لاہور (بیورو چیف/سید ظہیر نقوی) وزیر داخلہ محسن نقوی نے پاسپورٹ آفس گارڈن ٹاؤن کا اچانک دورہ کیا، جہاں پاسپورٹ بنوانے کے لیے آنے والے شہریوں کی لمبی قطاریں اور کئی گھنٹوں کے انتظار پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔ دورے کے دوران متعدد کاؤنٹر خالی پائے گئے جبکہ متعلقہ عملہ بھی موجود نہیں تھا۔
پاسپورٹ آفس میں موجود شہریوں نے وزیر داخلہ محسن نقوی کے سامنے شکایات کے انبار لگا دیے۔ شہریوں کا کہنا تھا کہ وہ صبح سے پاسپورٹ آفس میں موجود ہیں لیکن چار گھنٹے گزرنے کے باوجود ان کی باری نہیں آئی۔
بعض شہریوں نے پاسپورٹ آفس کے باہر مبینہ ایجنٹ مافیا کی موجودگی کی شکایت بھی کی۔ شہریوں نے الزام عائد کیا کہ بعض ایجنٹ جلد کام کرانے کے لیے رقم طلب کر رہے ہیں۔ ایک شہری نے وزیر داخلہ کو بتایا کہ اس نے ایک ایجنٹ کو 5 ہزار 500 روپے دیے ہیں۔
ایک بزرگ شہری نے شکایت کرتے ہوئے بتایا کہ اسے آج پاسپورٹ ملنا تھا، تاہم عملے کی جانب سے کہا گیا کہ اس کا پاسپورٹ ابھی پرنٹ نہیں ہوا۔
پاسپورٹ آفس انچارج کو عہدے سے ہٹانے کا حکم
پاسپورٹ آفس کی صورتحال دیکھ کر وزیر داخلہ محسن نقوی نے شدید برہمی کا اظہار کیا اور بدنظمی و فرائض میں غفلت پر انچارج پاسپورٹ آفس، ڈپٹی ڈائریکٹر شہزاد اسلم کو عہدے سے ہٹانے کا حکم دے دیا۔
محسن نقوی نے پاسپورٹ آفس کے باہر مبینہ ایجنٹ مافیا کی موجودگی پر ڈپٹی ڈائریکٹر اینٹی کرپشن ایف آئی اے لاہور کو بھی عہدے سے ہٹانے کی ہدایت کی۔
شہریوں کی شکایات کا موقع پر ازالہ
وزیر داخلہ نے شہریوں کی شکایات کے فوری ازالے کے لیے موقع پر ہی متعلقہ حکام کو احکامات جاری کیے۔ انہوں نے پاسپورٹ آفس میں موجود شہریوں سے ذاتی طور پر معذرت بھی کی اور یقین دہانی کرائی کہ ان کی مشکلات کے حل کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں گے۔
محسن نقوی نے کہا کہ پاسپورٹ آفس کی صورتحال انتہائی افسوسناک ہے، شہریوں کے ساتھ اس طرح کا سلوک کسی صورت قابل قبول نہیں۔ شہری کئی کئی گھنٹے انتظار کریں اور کاؤنٹر خالی ہوں، یہ صورتحال ناقابل برداشت ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاسپورٹ آفس میں شہریوں کو تیز رفتار اور بہتر خدمات کی فراہمی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ کسی بھی قسم کی کوتاہی یا غفلت پر بلاامتیاز تادیبی کارروائی کی جائے گی۔
وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ شہریوں کو سہولیات فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری بھی ہے اور فرض بھی، اس معاملے میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔



