی دفاعی پوزیشن ہے جو ہر وہ حکومت لیتی ہے جس کے پاس اپنے اعمال کا کوئی جواب نہ ہو۔ جب آپ اپنی سر زمین پر پاکستان دشمن عناصر کو پناہ دیں گے تو پاکستان کو اپنی دفاعی خود مختاری اور شہریوں کے تحفظ کے لیے سرحد پار کارروائی کا پورا حق حاصل ہے۔ بین الاقوامی سیاست میں ایسے بیانات صرف "گھریلو استعمال” (Domestic Consumption) کے لیے ہوتے ہیں تاکہ افغان عوام کو یہ باور کرایا جا سکے کہ ان کی حکومت بہت طاقتور ہے اور پاکستان کو ڈرا کر رکھ سکتی ہے لیکن دنیا جانتی ہے کہ سچائی کیا ہے۔

کابل کے حکمران جتنی جلدی اس سراب کی زندگی سے باہر نکلیں اور حقیقت پسندی کا مظاہرہ کریں خود ان کے اور خطے کے امن کے لیے اتنا ہی بہتر ہوگا۔ ورنہ تاریخ گواہ ہے کہ جو حکومتیں اپنے عوام کو سچ بتانے کے بجائے چونا لگانے پر اقتدار چلاتی ہیں، ان کا انجام کبھی اچھا نہیں ہوتا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button