عمران خان کو قید نا حق میں 3 سال ہو چکے ہیں اس دوران ماتحت عدالتوں سے ان کو جن مقدمات میں سزا سنائی گئی ماہرین قانون کے مطابق اعلیٰ غیر جانبدار عدالت میں چند سماعتوں کے بعد ہی کالعدم قرار دی جا سکتی ہیں۔
عمران خان کی رہائی قانونی نہیں سیاسی فیصلے کے ذریعے ہی عمل میں آسکتی ہے 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترمیم کے بعد اعلیٰ عدلیہ بھی غیر فعال ہو چکی ہے تمام ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ طاقت وروں کی جنبش آبرو کے طابع ہو چکے ہیں ایسے میں کبھی بھی قانونی فیصلے سے خان کو رہا نہیں کریں ، رہائی صرف سیاسی فیصلے سے ہوگی اور شرائط بھی انکی جن کے ہاتھ میں لاٹھی ہےمگر عمران خان اپنی بیماری کے باوجود کسی بھی ڈیل پر آمادہ ہوتا نظر نہیں آرہا کئی جانکاروں کے مطابق آخری ڈیل جو خان کو پیش کی گئی ہے وہ پہلے ہسپتال پھر بنی گالہ منتقلی اور دو سال خاموشی کی ہے جسے خان نے مسترد کر دیا ہے ۔
اس رجیم اور اسٹیبلشمنٹ نے 3 سال تک خان کو پاپند سلاسل رکھ کر دیکھ لیا وہ پاکستان کے مسائل حل نہیں کر سکے اپنی معاونت کے لئے جن کو وزیر اعظم اور صدر بنایا انہوں نے مسائل کیا حل کرنے تھے وہ تو عوامی پذیرائی سے بھی کوسوں دور ہو چکے ہیں ، سندھ اور پنجاب کو چلانے والے دو سال سے ناکام چلے آرہے ہیں اور ہیت متدرہ پر بوجھ بن چکے ہیں آج بھی شفاف انتخابات ہوں فارم 47 کے یہ جمورے جمہور کے سامنے نامراد ہی رہیں گے۔
اس لئے اسٹیبلشمنٹ نے اپنے سب سے خاص کارندے کو اس نطام کی ناکامی کی منادی کرانے کا کہا جس نے اعتراف جرم کر لیا
اس میں کوئی شک نہیں نئے صوبوں کا قیام وقت کی ضرورت ہے ، کراچی ، سرائیکی صوبہ ، ہزارہ پھوٹھوہار صوبہ ہونا چاہیے ،مگر ان سب سے بھی بڑھ کو جو چیز ضروری ہے وہ سیاسی استحکام ہے ۔
پاکستانی کشمیراور بلوچستان میں بدامنی کی آگ لگی ہوئی ہے ریاست سے بغاوت سلگ رہی ہے خیبر پختونخوا کے قبائلی علاقے ناراض ہی نہیں وفاق سے بد گمان بھی ہو چکے ہیں ، کار خاص کہتا ہے تمام سیاسی جماعتیں مل کر بیٹھیں چاہے ایک دن ایک ماہ ایک سال تک مسائل حل کریں ۔
خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا
جناب جن سیاست کاروں کی عوامی ساکھ ہی دائو پر لگ چکی ہو ان سے کیا امیدیں سیاسی استحکام لانا ہے تو مقبول ترین قیادت سے بات کرنی ہو گی عمران آج بھی سب سے بڑی سیاسی طاقت ہے اسے رہا کریں بات کریں ماہرنگ بلوچ کو رہا کریں علی وزیر کو رہا کریں منظورپشتین سے بات کریں ،کشمیری عوامی ایکشن کمیٹی سے بات کریں ان سب کو اعتماد میں لیں،ایمان مزاری ، ہاوی چٹھہ،سہراب برکت، احمد فرہاد ، شوکت میر ،شاہ محمود قریشی ،عمر سرفراز چیمہ، ڈاکٹر یاسمن راشد، محمود الرشید،اعجازچوہدری ، صنم جاوید اس کی بہن اور 9 مئی کے دیگر اسیران کو رہا کریں ۔
تمام لاپتہ افراد کی گھروں کو واپس آنا چاہیئے ،یاد رکھیں جب تک اپنا اہنکار پس پست رکھ کر بات نہیں کریں گے یہ نظام یونہی نامراد رہے گا ،اہنکار اس قدر خوفناک بلا ہے کہ راون جیسا طاقتور بھی اسی کے ہاتھوں مارا گیا تھا ،ریاست اور عوام کو نئے عمرانی معاہدے کی ضرورت ہے۔



