
دنیا بدلنے کے لیے ہمیشہ بڑے انقلاب، عظیم رہنما یا اربوں روپے کے منصوبے ضروری نہیں ہوتے۔ بعض اوقات ایک چھوٹا سا سہارا، ایک مخلصانہ ہاتھ، ایک سچا لفظ اور ایک انسان کا دوسرے انسان کے ساتھ کھڑا ہو جانا، وہ کام کر جاتا ہے جو بڑی بڑی طاقتیں بھی نہیں کر پاتیں۔۔۔
ذرا تصور کیجیے۔۔۔اگر اس دنیا کا ہر شخص صرف ایک ایسے انسان کا سہارا بن جائے جو زندگی کی جنگ ہارنے کے قریب ہو۔۔۔ اگر ہر خوشحال شخص صرف ایک ضرورت مند کا ہاتھ تھام لے۔۔۔ اگر ہر استاد صرف ایک ایسے طالب علم کی رہنمائی کر دے جو وسائل کی کمی کے باعث اپنے خواب دفن کرنے پر مجبور ہو۔۔۔اگر ہر صاحبِ اختیار صرف ایک بے بس انسان کے لیے آسانی پیدا کر دے۔۔۔تو شاید اس دنیا میں دکھ تو رہیں، مگر بے سہارا لوگ نہ رہیں۔۔۔ہم اکثر یہ سوچ کر خاموش رہ جاتے ہیں کہ ہم اکیلے پوری دنیا کا کیا بدل سکتے ہیں۔۔۔؟
حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ہم سے کبھی پوری دنیا بدلنے کا مطالبہ نہیں کیا گیا، ہم سے صرف اتنا پوچھا جائے گا کہ ہمارے حصے میں جو ایک انسان آیا تھا، کیا ہم اس کے لیے آسانی بنے تھے یا مشکل۔۔۔؟زندگی میں ہر انسان کسی نہ کسی محاذ پر لڑ رہا ہے۔ کوئی معاشی مسائل کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے، کوئی بیماری سے نبرد آزما ہے، کوئی بے روزگاری سے ٹوٹ رہا ہے، کوئی تنہائی کے اندھیروں میں گم ہے، اور کوئی اپنے ہی خوابوں کی شکست پر خاموش آنسو بہا رہا ہے۔ ایسے میں اکثر لوگوں کو کسی معجزے کی ضرورت نہیں ہوتی، انہیں صرف ایک ایسے انسان کی ضرورت ہوتی ہے جو انہیں یہ احساس دلا دے کہ ’’ تم اکیلے نہیں ہو، میں تمہارے ساتھ ہوں ‘‘۔۔۔

ہم نے مدد کو ہمیشہ دولت سے جوڑ دیا ہے، حالانکہ دنیا کی بہت سی تکلیفیں ایسی ہیں جن کا علاج پیسہ نہیں، بلکہ انسان ہے۔ کبھی کسی کی بات پوری توجہ سے سن لینا بھی صدقہ بن جاتا ہے۔ کبھی کسی کے کندھے پر حوصلے کا ہاتھ رکھ دینا، کسی مایوس شخص کو ایک امید بھرا جملہ کہہ دینا، کسی طالب علم کی رہنمائی کر دینا، کسی بزرگ کی عزت کر دینا یا کسی یتیم کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیر دینا۔۔۔یہ وہ نیکیاں ہیں جن کا اثر برسوں تک انسانوں کے دلوں میں زندہ رہتا ہے۔سوچیے۔۔۔!!
اگر ہر شخص صرف ایک انسان کی زندگی میں آسانی پیدا کرنے کا عہد کر لے تو یہ نیکی آگے بڑھتی چلی جائے گی۔،آج آپ کسی ایک کا سہارا بنیں گے، کل وہ کسی دوسرے کا ہاتھ تھام لے گا، اور پھر وہ تیسرا کسی اور کے لیے روشنی بن جائے گا، یوں امید کی ایک ایسی زنجیر وجود میں آئے گی جس کی ہر کڑی ایک نئے انسان کو زندگی سے جوڑتی چلی جائے گی۔۔۔
اسلام نے صرف عبادت گزار انسان نہیں، بلکہ دوسروں کے کام آنے والا انسان پیدا کرنے کی تعلیم دی ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ کی پوری زندگی اس بات کی روشن مثال ہے کہ آپ ﷺ جہاں بھی گئے، لوگوں کے لیے رحمت، آسانی اور سہارا بن کر گئے۔ کسی کے کندھے سے بوجھ ہٹانا، کسی کی پریشانی کم کرنا، کسی کے چہرے پر مسکراہٹ لانا، کسی مجبور کی مدد کرنا۔۔۔ یہ سب ایسے اعمال ہیں جنہیں دین نے عظیم نیکی قرار دیا ہے۔
افسوس یہ ہے کہ آج ہم نے نیکی کو صرف چند مخصوص عبادات تک محدود کر دیا ہے، جبکہ ایک ٹوٹے ہوئے دل کو جوڑ دینا، ایک مایوس انسان میں جینے کی امید جگا دینا اور کسی گرتے ہوئے شخص کو سنبھال لینا بھی اللہ تعالیٰ کے نزدیک بے حد قیمتی عمل ہے۔ ممکن ہے آپ کے چند الفاظ کسی انسان کو خودکشی کے خیال سے واپس لے آئیں، آپ کا ایک چھوٹا سا تعاون کسی بچے کی تعلیم بچا لے، یا آپ کی ایک سفارش کسی بے روزگار کے گھر کا چولہا جلا دے۔ ہمیں کبھی معلوم نہیں ہوتا کہ ہماری کون سی چھوٹی سی نیکی، کسی دوسرے کی پوری زندگی کا رخ بدل دے۔
اس لیے زندگی کو صرف اپنی کامیابیوں تک محدود نہ کیجیے۔ یہ ضرور سوچیے کہ آپ کے وجود سے کتنے لوگوں کو سہارا ملا، کتنے لوگوں کی آنکھوں میں امید لوٹی، اور کتنے دلوں نے آپ کے سبب اللہ کا شکر ادا کیا۔ انسان کی اصل عظمت صرف اس میں نہیں کہ وہ کتنا بلند مقام حاصل کرتا ہے، بلکہ اس میں بھی ہے کہ اس کے بلند ہونے سے کتنے لوگ گرنے سے بچ جاتے ہیں۔ ۔۔
ذرا ایک لمحے کے لیے تصور کیجیے۔۔۔اگر پاکستان میں رہنے والے پچیس کروڑ افراد میں سے ہر شخص صرف ایک انسان کا سہارا بن جائے تو کتنے یتیم تنہا نہیں رہیں گے، کتنے بیمار بروقت علاج تک پہنچ جائیں گے، کتنے نوجوان مایوسی سے نکل کر اپنے خوابوں کی طرف لوٹ آئیں گے، کتنے گھروں کے بجھے ہوئے چراغ دوبارہ روشن ہو جائیں گے۔۔۔ اور کتنی آنکھوں میں امید کے دیے جل اٹھیں گے۔ شاید دنیا سے ہر دکھ ختم نہ ہو، مگر بے بسی ضرور بہت کم ہو جائے،ہم اکثر اس انتظار میں رہتے ہیں کہ کوئی بڑا آدمی آئے گا، کوئی ادارہ آئے گا، کوئی حکومت آئے گی اور ہمارے معاشرے کو بدل دے گی۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ معاشرے عمارتوں سے نہیں، انسانوں سے بنتے ہیں، اور انسان اس وقت خوبصورت بنتے ہیں جب وہ صرف اپنے لیے نہیں، دوسروں کے لیے بھی جینا سیکھ لیتے ہیں۔۔۔۔
آج اپنے آپ سے صرف ایک سوال پوچھیے۔۔۔ کیا میری زندگی میں کوئی ایک ایسا انسان ہے جس کا میں سہارا بن سکتا ہوں۔۔۔۔؟اگر اس سوال کا جواب ’’ ہاں ‘‘ ہے تو پھر دیر کس بات کی۔۔۔؟ شاید اللہ تعالیٰ نے آپ کو اسی مقصد کے لیے کسی کی زندگی میں بھیجا ہو۔ ہوسکتا ہے آپ کا دیا ہوا ایک سہارا، کسی کی پوری تقدیر بدل دے، اور قیامت کے دن وہی ایک عمل آپ کے لیے نجات کا سبب بن جائے۔۔۔ دنیا کو ایک ہیرو کی ضرورت نہیں،دنیا کو ایسے انسانوں کی ضرورت ہے جو کسی ایک انسان کے لیے امید بن جائیں۔۔۔ اور یاد رکھیے، اگر ہر شخص صرف ایک انسان کا سہارا بن جائے، تو شاید کسی کو بھی بے سہارا نہ رہنا پڑے۔



