پاکستان،ایران افغان پناہ گزینوں کی جلاوطنی روکیں،طالبان حکومت
ہمسایہ ممالک افغانوں کو جبری نہیں رضاکارانہ واپس بھیجیں،انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی مدد فراہم کریں،افغان حکام
کابل (ویب ڈیسک)افغانستان نے ایک بار پھر ہمسایہ ممالک پاکستان اور ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ افغان پناہ گزینوں کی جبری جلاوطنی اور بدسلوکی کو فوری طور پر روکیں۔ان خیالات کا اظہار قائم مقام افغان وزیر برائے پناہ گزین اور وطن واپسی، مولوی عبدالکبیر نے جاپانی سفیر اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے نائب نمائندہ خصوصی برائے افغانستان سے الگ الگ ملاقاتوں میں گفتگوکرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے انسانی حقوق کی تنظیموں پر بھی زور دیا کہ وہ افغان پناہ گزینوں کو مدد فراہم کریں۔
مہاجرین کو پناہ دینے کے بارے میں پاکستان کی روایت قابل فخر، جبری بے دخلی انسانی حقوق کے حوالے سے درست نہیں ،یو این ایجنسیز
پناہ گزینوں اور وطن واپسی کی وزارت کے ترجمان عبدالمطلب حقانی نے ان ملاقاتوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمسایہ ممالک کو افغان پناہ گزینوں کی جبری جلاوطنی کو روکنا چاہیے اور انہیں بین الاقوامی قوانین کے مطابق رضاکارانہ طور پر اپنے وطن واپس جانے کی اجازت دینی چاہیے۔دریں اثنا ہمسایہ ممالک میں متعدد افغان پناہ گزینوں نے خود کو درپیش چیلنجوں کے بارے میں شکایت کی ہے۔
ترکی میں مقیم افغان پناہ گزین جمال مسلم نے بتایا کہ پناہ گزینوں کو اپنا گھر بار چھوڑنے اور دوسرے علاقوں میں منتقل ہونے پر مجبور کیا جا رہا ہے، ترکی میں افغان پناہ گزین معاشی، لسانی اور روزگار کے مسائل سے دوچار ہیں۔ ادھر پاکستان میں افغان مہاجرین کے امور کو دیکھنے والی اقوام متحدہ کی ایجنسیوں کو اس امر پر گہری تشویش ہے کہ پاکستان کے حکام نے افغان شہریوں کو اپنے دارالحکومت اسلام آباد اور اس سے جڑواں شہر راولپنڈی سے نکنلے کا حکم جاری کیا ہے۔ ان تشویش ظاہر کرنے والی یو این ایجنسیوں میں یو این ایچ سی آر کے علاوہ آئی او ایم انٹرنیشنل آرگنائزیشن آف مائیگریشن شامل ہیں ۔
یو این ایجنسیز کے نزدیک یہ انسانی حقوق کے حوالے سے درست نہیں ہے۔ یو این سی ایچ آر کے فلیپاکینڈلر نے اس صورت حال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا مہاجرین کو پناہ دینے کے بارے میں پاکستان کی روایت قابل فخر اور کردار فراخدلانہ رہا ہے ، جس کی تعریف کی جاتی رہی ہے۔ لیکن اب افغانوں کو نکالنا درست نہیں ہے۔



