پاکستانتازہ ترینعلاقائی خبریں

پٹرولیم لیوی،جماعت اسلامی کا پنجاب میں وزیراعلیٰ ،3صوبوں میں گورنرہائوسزکے باہردھرنا

عوام سے بھتہ لیوی کی مد میں 700 ارب  کا ٹیکس وصول ،جنریشن زی آپ کو بتائیں گے جدوجہد کس کو کہتے ہیں:حافظ نعیم و دیگر کےخطاب

لاہور،کراچی،پشاور،کوئٹہ:(ویب ڈیسک) جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن کی اپیل پر خیبر پختونخوا، سندھ اور بلوچستان کے گورنر ہاؤسز جبکہ پنجاب میں وزیراعلیٰ ہاؤس کے باہر احتجاجی دھرنے دئیے گئے ۔
 لاہور میں وزیراعلیٰ ہاؤس کے باہر ہونے والے احتجاجی دھرنے میں لاہور سمیت وسطی پنجاب کے تمام اضلاع سے جماعت اسلامی کے کارکنان اور عوام کی بڑی تعداد شر یک ہوئی،دھرنے میں کسانوں، مزدوروں، طلبہ، تاجروں، دیہاڑی دار مزدوروں، نوجوانوں اور مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے شہریوں کی بڑی تعدادنے ہاتھوں میں بینرز، کتبے اور بینافلیکسز اٹھا رکھے تھے جن پر مہنگائی، بے روزگاری، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے، بھتہ خوری، ظالمانہ ٹیکسوں، بھاری لیوی اور عوام پر عائد کیے جانے والے دیگر مالی بوجھ کے خلاف نعرے درج تھے۔
شرکا ء نے حکومتی پالیسیوں کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ عوام کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے۔ لاہور میں وزیر اعلی ہائوس کے سامنے ہونے والے احتجاجی دھرنے میں جماعت اسلامی کے مرکزی، صوبائی، ضلعی اور مقامی قائدین بھی موجود ہیں۔ اس موقع پر قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان نذیر احمد جنجوعہ،اسامہ رضی،اظہر اقبال حسن،شیخ عثمان فاروق، جاوید قصوری، ڈاکٹر بابر رشید، ضیاء الدین انصاری، نصراﷲ گورائیہ،ذکر اﷲ مجاہد، رانا تحفہ دستگیر، رانا عبد الوحید،اظہر بلال، مظہر اقبال رندھاوا، چوہدری شوکت،ناصر محمود کلیر، راشد محمود، سردار نور محمد ڈوگر،باسم سعید،عمران الحق سمیت دیگر رہنما اور ذمہ داران شریک تھے۔
 دھرنے کے شرکا ء سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے رہنماؤں نے کہا کہ ملک کے عام شہری کو مہنگائی، بے روزگاری، بھاری بجلی و پٹرول کے بلوں، نئے ٹیکسوں اور روزمرہ اشیائے ضروریہ کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ عوام پر مزید بوجھ ڈالنے کے بجائے اشرافیہ کی مراعات اور غیر ضروری اخراجات میں کمی کرے اور عام آدمی کو حقیقی ریلیف فراہم کرے۔
 جب تک امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نہیں کہیں گے ہم یہاں سے اٹھنے والے نہیں حکومت کو عوام کے مطالبات ماننے ہوں گے۔امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے شرکا ء سے خطاب کرتے ہوئے کہا  کہ جماعت اسلامی پورے پاکستان کے لوگوں کی ترجمان ہے۔ گورنر ہائوس کراچی میں بہت بڑی تعداد میں لوگ موجود ہیں،پشاور میں بھی تاریخی دھرنا ہوا ،لیاقت بلوچ خیبرپختونخوا ہ کے عوام سے اظہار یکجہتی کے لیے موجود ہیں۔
 پاکستان کے لوگ ایک اذیت سے دوچار ہیں۔ لوگوں کے لیے دو وقت کی روٹی بھی مشکل ہو گئی ہے۔ حکمران صرف پٹرول کی قیمتیں ہی نہیں بڑھاتے بلکہ ٹیکسوں میں بھی اضافہ کر دیتے ہیں۔ شہباز شریف  جوروزانہ اپ پٹرول بم گراتے ہیں یہ بہت بڑا ظلم ہے۔ انہوں نے کہا  مسلم لیگ(ن) کی حکومت وفاق میں بھی موجود ہے اور صوبے میں بھی ہے اس لیے آج وزیراعلی ہاؤس کے باہر ہم نے دھرنے کا اعلان کیا ہے۔
بھتہ خوری زبردستی کا جگا ٹیکس ہے جو حکومت لوگوں سے وصول کر رہی ہے۔ جاگیردار اپنے انکم سے ٹیکس ادا نہیں کرتے اور لوگوں سے بھتہ وصول کر رہے ہیں یہ ظلم و زیادتی اور استحصال کا نظام نہیں چلے گا۔یہ ظالم حکمران عوام کا، کاشتکار کا، مزدور کا خون چوستے ہیں۔ یہ کرپٹ ٹولہ ہے جو ہم پر مسلط ہے جو خود ٹیکس ادا نہیں کرتا۔
ان سب نے سب نے مل کر 12 ارب روپے کا انکم ٹیکس ادا کیا ہے جبکہ غریب عوام سے بھتہ لیوی کی مد میں 700 ارب روپے کا ٹیکس وصول کیا گیا ہے۔ ملک میں طبقاتی نظام اب نہیں چلے گا۔ ہماری جدوجہد کسی شخص کے خلاف نہیں ہے۔یہ عوام کے لیے ہے یہ عدل کے لیے ہے یہ انصاف کے لیے ہے۔انہوں نے شرکا ء سے سوال کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا آپ اس جدوجہد میں بڑی قربانیاں دینے کے لیے تیار ہیں۔ یہ دھرنا جاری رہے گا جب تک حکومت پیچھے نہیں ہٹے گی۔
تمام سیاسی جماعتوں کے کارکنان بھی ہماری اس جدوجہد میں شریک ہوں۔ یہ ہماری تحریک کسی پارٹی کے خلاف نہیں بلکہ حکومت کے خلاف ہے اور حکومت کو اس کے نتیجے میں پیچھے دھکیلنے کے لیے کامیاب ہوں گے۔ اگر اپ مسئلے کو حل کرنا چاہتے ہیں تو یہاں دھرنے کی جگہ پر تشریف لائیں آپ کے قائم کردہ کمیٹی سے ہمیں کوئی امید نہیں ۔
شہباز شریف صاحب آپ کی کمیٹی آپ کو مبارک۔ جس کو آنا ہے یہاں آئے اور ہم سے بات کرے۔ پٹرول کی قیمت کم کرے ورنہ یہ جو دھرنا ہے یہاں موجود ہے۔ جنریشن زی آپ کو بتائیں گے کہ جدوجہد کس کو کہتے ہیں۔یہ فارم 47 کا سسٹم ہے لوگوں کا پسندیدہ سسٹم نہیں ہے۔ انہوں نے کہا  نظام کی تبدیلی کی جدوجہد کرنی ہے۔ حکومتی کمیٹی کو ہم مسترد کرتے ہیں کمیٹی بنانی ہے تو دھرنے والوں سے بات کریں۔ آپ کی کمیٹی کو ہم مسترد کرتے ہیں۔
قبل ازیں قائمقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان نذیر احمد جنجوعہ نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوام مہنگائی، بے روزگاری، بھاری ٹیکسوں، پٹرولیم مصنوعات کی ہوشربا قیمتوں اور دیگر ظالمانہ حکومتی اقدامات کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ عام آدمی کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول مشکل بنا دیا گیا ہے، جبکہ حکمرانوں کی پالیسیوں نے عوام کی مشکلات میں کمی کے بجائے مسلسل اضافہ کیا ہے۔
 حکومت کو عوام پر مزید معاشی بوجھ ڈالنے کے بجائے فوری طور پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی، غیر ضروری لیویز اور ظالمانہ ٹیکسوں کے خاتمے سمیت عوام کو حقیقی ریلیف دینا ہوگا۔ ظلم و زیادتی پر مبنی معاشی پالیسیاں کسی صورت قابل قبول نہیں۔ جماعت اسلامی عوام کے حقوق کے لیے میدان میں موجود ہے اور پرامن احتجاج کے ذریعے حکمرانوں کو ان کی ذمہ داری کا احساس دلایا جا رہا ہے۔ اگر حکومت نے عوام کے مطالبات تسلیم کرتے ہوئے فوری ریلیف فراہم نہ کیا اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سمیت دیگر بنیادی مسائل حل کرنے کی طرف عملی پیش رفت نہ کی تو جماعت اسلامی احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کرے گی۔
جماعت اسلامی کا احتجاج کسی فرد یا ادارے کے خلاف نہیں بلکہ عوام کو درپیش حقیقی مسائل کے حل کے لیے ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ حکومت طاقت یا اوچھے ہتھکنڈوں کے بجائے عوام کی آواز سنے اور مذاکرات و جمہوری طریقے سے مسائل کا حل نکالے۔  امیر جماعت اسلامی پنجاب جاوید قصوری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو ریلیف دینا حکومت کی ذمہ داری ہے اور اس ذمہ داری سے فرار کسی صورت قابل قبول نہیں ہوگا۔
 پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ عوام کی مشکلات میں مزید اضافے کا باعث بن رہا ہے۔ پٹرول پر مختلف لیویز، ٹیکسز اور دیگر چارجز عوام کی قوت خرید کو متاثر کر رہے ہیں۔ اسی طرح بھتہ خوری اور غیر قانونی وصولیوں نے کاروباری طبقے اور عام شہریوں کے لیے مشکلات پیدا کر رکھی ہیں۔ حکومت کو ان مسائل کے خاتمے کے لیے محض اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ عوامی مسائل کے حل کے لیے شروع کیا جانے والا یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن ہے۔
ضیا ء الدین انصاری نے حکومتی اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی آئینی اور جمہوری طریقے سے عوام کی آواز حکمرانوں تک پہنچا رہی ہے۔ انہوں نے حکومت کو خبردار کیا کہ کسی بھی قسم کے اوچھے ہتھکنڈوں یا طاقت کے استعمال سے گریز کیا جائے، کیونکہ عوام اپنے بنیادی حقوق اور معاشی مسائل کے حل کے لیے پرامن طور پر اپنا احتجاج ریکارڈ کرا رہے ہیں۔
ڈاکٹر بابر رشید نے اپنے خطاب میں کہا کہ جب تک حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی، غیر ضروری لیویز اور ظالمانہ ٹیکسوں کے خاتمے، بھتہ خوری کے سدباب اور عوام کو حقیقی معاشی ریلیف فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات نہیں کرتی، احتجاجی دھرنا جاری رہے گا۔ یہ محض جماعت اسلامی کے کارکنوں کا احتجاج نہیں بلکہ مہنگائی اور معاشی مشکلات سے متاثرہ عوام کی آواز ہے۔
Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button