انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینجرم-وسزاکالم

نیا نظام یا نئے چہرے۔۔۔ ؟

بے لگام / ستار چوہدری

 

قومیں اس وقت آگے بڑھتی ہیں جب وہ شخصیات کے حصار سے نکل کر اصولوں پرگفتگو شروع کرتی ہیں۔ پاکستان کی اصل ضرورت بھی یہی ہے۔ ہمیں پرانے اورنئے نظام کی جذباتی بحث سے آگے بڑھ کرمفادات اوراصلاحات کی اصل جنگ کو سمجھنا ہوگا۔ کیونکہ تاریخ نے بارہا ثابت کیا ہے کہ جب مفادات، اصلاحات پرغالب آ جائیں تو ریاستیں جمود کا شکارہوجاتی ہیں، اورجب اصلاحات، مفادات پرغالب آ جائیں تو وہی ریاستیں ترقی، استحکام اورخوشحالی کی نئی داستانیں رقم کرتی ہیں۔

شاید اب فیصلہ پاکستان کے مستقبل کا نہیں، بلکہ ہماری اجتماعی سوچ کا ہے کہ ہم مفادات کے محافظ بننا چاہتے ہیں یا اصلاحات کے معمار۔۔۔۔ یہ وقت کسی ایک وزیر، ایک حکومت یا ایک جماعت کے دفاع یا مخالفت کا نہیں، بلکہ ٹھنڈے دل سے یہ طے کرنے کا ہے کہ پاکستان کو اگلی چند دہائیوں میں کس سمت لے جانا ہے۔ اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ موجودہ نظام اپنی افادیت کھو چکا ہے تو اس دعوے کو محض اس بنیاد پر رد نہیں کیا جانا چاہیے کہ یہ بات کس نے کہی ہے، بلکہ اس بنیاد پر پرکھا جانا چاہیے کہ اس کے دلائل کیا ہیں اور اس کے پاس اصلاح کا قابل عمل راستہ بھی ہے یا نہیں۔ اسی طرح جو لوگ برسوں سے اس نظام کا حصہ رہے ہیں، ان سے یہ سوال پوچھنا بھی قوم کا حق ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری سے کیسے عہدہ برآ ہوں گے۔۔۔۔۔

اس وقت جو بحث چل رہی ہے، بظاہر وہ ’’پرانے نظام‘‘ اور ’’نئے نظام‘‘ کی ہے، لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ اگرگہرائی میں دیکھا جائے تو اصل کشمکش نظاموں کی نہیں، مفادات کی ہے۔ ہروہ شخص، گروہ یا طبقہ جس نے موجودہ ڈھانچے میں اپنے لیے آسائش، اختیار، مراعات یا راستے بنا لیے ہیں، وہ اس نظام کو بچانے کے لیے دلائل بھی دے گا اور اس کی خامیوں کو معمولی قراردینے کی کوشش بھی کرے گا۔ اس کے برعکس وہ شہری جو روزگار، انصاف، تعلیم، صحت، تحفظ اوربرابری کے مواقع سے محروم ہے، وہ تبدیلی کی بات کرے گا، کیونکہ اس کے پاس کھونے کے لیے بہت کم اورپانے کے لیے بہت کچھ ہے۔۔۔

پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ یہاں چہرے بدلتے رہے، حکومتیں بدلتی رہیں، نعرے بدلتے رہے، مگر نظام نہیں بدلا۔ ہرنئی حکومت نے پچھلی حکومت کو ناکام قراردیا، لیکن اقتدارمیں آکر اسی نظام کے سہارے حکومت بھی کی اورانہی روایات کو آگے بھی بڑھایا جن پر کل تک تنقید کی جاتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ آج عوام کے ذہن میں یہ سوال پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ موجود ہے کہ اگر مسئلہ واقعی نظام کا ہے تو پھر اس کی اصلاح پر سنجیدہ گفتگو دہائیوں پہلے کیوں نہ ہو سکی۔۔۔؟ اور اگر موجودہ ڈھانچہ اپنی افادیت کھو چکا ہے تو اسے بہتر بنانے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ آخر کون ہے۔۔۔؟

یہیں سے موجودہ بحث ایک اہم موڑاختیار کرتی ہے۔ اگرکوئی سیاست دان یا وزیر یہ کہتا ہے کہ موجودہ نظام ناکام ہوچکا ہے، تو اس پر دو الگ سوال کھڑے ہوتے ہیں۔ پہلا سوال یہ کہ کیا واقعی اس نظام میں ایسی بنیادی خامیاں موجود ہیں جن کی اصلاح ناگزیر ہو چکی ہے۔۔۔؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو اس حقیقت کا اعتراف بہرحال ایک اہم آغاز ہے، کیونکہ کسی مسئلے کا حل اس وقت تک تلاش نہیں کیا جا سکتا جب تک اس کے وجود کو تسلیم نہ کیا جائے۔

لیکن اس کے ساتھ دوسرا سوال بھی اتنا ہی اہم ہے کہ اگر یہ نظام ناکام تھا اور یہ بات کہنے والا خود بھی اسی نظام کا حصہ رہا، تو پھر اس کی اپنی ذمہ داری کیا بنتی ہے۔۔۔؟ کیا وہ صرف خرابی کی نشاندہی کرے گا یا اس کے ازالے کی عملی ذمہ داری بھی قبول کرے گا۔۔۔؟بدقسمتی سے ہمارے ہاں یہی دوسرا سوال اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ ایک طبقہ صرف اس لیے ہر بات کی مخالفت کرتا ہے کہ وہ مخالف سیاسی جماعت کی طرف سے آئی ہے، جبکہ دوسرا طبقہ صرف اس لیے ہر بات کا دفاع کرتا ہے کہ وہ اس کے پسندیدہ رہنما نے کہی ہے۔ یوں اصل بحث نظام کی اصلاح سے ہٹ کر شخصیات کی حمایت اور مخالفت میں تبدیل ہو جاتی ہے۔

نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نہ خامیوں پر سنجیدہ مکالمہ ہوتا ہے، نہ اصلاحات کی سمت کوئی واضح پیش رفت دکھائی دیتی ہے، اور قوم ایک بار پھر اسی دائرے میں گھومنے لگتی ہے جہاں الزام بہت ہوتے ہیں مگر حل کم۔۔۔۔ شاید اسی لیے پاکستان میں اصلاحات کا لفظ سنتے ہی سب سے پہلے وہ لوگ بے چین ہو جاتے ہیں جن کے مفادات موجودہ نظام سے جڑے ہوتے ہیں۔ انہیں ڈر ہوتا ہے کہ اگر قواعد بدل گئے، ادارے مضبوط ہو گئے، میرٹ واقعی نافذ ہو گیا اور احتساب بلاامتیاز ہونے لگا تو برسوں سے قائم ان کی آسانیاں ختم ہو جائیں گی۔

اس لیے وہ تبدیلی کی ہرآوازکو کبھی غیرحقیقی قرار دیتے ہیں، کبھی خطرناک، اورکبھی اسے محض سیاسی نعرہ کہہ کرمسترد کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ دوسری طرف عام آدمی، جو مہنگائی، بے روزگاری، انصاف کی سست رفتاری، ناقص تعلیم اورکمزور صحت کے نظام کا بوجھ اٹھا رہا ہے، اس کے لیے اصلاحات کوئی سیاسی نعرہ نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کی ضرورت ہیں۔۔۔۔اس حقیقت کو بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ صرف یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ ’’نیا نظام لے آئیں‘‘۔ دنیا میں کوئی بھی کامیاب نظام ایک دن میں وجود میں نہیں آیا۔ اس کے لیے واضح سمت، قابل عمل منصوبہ، آئینی اورقانونی راستہ، مضبوط ادارے اور سب سے بڑھ کر سیاسی و سماجی اتفاق رائے درکار ہوتا ہے۔

اگران بنیادی عناصر کے بغی صرف جذباتی نعرے لگائے جائیں تو نتیجہ اصلاح نہیں بلکہ مزید انتشار بھی ہو سکتا ہے۔ اس لیے اصل سوال یہ نہیں کہ پرانا نظام ختم ہونا چاہیے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اس کی جگہ آنے والا نظام کیا ہوگا، وہ کس بنیاد پرکھڑا ہوگا، اور کیا وہ واقعی عام پاکستانی کی زندگی کو بہتر بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں۔۔۔۔؟

آخرمیں شاید ہمیں خود سے ایک غیرآسان سوال پوچھنے کی ضرورت ہے۔ کیا ہم واقعی نئے نظام کے خواہش مند ہیں، یا صرف نئے چہروں کے۔۔۔؟ کیونکہ اگرچہرے بدل جائیں، مگرقوانین وہی رہیں، ادارے وہی انداز میں چلتے رہیں، احتساب کا معیاروہی رہے، میرٹ بدستورکمزور رہے اورریاست کا مقصد چند طبقات کے مفادات کا تحفظ ہی بنا رہے، تو تبدیلی صرف تقریروں میں نظر آئے گی، زمینی حقیقت میں نہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button