انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینکالم

امریکی غرور خاک

تحریر: محمد قیصر چوہان

پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکراتی کوششوں کی حمایت کرتے ہوئے پیشکش کی ہے کہ اگر امریکا اور ایران رضامند ہوں تو وہ ان مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔یہ پیشکش ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی برقرار ہے اور عالمی سطح پر مختلف ممالک اس کے پرامن حل کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔ملکی اورغیرملکی میڈیا کے مطابق امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس کا مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے حوالے سے مذاکرات کے لیے رواں ہفتے پاکستان آمد کا امکان ہے۔

مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ میں غرور اور تکبر کو شکست دیکر ایران نے امریکا اور اسرائیل کوتگنی کا ناچ نچا دیا ہے۔امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کرنے کے بعد ایران نے اپنے جوابی ردعمل میں جس شدت کا مظاہرہ کیا ہے اس نے نہ صرف امریکا و اسرائیل بلکہ پوری دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے، امریکا اور اسرائیل اپنی تمام تر کوششوں کے باجود اپنے اہداف کے حصول میں ناکام رہے، امریکی اڈوں اور اسرائیلی شہروں پر ایران کے میزائل حملوں نے اسرائیل کے دفاعی نظام کو مفلوج کرکے رکھ دیا جبکہ آبنائے ہرمز کی بندش نے توانائی کے ایک نئے بحران کو بھی جنم دیا ہے، خود اسرائیل کے اندر بھی سیاسی تناﺅاور عوامی ردعمل ابھر کر سامنے آیا ہے۔

امریکا کو بھی اس امر کا بخوبی اندازہ ہوگیا ہے کہ اس جنگ کے معاشی نقصانات پوری دنیا کو ہلا سکتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ پانچ روزہ جنگ بندی کا اعلان کیا گیا ہے۔ ایران نے اپنے عزم و ہمت اور بے مثال مزاحمت سے دنیا پر ثابت کردیا ہے کہ شیر صرف آہنی پنجوں ہی کا احترام کرتا ہے اور یہ کہ طاقتور کی اس دنیا میں احترام صرف اسی کو ملتا ہے جو اپنی قوت منوانے کا ہنر جانتا ہو۔اب جنگ کا نیا تصور یہ ہے کہ صرف فوجیوں کو ہلاک کرکے جنگ نہیں جیتی جاتی، بلکہ عام لوگوں میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کرکے برتری حاصل کی جاتی ہے۔

آرٹیفیشل انٹیلی جنس انفرااسٹرکچر، جس میں کھربوں ڈالر کی سرمایہ کاری شامل ہے، اب جنگ کا اہم میدان بن چکا ہے۔ ایران اس حقیقت کو بخوبی سمجھتا ہے، اسی لیے دشمن کی بینکنگ، ادائیگیوں اور انٹرپرائز سروسز کو مفلوج کرنے کی حکمت عملی اختیار کی جا رہی ہے۔ ایران نے اس شعبے کو باقاعدہ جنگی علاقہ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ جو اپنی جان بچانا چاہتے ہیں وہ بینکوں اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے مراکز سے دور رہیں اس حکمت عملی کا مقصد دشمن میں غیر یقینی اور خوف پیدا کرنا ہے، جو اب ایک موثر جنگی ہتھیار بن چکا ہے۔

مشرق وسطیٰ کی جنگ میں امریکا اور اسرائیل کو اربوں ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔ جبکہ آبنائے ہرمز بند ہونے سے تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث اب امریکی معیشت پر شدید دباﺅہے اور دوسری جانب ایران آبنائے ہرمز کو بند رکھ کر مغرب و امریکہ کو مجبور کرکے ان کو گھٹنوں پر لانا چاہتا ہے۔ گوکہ امریکی بمباری میں ایران کا نقصان ہورہا ہے لیکن جو معاشی نقصان پورے نظام کو ایران پہنچا رہا ہے اس کا تصور بھی امریکہ و اسرائیل نے نہیں کیا تھا۔ جہاں ایک جانب سستے، کم لاگت میزائل و ڈرون کو مارنے میں مہنگا ترین نظام استعمال ہورہا ہے اور وسیع سرمایہ برباد ہورہا ہے وہیں اس میں اب میزائلوں کو مار گرانے کی قوت بھی کم ہوتی چلی جارہی ہے۔ اب ایرانی میزائل و ڈرون بآسانی اسرائیل کے اندر تباہی پھیلا رہے ہیں، اور یہ سب کچھ اب ٹی وی اسکرینوں پر موجود ہے۔

اس کے ساتھ ہی ایران نے دوست ممالک کے تیل بردار جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے کر ثابت کیا کہ اس کی جنگ امریکا ،سرائیل اور ان کے اتحادیوں سے ہے جو اس جنگ میں براہ راست ان کا ساتھ دے رہے ہیں۔ امریکا کو تیل سپلائی کرنے والے خلیجی ممالک میں اب تیل و گیس کی سپلائی تقریباً معطل ہے تو دوسری جانب اب روس و ایران کی جانب سے یہ سپلائی جاری ہے۔ بین الاقوامی منڈیوں میں تیل کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح کے قریب آچکی ہے۔ قیمتوں میں اضافے کا فائدہ اب براہِ راست ایران اور روس کو ہورہا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے تناظر میںاسلامی ممالک بھی اب اس بارے میں سنجیدہ ہیں کہ خطرہ ان کے سروں پر کھڑا ہے، ایک جانب وہ ایران کی جانب سے حملوں پر نالاں تو ہیں لیکن دوسری جانب اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم جس کی بازگشت ایک طویل عرصے سے تھی اب یقنی نظر آرہی ہے اور اس کی بنیادی وجہ نہ صرف اسرائیل کے اقدامات ہیں بلکہ ا س کی قیادت اور میڈیا کی جانب سے بھی تواتر سے اب ایسے بیانات کا آنا ہے کہ ہم اس جنگ میں داخل ہوچکے ہیں کہ جہاں مسیحا کی آمد اب یقینی ہے۔

اس کے علاوہ جنوبی کنارے میں نئی اسرائیلی بستیوں کی تعمیر، مسجد اقصیٰ کی بار بار بندش اور اس کے بعد اب اس عزم کا اظہار کہ گریٹر اسرائیل کے قیام کے بغیر اسرائیل کی بقاءممکن نہیں۔ ”گریٹر اسرائیل“ کا قیام ایک ایسی ریاست جس میں خطے کے دیگر ممالک کی سرحدیں بھی شامل ہوں، خاص طور پر لبنان، شام، مصر اور پورا ارض فلسطین۔ان عزائم کے بعد امت مسلمہ بھی اب یہ سمجھ رہی ہے کہ وقت آگیا ہے کہ وہ اپنے اندرونی اختلافات کو بھلا کر ایک مشترکہ دیوار قائم کرے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button