انٹر نیشنلبلاگتازہ ترین

شیکسپیئر ، ڈنمارک کا قلعہ اور میر ی جہاں گردی

تحریروترتیب محمد عاصم(سویڈن)

جہاں گردی بھی عجب سودا ہے۔ فراغت کے وہ لمحات جو آپ گھر میں یا دوستوں کے ساتھ گزار سکتے ہیں ان میں یہ آپکو گھر اور دوستوں اور بسا اوقات سہولیات سے بھی دور ایسی جگہوں تک لے جاتی ہے جہاں صرف ایک متجسس روح کا گزر ہو سکتا ہے۔
اس تحریر میں جس جگہ کا ذکر کرنے جارہا ہوں وہ کسی دور افتادہ مقام پر نہیں ہے جہاں تک رسائی مشکل ہو،کرہ ارض کے جس خطے میں میں رہائش پزیر ہوں یہ دنیا کا انتہائی شمال ہے ۔

مرکزی شاہراہ سے سویڈن کے شہری ہیلسنگبرگ جانے کیلئے فیری تیار کھڑ ی ہے

اسکینڈینیویا، جس میں سویڈن، ڈنمارک اور ناروے شامل ہیں۔ یہ ممالک نہ صرف قدرتی لحاظ سے بہت خوبصورت ہیں بلکہ انفراسٹرکچر کے حوالے سے بھی دنیا کے بہترین خطوں میں شامل ہیں۔ سفری سہولیات کا ذکر کیا جائے تو کمیوٹر ٹرینز سے لے کر سمندر میں چلنے والی فیریز تک ہر قسم کی ٹرانسپورٹ ہر قسم کے مسافروں کو خطے کے ہر حصے تک لے جاتی ہیں۔ تو ایسے ہی ایک دن راقم الحروف نے سویڈن کے دارلحکومت سٹاک ہوم سے ٹرین کی ٹکٹ لی اور ملک کے جنوب میں واقع ایک بہت ہی خوبصورت شہر ہیلسنگبوری پہنچ گیا۔ ہیلسنگبوری کا سنڑل اسٹیشن بھی کیا کمال کی جگہ ہے۔ ایک تو یہ کہ اس اسٹیشن سے نہ صرف اندرون ملک سے بلکہ پڑوسی ڈنمارک سے بھی ٹرینیں آتی جاتی ہیں۔ قابل ذکر یہ بات ہے کہ ان سب اسکینڈینیوین ممالک کی سرحدیں کھلی ہیں۔ ہر ملک کے شہری آذادانہ کسی بھی ملک میں نہ صرف آ جا اور رہ سکتے ہیں بلکہ کام کاروبار بھی کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر مالمو جو سویڈن کا شہر ہے وہاں کے لوگ روزانہ صبح ڈنمارک کے شہر کوپن ہیگن اپنے کام پر جاتے ہیں۔ اورشام کو واپس مالمو سویڈن اپنے گھر آجاتے ہیں۔ درمیان میں سمندر پر صرف ایک پل ہے۔


ان ممالک جن میں ناروے اور فن لینڈ بھی شامل ہیں، سرحدوں پر کوئی باڑ نہیں، کوئی کنٹرول نہیں ہے حالانکہ ماضی میں ان علاقوں اور یہاں رہنے والے جنگجووں یعنی وائی کنگز کا شمار دنیا کے خونخوار ترین لوگوں میں ہوتا تھا۔ لیکن آج یہ سب ممالک نہ صرف ایک دوسے کے بہترین دوست ہیں۔ اتنے کہ اس پورے خطے کو ایک ہی ملک ہی کہا جا سکتا ہے۔ یہاں میں پاکستان اور انڈیا کا اسی تناظر میں ذکر نہیں کروں گا ورنہ بات کسی اور طرف نکل جائے گی لیکن بہرحال یہ خطہ دنیا کے لئے ایک اس حوالے سے بھی ایک مثال ہے۔
بالکل ایسی ہی صورت حال ہیلسنگبوری میں بھی ہے۔ اس شہر کے ساتھ بحیرہ بالٹک ہے جس کے دوسری طرف ڈنمارک کا ٹائون ہیلسنگور ہے۔ یعنی ہیلسنگبوری اور ھیلسنگور کے درمیان بہت کم چوڑی سمنری پٹی ہےجسے اورے سنڈ سٹریٹ کہتے ہیں جہاں سے جدید فیریز مسافروں کو ہر بیس منٹ میں لے کر دوسری طرف لے جاتی ہیں۔
ہیلسنگبوری سنٹرل اسٹیشن جسے ھیلسنگبوری سنٹرال بھی کہتے ہیں، اسکی ایک منفرد بات بھی ہے یہ صرف ایک ٹرین
جنکشن نہیں بلکہ یہییں سے آپکو ڈنمارک کے لئے فیریز بھی ملتی ہیں اور بہت سے ریستوران بھی ہیں جہاں سے کھانا بھی کھایا جا سکتا ہے۔ میں نے یہاں سے فیری(کشتی) کا ٹکٹ لیا اور تھوڑی دیر میں فیری جو ڈنمارک سے مسافروں اور سیاحوں کو لے کر آئی تھی اس میں سوار ہوگیا۔ فیری کیا تھی چھوٹا سا کروز شپ تھا۔ میری توقع کے بر خلاف اس میں ڈیوٹی فری شاپ تھی جس میں پرفیومز، چاکلیٹس، کاسمیٹکس اور الکوحل سمیت ہر چیز تھی۔ علاوہ ازیں کیفیز اور ریستوران بھی تھے ۔ میں نے ایک کافی کا ڈسپوزایبل کپ لیا اور عرشے پر چلا گیا۔ ابھی چونکہ فیری چلی نہیں تھی تو سردی قابل برداشت تھی۔ سمندر کی ہوا بہت تازگی کا تاثر دے رہی تھی۔ عرشے سے ایک طرف سویڈن کی سڑکوں پر ترتییب سے چلتی ٹریفک اور شہر کے ٹائون ہال کی گہری سرخ اور انتہائی خوبصورت عمارت نظر آرہی تھی جبکہ دوسری طرف ڈنمارک کی عمارتوں کی قطاریں۔ فیری چلی اور بیس منٹ میں میں ڈنمارک میں تھا۔ ڈنمارک میں بھی ٹرین اور فیری اسٹیشن اکٹھے ہی تھے۔ تو فیر سے اتر کر میں پل کے اوپر سے ٹرینز کو دیکھتا ہوا اسٹیشن سے باہر آ گیا،ڈنمارک کی سرزمین پر قدم رکھتے ہی ایک خوشگوار احساس نے مجھے گھیر لیا۔


قلعہ کے اندر پڑی توپیں نظر آرہی ہیں

گویا ایک مشن مکمل ہوا لو جی میں ایک نئے ملک میں ہوں اور اندر کے ابن بطوطہ کو مطمئن کروں گااسٹیشن سے باہر نکلتے ہی ڈنمارک کے مخصوص طرز تعمیر نے مجھے بتا دیا کہ میں اب سویڈن میں نہیں ہوں۔ ہیلسنگور کی گلیاں اور عمارتیں چھ صدیوں کے بعد بھی ایسے محفوظ ہیں جیسے کل تعمیر ہوئی ہوں۔ شہر کی گلیاں پیدل چلنے والوں کے لیے مخصوص ہیں اور درمیان میں چھوٹے چھوٹے سٹالز پر مقامی اشیاء فروخت کی جاتی ہیں
– قدیم شہر ایسے تعمیر کیا گیا ہے کہ اس میں تین بڑی گلیاں ہیں جو ایک دوسرے کے متوازی ایک کونے سے دوسرے کونے تک جاتی ہیں۔ ان کے درمیان چھوٹی گلیاں ہیں جو ان کے درمیان سے گذرتی ہیں۔ یوں یہ شہر ایک گرڈ کی صورت میں تعمیر کیا گیا ہے۔ یہ جگہ صرف پیدل چلنے والوں کے لیے مختص کی گئی ہے شہر کی گلیوں کے درمیان گھروں کے ساتھ دوکانیں بھی ہیں۔ میں ڈینش کے روایتی پنیر کی ایک دوکان پر رکا۔ وہاں کے روایتی پنیر دیکھنے کا موقع ملا۔ چونکہ چکھنا مفت ہے اسلیے ایک دو ٹائپ کے چیز چکھے اور ایک خرید لیا۔

شہر کا ماحول سٹاک ہوم کے قدیم شہر گیملا ستان جیسا ہے۔ شہر کے بیچ و بیچ ایک اسکوائر ہے جس کے چاروں طرف ریستوران اور بارز ہیں۔ جبکہ اسکوائر کے اندر لوگ مقامی شہد اور اسی طرح کی دوسری اشیا چھوٹے چھوٹھے سٹالز پر بیچ رہے تھے۔ انہیں دیکھنا بھی میرے لیے ایک دلچسپی کی بات ہے۔ شہر کی تقریبا سب گلیوں کا چکر لگا کر میں شہر کے سمندر کے ساتھ والے حصے جو کہ اسی سڑک کے ساتھ ساتھ ہے جس پر سنڑل اسٹیشن ہے پر آگیا۔ شہر میں ایک عمارت جو بہت ہی شاندار ہے جہاں بھی کھڑے ہوں وہاں سے نظر آتی ہے وہ ہے اس کا وہ قلعہ جسکا ذکر مشہور و معروف برطانوی ادیب شیکسپئیر نے اپنے شہرہ آفاق ناول ہیملٹ میں کیا ہے میں پہلے سے ہی اس قلعے کو دیکھنے کا مشتاق تھا اس قلعے کی خوبصورتی کو الفاظ میں بیان کرنا مشکل کام ہے۔

میں جیسے ہی قدیم شہر سے با ہر نکلا تو سڑک کراس کر کے سیدھا اس کی طرف چلا آیا۔ قلعے کو سویڈن اور ڈنمارک کے درمیان سمندری پٹی ‘اورے سُنڈ اسٹریٹ’ کے کنارے تعمیر کیا گیا ہے۔قلعے کی تعمیر یوں کی گئی ہے کہ اسکے دو باہری حصار ہیں۔ ہر حصار ایک فصیل اور اس سے منسلک ایک نہر کی صورت میں ہے۔ یعنی باہر سے داخل ہوں تو ایک نہر جو باہری فصیل کے ساتھ ساتھ چلتی ہے، پر سے گذر کر فصیل میں بنے دروازے سے اندر داخل ہوتے ہیں۔ دوسری فصیل تک درمیان کی جگہ پرانے وقتوں کی پختہ ٹائیلوں سے مزین کی گئی ہے۔دوسری فصیل کے اندر عمارتوں کی ایک قطار ہے جو اس وقت کے سپاہیوں، قلعے کے ملازمین اور اسی طرح کے دیگر لوگوں کے لئے بنائی گئی ہیں ایک سائیڈ پر فصیل کے ساتھ توپیں رکھی ہیں۔ پھر دوسری فصیل ہے جس سے گزر کر قلعہ کی مرکزی عمارت جہاں حکمران و عمال رہا کرتے تھے وہ دکھائی دیتی ہے- اس کے گرد بھی ایک نہر ہے جو اسکے تین اطراف سے گزر رہی ہے اور چوتھی طرف جیسا کی میں نے پہلے بیان کیا کی سمندر ہے۔ یوں دو فصیلیں اور دو نہریں اسکی حفاظت کے لئے بنائی گئی ہیں جب میں قلعہ میں داخل ہوا تو بایئں جانب نظر پڑی تو فصیل کے ساتھ ساتھ سرخ اور سیاہ رنگ کی توپوں پر پڑی جنکا رخ سمندری پٹی اور اسکے ساتھ والی خشکی کی اطراف ہے۔ جیسے ہی میں انکی طرف بڑھا تو ایسی آواز آنے لگی جیسے پرانے زمانے کی کوئی فوج پیش قدمی کر رہی ہے۔ اصل میں انتظامیہ نے توپوں کے ساتھ پرانے وقتوں کا ماحول پیدا کرنے کے لئے کسی جگہ چھپا کر سپیکرز لگا رکھے ہیں جو کہ واقعی ایک اچھا تاثر دے رہے تھے۔ توپیں اب تک بہت ہی اچھی حالت میں ہیں اور مجھ جیسے افراد جو چھوٹی چھوٹی ڈیٹیل مثلا دیوراں کی اینٹوں، پرانے چوباروں، دروازوں اور ٹا یلوں کو بھی بہت غور سے دیکھتے ہیں اور ان کے زریعے تخیل میں چند لمحات کے لئے اس دور میں پہنچ جاتے ہیں کے لیے یہ سب بہت اہمیت کا حامل تھا۔ یہاں سے دور تک سمندر کا بہت ہی دلکش نظارہ نظر آتا ہے۔ پاس ہی ایک مقامی ڈینش آدمی اپنے بچوں کے ساتھ توپوں کے ہمراہ تصویریں بنا رہا تھا۔ میں وہاں کچھ دیر گذارنے کے بعد قلعے کے مرکزی دروازے کی طرف چل پڑا۔ قلعہ کے اندر کی عمارت بہت عمدہ حالت میں ہے۔ جب میں قلعے کے اندرداخل ہوا تو یوں لگا جیسے وقت رک گیا ہو۔ قلعے کے تہہ خانوں میں داخل ہو کر مجھے وہاں کی تاریخ اور ان خفیہ رستوں کا تصور کرنے کا موقع ملا جہاں کبھی سپاھی گشت کرتے ہوں گے۔ جہاں قیدیوں کو رکھا جاتا تھا اور جنگ کے دنوں کے لئے اناج محفوظ کیا جاتا تھا۔
ہیلسنگور ڈنمارک کا چھوٹا سا شہر ہے لیکن جہاں گردوں کے لیے اس میں بہت کچھ ہے۔ یہ بہت دلچسپ بات ہے کہ بہت ہی چھوٹی سی سمندری پٹی کے دو اطراف دو مختلف ثقافتیں پچھلے ہزاروں سالوں سے موجود ہیں۔

Show More

Related Articles

2 Comments

جواب دیں

Back to top button