”عمراں تیک وچھوڑے“ محبت، درد اور مزاحمت کا استعارہ
شہزاد فراموش

پنجابی ادب میں شاعری کی روایت صدیوں پر محیط ہے، جہاں گورکھ ناتھ، بابا فرید، وارث شاہ، بلھے شاہ، خواجہ غلام فریداور میاں محمد بخش جیسے صوفی شعرا نے انسانی جذبات کو لازوال رنگ بخشا۔ روایت کی اس جدید کڑی میں خلوص، سادگی اور سچائی کا نام ملک ارشاد ہے۔ ان کی شعری تصنیف ”عمراں تیک وچھوڑے“ ایک جیتی جاگتی زندگی، ایک محسوس ہوتی دھڑکن اور ایک سچے دل کی آواز ہے۔ملک ارشاد کی شخصیت اور شاعری میں ایک عجیب سی ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ وہ جس طرح زندگی میں سادہ، مخلص اور بے لوث ہیں، اسی طرح ان کا کلام بھی بناوٹ سے پاک اور دل سے نکلا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ ان کی شاعری میں لفظوں کی نمود و نمائش بھی نہیں بلکہ ایک سادہ مگر اثرانگیز سچائی ہے جو قاری کے دل میں اُترتی چلی جاتی ہے۔ان کے کلام میں انسانی رشتوں کی نزاکت، محبت کی لطافت اور جدائی کا کرب نہایت خوبصورتی سے جلوہ گر ہوتا ہے۔ وہ اپنے جذبات کو بڑے سلیقے سے بیان کرتے ہیں۔ اشعار دیکھئے۔
اک وی میں نہیں ٹالی گل
اوہدی ہر اک پالی گل
ایڈی کیہڑی بھیڑی سی
جِڈی اوس اُچھالی گل

ان سادہ لفظوں میں محبت کی وہ گہرائی چھپی ہے جس میں وفا بھی ہے اور شکوہ بھی۔ شاعر یہاں کسی بڑے فلسفے کی بات نہیں کرتا بلکہ روزمرہ کے جذبات کو اس انداز سے پیش کرتا ہے کہ وہ دل میں گھر کر جاتے ہیں۔شعری مجموعہ ”عمراں تیک وچھوڑے“کا بنیادی موضوع ہجر و فراق ہے، مگر یہ ذاتی دکھ کا بیانیہ ہی نہیں بلکہ اجتماعی احساس کا بھی آئینہ ہے۔ شاعر کا دکھ اس کا اپنا نہیں رہتا، وہ ہر اس دل کی آواز بن جاتا ہے جو بچھڑنے کے کرب سے گزرا ہو۔
توں جو کیتی سی اوہ کل
گولی بن کے وجی گل
پَلّے بَنھّی پِھرنا واں
تیریاں یاداں ہر اک پل
یادیں اُس کے دل کو گولی بن کر زخمی کرتی ہیں اور یہی استعارہ شاعر کی تخلیقی قوت کا ثبوت بھی ہے۔ وہ عام بات کو غیر معمولی بنا نا بخوبی جانتا ہے۔ملک ارشاد کی شاعری کا ایک اہم پہلو ان کی سماجی شعور سے بھرپور نظر ہے۔ وہ غمِ جاناں ہی نہیں غمِ دوراں کے بھی شاعر ہیں۔وہ ظلم، ناانصافی اور معاشرتی بے حسی کے خلاف بھی آواز اٹھاتے ہیں۔ ان کے اشعار میں ایک نرم مگرپُراثر احتجاج ملتا ہے۔
اُٹھ ارشاد پیارے اُٹھ
ظالم نوں رَل پائیے ٹھَل
یہ مصرع ایک پیغام ہے،بیداری کا، مزاحمت کا اور حق کے لیے کھڑے ہونے کا۔اسی طرح وہ اپنی شاعری میں انسان دوستی اور رواداری کا درس بھی دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک اصل انسان وہ ہے جو دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرے۔
بندا خُشیاں ونڈے جیکر فیر مناں گا
وَنڈے تے نہ بھَنڈے جیکر فیر مناں گا
طاقت رکھدا ہووے بدلا لیون دی
مارے نہ اوہ ڈنڈے جیکر فیر مناں گا
یہ اشعار ان کے اخلاقی ویژن کو واضح کرتے ہیں، جہاں طاقت کا اصل حُسن معافی اور درگزر میں ہے، نہ کہ انتقام میں۔ملک ارشاد کی شاعری میں فطرت سے محبت بھی جھلکتی ہے اور اپنے دیس سے گہرا تعلق بھی۔ وہ اپنے علاقے، اپنی مٹی اور اپنے لوگوں سے جڑے ہوئے شاعر ہیں۔ ان کے ہاں پنجاب صرف ایک خطہ نہیں بلکہ ایک جذبہ ہے، ایک شناخت ہے۔ان کی زبان نہایت سادہ مگر دلکش ہے۔ وہ پنجابی کے خالص لہجے کو برقرار رکھتے ہوئے ایسے الفاظ کا انتخاب کرتے ہیں جو عام آدمی کی زبان سے قریب ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا کلام خواص کے ساتھ ساتھ عوام میں بھی مقبولیت کی سبھی خوبیاں سمیٹے ہوئے ہے۔
”عمراں تیک وچھوڑے“دراصل ایک ایسے شاعر کی داستان ہے جو محبت کو عبادت، سچ کو شعار اور انسانیت کو اپنا مسلک سمجھتا ہے۔ اس کتاب کو پڑھتے ہوئے قاری کبھی اداس ہوتا ہے اور کبھی سوچ میں ڈوب جاتا ہے اور یہی چیز ملک ارشاد کو دوسرے شعراء سے الگ پہچان دیتی ہے۔اس کی شاعری پنجابی ادب کا قیمتی سرمایہ ہے۔یہ کلام دلوں کو جوڑنے، نفرتوں کو مٹانے اور محبت کو عام کرنے کا ذریعہ ہے۔ وہ اُن شعرا جیسا ہونے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں جن کے لفظ وقت کے ساتھ گَرد آلود نہیں ہوتے بل کہ مزید روشن ہوتے جاتے ہیں۔



