اکثر اخبارات، ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر یہ اشتہار سننے کو ملتا ہے”ایک بچہ، عمر چار سے پانچ سال، سفید قمیض میں ملبوس لاپتہ ہو گیا ہے۔ اطلاع دینے والے کو انعام دیا جائے گا۔”
کئی بار یہ بچے واپس مل جاتے ہیں۔ کئی مائیں پھر سے اپنے بچوں کو سینے سے لگا لیتی ہیں۔ تو میں نے سوچا:کیا میں بھی اپنی گمشدہ نعمت — امن — کو تلاش کر سکتا ہوں؟
وہ نعمت جو صدیوں سے مفقود ہے،وہ نعمت جس کے لیے نسلیں تڑپتی رہی ہیں، زمینیں خون آلود ہوتی رہی ہیں۔
میں نے فیصلہ کیا کہ میں امن کو ڈھونڈوں گا۔ شاید وہ کہیں پہاڑوں، غاروں یا جنگلوں میں چھپا ہو۔
سب سے پہلے بلوچستان کے سنگلاخ پہاڑوں کا رخ کیا۔ وہاں معصوم زائرین کی چیخیں گونج رہی تھیں:
"امن یہاں نہیں رہتا!”
پھر شام کے کھنڈر نما شہروں میں جا کر ڈھونڈا، مگر وہاں صرف بچوں کی سہمیں آنکھیں تھیں، جن میں زندگی کی رمق معدوم ہو چکی تھی۔
فلسطین کی گلیوں میں، جہاں ہر روز معصوم خون بہتا ہے، کسی نے کہا:
"اگر امن کہیں ہے تو شاید طاقتوروں کی بے معنی تقریروں میں ہے، یا اقوام متحدہ کی رسمی قراردادوں میں۔ حقیقت میں تو زمین پر صرف موت اور مایوسی ہے۔”
یوکرین کی جنگ زدہ زمینوں میں بھی امن کی خوشبو ندارد تھی۔
میں نے اقوام متحدہ (UNO) کی قراردادیں پڑھیں، جن میں الفاظ تو بڑے حسین تھے — "عالمی بھائی چارہ”، "انسانی حقوق کا تحفظ”، "تنازعات کا پرامن حل” — لیکن حقیقت میں ان قراردادوں کے نیچے صرف معصوموں کا خون اور ملبے کا ڈھیر تھا۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ہر سال پرجوش تقاریر ہوتی ہیں، قراردادیں متفقہ طور پر منظور ہوتی ہیں، مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ شام سے لے کر سوڈان تک، کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب امن کا جنازہ نہ نکلتا ہو۔
ہارورڈ یونیورسٹی جیسے عالمی تعلیمی اداروں میں، امن کے موضوع پر تحقیقی مقالے لکھے جاتے ہیں، "پییس اسٹڈیز” کے نصاب پڑھائے جاتے ہیں، لیکن افسوس کہ ان علمی مباحثوں کی خوشبو بھی میدان جنگ کی بارود بھری فضا تک نہیں پہنچتی۔ ہارورڈ کے ایک معروف ریسرچ پیپر میں لکھا گیا تھا کہ
"Peace is not merely the absence of war but the presence of justice, equity and freedom.”
(امن صرف جنگ کا نہ ہونا نہیں، بلکہ انصاف، مساوات اور آزادی کا ہونا ہے۔)
مگر حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں نہ جنگ کا خاتمہ ہو رہا ہے، نہ انصاف، مساوات اور آزادی کا بول بالا ہو رہا ہے۔
میں نے نوبل پرائز کمیٹی کی فہرستیں بھی دیکھیں۔ ہر سال نوبل امن انعام کسی نہ کسی لیڈر، کسی تنظیم، کسی سرگرم کارکن کو دیا جاتا ہے۔
اسٹیج پر سنہرے الفاظ میں "امن کے سپاہی” کہہ کر انہیں سراہا جاتا ہے۔
لیکن زمین پر؟
زمین پر معصوم لاشیں، اجڑے گھر، سسکتی دعائیں، اور خاموش قبریں ہیں۔
سچ یہ ہے کہ نوبل پرائزز اور میدان عمل کے درمیان ایک اندوہناک خلیج حائل ہے۔
تقریبات میں امن کے نعرے لگتے ہیں، مگر حقیقت میں ہتھیاروں کی خرید و فروخت کے سودے طے پاتے ہیں۔
میں نے دنیا کی بڑی تنظیموں، جیسے
انٹرنیشنل کرائسز گروپ (International Crisis Group)
ڈاکٹرز وِدآؤٹ بارڈرز
انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس (ICRC)
ایمنسٹی انٹرنیشنل (Amnesty International)
ہیومن رائٹس واچ (Human Rights Watch)
کے کاموں کا جائزہ لیا۔
یہ ادارے شب و روز کوششیں کر رہے ہیں، رپورٹیں شائع کر رہے ہیں، عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
مگر ان کی تحریریں اور تصویریں زیادہ تر المیوں کی فہرست میں اضافہ کر رہی ہیں، امن کی حقیقت میں تبدیلی لانے میں نہیں۔
تاریخ کے آئینے میں دیکھیں تو صلیبی جنگوں سے لے کر عالمی جنگوں تک، بغداد کے کھنڈرات سے لے کر ہیروشیما کی راکھ تک، ہر جگہ یہی سبق لکھا ہے:
"جنگ کبھی بھی دائمی حل نہیں، صرف زخم چھوڑ جاتی ہے۔”
اور آج؟ آج شام، فلسطین، افغانستان، کشمیر، یوکرائن، سوڈان اور دنیا کے کئی خطے خون میں نہا رہے ہیں۔
عالمی ادارے مذمت کے بیانات تو جاری کرتے ہیں،
عالمی عدالتیں جنگی جرائم کی فہرستیں مرتب کرتی ہیں،
اقوام متحدہ کے اجلاس قراردادوں سے بھر جاتے ہیں،
لیکن زمین پر ظلم رکنے کا نام نہیں لیتا۔
شاید ان قوتوں نے، جو چاند پر پانی اور مریخ پر زندگی کی تلاش میں ہیں، زمین سے امن کو اٹھا کر کسی اجنبی سیارے پر دفن کر دیا ہے۔
یا شاید امن کو اسی وقت واپس لایا جائے گا جب طاقت کے تمام ہتھیار آزما لیے جائیں گے۔
جب نفرت کی دیواریں مسمار ہو جائیں گی،
جب طاقتور اپنی تلواریں پھینک کر ہاتھ جوڑ لیں گے۔
آج بھی میں امن کی تلاش میں سرگرداں ہوں۔
شاید کسی یتیم کے آنسو میں، کسی بوڑھی ماں کی دعا میں، کسی معصوم بچے کے خواب میں، یا کسی قلم کار کے الفاظ میں — امن کا ایک جھلکتا ہوا عکس مل جائے۔
تاکہ آنے والی نسلیں امن کو صرف تاریخ کی کتابوں میں نہ پڑھیں، بلکہ اپنی دنیا میں اسے محسوس کر سکیں۔
تاکہ امن کسی اشتہار میں "لاپتہ نعمت” کی طرح تلاش نہ کیا جائے، بلکہ ہر دل کی دھڑکن میں بسا ہو۔



