کرم:(ویب ڈیسک)خیبر پختونخوا کے ضلع کرم ایجنسی کے علاقے لوئر کرم میں پولیس، ایف سی پر حملے اور گاڑی پر فائرنگ کے نتیجے میں ڈپٹی کمشنر جاوید اللہ محسود، ایف سی اور پولیس کے 2 اہلکار اور 3 راہ گیر زخمی ہوگئے۔
40تا50امن دشمنوں نے وار کیا ،کے پی حکومت اور صدرآصف علی زرداری،وزیر اعظم شہبازشریف دیگر سیاسی قیادت نے واقعہ کی مذمت کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق لوئر کرم میں نا معلوم ملزمان کی جانب سے پولیس اور ایف سی پر حملہ کیا گیا ، علاقے میں سڑکیں بحال کروانے کے لیے جانے والے ضلعی انتظامیہ کے سربراہ ڈپٹی کمشنر جاوید اللہ محسود بھی زخمی ہوگئے، جنہیں تحصیل علی زئی ہسپتال سے سی ایم ایچ منتقل کر دیا گیا۔
واقعے کے بعد بگن کے علاقے میں مزید نفری طلب کرکے علاقے کا محاصرہ کرلیا گیا ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ڈپٹی کمشنر امدادی سامان لانے والے ٹرکوں کے قافلے کے لیے راستے کلیئر کرانے بگن گئے تھے۔
دو روز قبل ہی خیبر پختونخوا کی حکومت اور مقامی قبائلی عمائدین کی کوششوں سے فریقین میں امن معاہدہ ہوا تھا، جس کے بعد آج بروزہفتہ صبح صوبائی حکومت نے 75 ٹرکوں میں امدادی سامان کرم کے لیے روانہ کیا تھا، ڈپٹی کمشنر اسی امدادی سامان کے قافلے کے لیے سڑک بروزیں بحال کروانے گئے اور خود فائرنگ کا نشانہ بن گئے۔
خیبر پختونخوا حکومت کے مشیر بیرسٹر سیف نے کہا ہے کہ کرم کے لیے امدادی سامان لے کر جانے والا 75 ٹرکوں کا قافلہ ٹل کے قریب روک دیا گیا ہے، جبکہ ٹل اسکاؤٹس کے رضاکار وہاں موجود ہیں، قافلہ جلد دوبارہ کرم کے لیے روانہ ہوگا۔
صوبائی مشیر نے کہا کہ کرم کے حالات مکمل طور پر قابو میں ہیں، سیکورٹی اہلکاروں نے حالات کنٹرول کر رکھے ہیں، حملہ نامعلوم شرپسندوں کی مذموم سازش ہیں، دونوں فریقین سے پرامن رہنے اور سازش کی زد میں نہ آنے کی اپیل کی ہے۔
لوئر کُرم میں ڈپٹی کمشنر کے قافلے پر حملے سے متعلق تحقیقاتی اداروں نے ابتدائی رپورٹ مرتب کرلی گئی ہے ۔
ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 40 سے 50 مسلح شرپسندوں نے فائرنگ کی۔
ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امن معاہدے کے تحت ادویات اور کھانے پینے کا سامان، سبزیاں اور پھل سمیت دیگر اشیا سے لدے 75 ٹرکوں کا قافلہ کرم کے لیے روانہ ہونا تھا۔



