مشہور امریکی مصنف اور مزاح نگار مارک ٹوین کا قول ہے۔۔۔!!
’’سیاست واحد شعبہ ہے جہاں آپ جھوٹ بول سکتے ہیں، دھوکہ دے سکتے اور چوری کر سکتے ہیں ، مگر پھر بھی آپ قابل احترام ہیں ‘‘۔۔۔
اس سے پہلے روسی ناول نگار ٹالسٹائی کی ایک تحریر لکھوں۔۔۔۔ پہلے۔۔۔رجیم چینج کے بعد مسلط کی گئی حکومت اور اس کے بعد اسی حکومت کے پارٹ ٹو کے دعوے اور اصل حقائق کے چند ایک ’’کارنامے‘‘ پڑھ لیں۔۔۔
سندھ میں پیپلز پارٹی کی مسلسل حکومت چل رہی،اس دوران تصدیق شدہ شدہ سرکاری دستاویزات کے مطابق 41ہزار ایکڑ سرکاری زمین کی غیر قانونی الاٹمنٹ اور ریگولرائزیشن کی گئی ہے، جس سے دو ہزار ارب روپے کی لوٹ مار کی گئی ہے۔۔۔ یہ لوٹ مار سیاستدانوں، سرکاری افسران، اور لینڈ مافیا کے گٹھ جوڑ نے کی ہے۔ یہ لوٹ مار سپریم کورٹ کی پابندی کے باوجود جاری رہی، جس نے سرکاری زمینوں کی الاٹمنٹ اور ریونیو ریکارڈ میں نئی انٹریز پر پابندی عائد کی تھی۔۔۔۔یہ بلاول،زرداری حکومت کا صرف ایک کارنامہ ہے۔ پنجاب گورنمنٹ کی طرف آئیں،مریم نوازنے حکومت کا آغاز ہی 10کروڑ کے سکینڈل سے شروع کیا تھا،جس میں ڈی جی پی آر کو قربان کردیا گیا تھا۔اسکی تفصیل پہلے لکھ چکا ہوں، وہ13لاکھ ٹن کیڑوں والی گندم جو جودرآمد کی گئی تھی اسکی تحقیقاتی رپورٹ نہ جانے کہاں گم ہوگئی ،محترمہ نے55ارب35کروڑ کے بجٹ سے9ایسے منصوبے شروع کئے ہیں،جو نواز شریف کے نام سے منسوب ہیں،محترمہ نے اپنے میڈیا سیل کے 19نام نہاد صحافیوں کو مختلف محکموں میں لاکھوں روپے تنخواہ پر ایڈجسٹ کروایا۔۔۔ جس اراضی کی وجہ سے علیم خان نے عمران خان کو چھوڑ دیا تھا، وہی 11ہزارکنال متنازع زمین انہیں فراہم کی گئی،سنا ہی علیم خان نے پورا راوی سٹی ہی مانگ لیا ہے،دعویٰ کیا ہے وہ سرکاری ادارے سے بہتر اس شہر کو تعمیر کرسکتے ہیں،ممکن ہے انہیں مل جائے،ان کے پاس وہی نسخہ ہے جو ملک ریاض کے پاس ہے،بڑے اور چھوٹے بھائیوں کا حصہ۔یہ تو آپکو یاد ہی ہوگا محترمہ کی گاڑی کے ٹائر بدلنے کیلئے پونے تین کروڑروپے خرچ آیا تھا، اوربزدار والے دفتر میں بیٹھنا توہین سمجھا تھا ،اس کی جگہ نیا دفتر تعمیر کروانے میں بھی کروڑوں روپے خرچ آئے تھے۔۔۔۔اسپیکر پنجاب اسمبلی کیلئے 10 کروڑ کی لینڈ کروزر، ڈپٹی اسپیکر اور سیکرٹری اسمبلی کیلئے سوا 2 کروڑ کی فورچیونرز، اور سیکیورٹی کیلئے 2 ویگو ڈالے کا ذکر کیا کرنا اور دوسرا پنجاب اسمبلی کے ارکان کی تنخواہوں میں 900فیصد اضافے کو بھی چھوڑو۔۔۔بہرحال محترمہ نے پنجاب کو1675.4 ارب کا مقروض کردیا ہے۔۔۔چھوٹے میاں صاحب کی طرف آئیں، جنہوں نے گزشتہ روز اعلان کیا مہنگائی سات سال کی کم ترین سطح پر آگئی ہے۔۔۔سبحان اللہ۔۔۔ پیٹرول 149 روپے سے کم ہو کر 253 روپے ہوگیا ہے، چینی80 سے کم ہوکر140ہوگئی، بجلی کی قیمت 16 روپے یونٹ سے کم ہو کر 68 روپے ہوگئی ہے، ڈالر 170 روپے سے کم ہو کر 278 روپے ہوگیا ہے۔۔۔گیس کی قیمتیں بھی 600فیصد کم ہوگئی ہیں،آٹے کی قیمت141فیصد،گھی 100فیصد، اور دالوں کی قیمتیں90فیصد کم ہوئی ہیں۔۔۔چلو چھوڑو۔۔۔میاں صاحب !! شاید آپکوآپکی ہونہار ٹیم نے یہ نہیں بتایا جب آپ آئے تھے گروتھ ریٹ6.1 فیصد تھا،اب گروتھ ریٹ0.92 فیصد ہے۔۔۔ اورمیاں صاحب جو آپ نے سب سے بڑی ترقی کی ہے وہ یہ ہے پاکستان میں مینو فیکچرنگ منفی پر چلی گئی ہے۔۔۔۔ اور حکومتی اداروں نے اس سال صرف 5.9کھرب کا نقصان کیا ہے۔۔انکی اپنی عیاشیاں الگ ہیں۔۔۔میاں صاحب ! آپ کی وزیر ابھی تک نہی بتا سکی کہ پاکستان کی انٹرنیٹ کی کیبل کے پیچھے شارک کیوں پڑی ہوئی ہے؟؟۔۔۔۔ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) ابھی تک پاکستان میں ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری نہیں لا سکی ہے۔۔۔صرف اور صرف کچھ ممالک نے دل رکھنے کیلئے صرف وعدے ہی کئے ہیں۔سرمایہ کاری کسی نے کیا کرنی،جن ممالک کو سرمایہ کاری کا کہہ رہے ان سے تو اپنے قرضے ری شیڈول کرا رہے ہیں۔ الٹا صرف انٹرنیٹ کی بندش سے چند ماہ میں ایک ارب 62کروڑ ڈالر کا نقصان کرلیا گیا۔۔۔اہم ترین، شہباز حکومت نے نئی نوکریاں دینے کے بجائے وفاقی حکومت کی ڈیڑھ لاکھ سرکاری نوکریاں ختم کردی ہیں۔ اس کے برعکس وفاقی وزرا کی تعداد بڑھائی جارہی ہے،میڈیا کواربوں روپے کے اشتہار جاری ہورہے ہیں، جہاں بلے بلے ہورہی،مہنگائی کم ہونے کی رپورٹس جاری ہورہیں،سادھا الفاظ میں،سستی اشیا ٹی وی چینلز پر دستیاب ہیں۔
یہ ابھی میں نے معمولی معمولی’’ کارناموں ‘‘ کا ذکر کیا ہے، جس دن بڑے کارنامے بتائے آپ سکتے میں آجائیں گے۔۔۔ظاہر ہے ایک دن بتانے ہی پڑیں گے،کہاں رک سکتا ہوں۔۔۔
روسی ناول نگار ٹالسٹائی کہتے ہیں۔۔۔!
اگر کسی رات اچانک کوئی ایسی وبائے خاص پھیلے کہ جس کے سبب سے دنیا بھر کے تمام بادشاہ ، نواب ، مہاراجے ، راجے ،رئیس،جاگیردار، سیٹھ ، ساہوکار، اُمراء ،سرمایہ دار، وکیل ،بیرسٹر وغیرہ سب مرجائیں تو نظام عالم میں ذرہ بھر فرق نہ پڑے۔۔
لیکن۔۔۔
اگراس قسم کی وبا کےشکارسے کسان،جولاہے،لوہار،بڑھئی،دھوبی،درزی،معمار،تیلی،نائی،چمار، بھنگی ، گولے، گدیڑیے، کوچوان، قلًی،مزدو،گاڑیبان اور ڈرائیوروغیرہ شکارہوجائیں تو یہ دنیا کسی کام کی نہ رہے اور بہت بڑا دوزخ بن جائے۔۔۔
کاش پاکستان میں کوئی ایسی وبا آئے،جس سے ملکی نظام کو ذرا بھی فرق نہ پڑے۔
نوٹ:سی این این اردوڈاٹ کام کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔



