
قائدِ اعظم محمد علی جناح کے انتقال کے بعد آج بھی پاکستانی قوم ایک کھٹارا ایمبولینس کے پاس کھڑی ہے جس کا پٹرول ختم ہو چکا ہے اور انجن جواب دے چکا ہے۔ مریض اس کے اندر پڑا سسک رہا ہے، اس کے عزیز مدد کے لیے ادھر اُدھر دیکھ رہے ہیں، مگر ایمبولینس کے گرد کھڑے لوگ اس بحث میں مصروف ہیں کہ اس کا ڈرائیور کون ہوگا۔ پچھتر برس سے زیادہ کا عرصہ گزر گیا، مگر اس ایمبولینس کو منزل تک پہنچانے کے بجائے ہر آنے والے نے اس کے شیشے صاف کیے، اس پر نیا رنگ کیا، اس کا ہارن بدلا، اس کے اوپر اپنے نام کی تختی لگا دی، لیکن انجن کی مرمت کسی نے نہ کی۔ شاید اس لیے کہ انجن ٹھیک ہو گیا تو مریض اپنے پاؤں پر کھڑا ہو جائے گا، اور جو قوم اپنے پاؤں پر کھڑی ہو جائے، اسے پھر سہاروں کی ضرورت نہیں رہتی۔۔۔یہ تحریر کسی ایک حکومت، کسی ایک جماعت یا کسی ایک چہرے کے خلاف نہیں۔ یہ اس نظام کی کہانی ہے جس میں حکمران بدلتے رہے، نعرے بدلتے رہے، منشور بدلتے رہے، مگر عام آدمی کی قسمت نہ بدل سکی۔

ہر انتخاب کے بعد امیدوں کے نئے چراغ جلائے گئے، مگر کچھ ہی عرصے بعد وہ چراغ مہنگائی کی آندھی میں بجھ گئے۔ عوام ہر بار یہی سمجھتے رہے کہ شاید اب حالات بدل جائیں گے، مگر بدلتا صرف اقتدار کا پتہ رہا، عوام کا پتہ آج بھی وہی ہے، خالی جیب، بڑھتے ہوئے قرض، اور مستقبل کے بارے میں ایک مسلسل بے یقینی۔۔۔آج اگر پاکستان کے کسی بازار میں چند منٹ کھڑے ہو جائیں تو محسوس ہوگا کہ لوگوں کے چہروں سے مسکراہٹیں جیسے ضبط کر لی گئی ہیں۔ سبزی فروش کے سامنے کھڑا شخص قیمت پوچھ کر خاموش ہو جاتا ہے۔ قصائی کی دکان پر گوشت کی قیمت سن کر کئی لوگ واپس پلٹ جاتے ہیں۔ میڈیکل اسٹور پر دواؤں کی پرچی ہاتھ میں لیے مریض یہ حساب لگا رہا ہوتا ہے کہ کون سی دوا خریدے اور کون سی اگلے ہفتے پر چھوڑ دے۔ اسکول کی فیس جمع کرانے کی تاریخ قریب آتے ہی ایک سفید پوش باپ کی راتوں کی نیند اُڑ جاتی ہے۔ بجلی، گیس، پانی اور روزمرہ اخراجات کی قطار اس کے سامنے کھڑی ہوتی ہے، جبکہ اس کی آمدنی وہیں کی وہیں کھڑی رہتی ہے۔۔۔پاکستان میں مہنگائی اب صرف ایک معاشی اصطلاح نہیں رہی، یہ کروڑوں لوگوں کی نفسیاتی کیفیت بن چکی ہے۔ گھر کا سربراہ صبح آنکھ کھولتا ہے تو اس کے ذہن میں سب سے پہلا سوال یہی ہوتا ہے کہ آج بچوں کے لیے روٹی کا انتظام کیسے ہوگا؟ شام کو گھر لوٹتے وقت اس کے قدم اس لیے بھاری نہیں ہوتے کہ وہ دن بھر کام کر کے تھک گیا ہے، بلکہ اس لیے کہ وہ جانتا ہے گھر میں اس سے ضروریات کا ایک نیا حساب مانگا جائے گا، اور اس کے پاس جواب پہلے سے بھی کم ہوں گے۔۔۔ایسا لگتا ہے جیسے اس ملک میں کروڑوں افراد کی پوری لغت سکڑ کر صرف ایک لفظ پر آ گئی ہے’’روٹی ‘‘۔۔۔ روٹی کے لیے محنت، روٹی کے لیے فکر، روٹی کے لیے قرض، روٹی کے لیے عزتِ نفس کی قربانی۔ جن گھروں میں کبھی بچوں کے مستقبل کی باتیں ہوتی تھیں، وہاں اب صرف مہینے کے بجٹ کا ماتم ہوتا ہے۔ جہاں کبھی خوابوں کے نقشے بنتے تھے، وہاں اب آٹے، چینی، گھی، بجلی اور دواؤں کی قیمتوں کا حساب لکھا جاتا ہے۔۔۔سوال یہ ہے کہ آخر اس ملک کے عام آدمی کا قصور کیا ہے۔۔۔؟ کیا اس نے اس سرزمین سے محبت نہیں کی۔۔۔؟ کیا اس نے ٹیکس نہیں دیے۔۔۔؟ کیا اس نے محنت نہیں کی۔۔۔؟ اگر اس نے اپنا حصہ ادا کیا ہے تو پھر اسے زندگی کی بنیادی سہولتیں کیوں میسر نہیں۔۔۔؟ یہی سوال آج ہر گلی، ہر بازار اور ہر دروازے پر خاموشی سے کھڑا ہے، مگر جواب دینے والا کوئی دکھائی نہیں دیتا۔۔۔
لیکن اسی پاکستان میں ایک دوسرا منظر بھی موجود ہے۔یعنی دو پاکستان ہیں، ایک عوام کا، دوسرا اشرافیہ کا۔ دونوں کے تعلیمی ادارے الگ، دونوں کے اسپتال الگ، دونوں کے رہائشی علاقے الگ، دونوں کے لیے انصاف کا پیمانہ الگ، دونوں کی سکیورٹی الگ۔ ایک طبقہ قانون کے سامنے برسوں انتظار کرتا ہے، دوسرا چند گھنٹوں میں دروازے کھلوا لیتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ امیر کیوں امیر ہیں، سوال یہ ہے کہ کیا ایک ہی ریاست میں شہریوں کی حیثیت بھی دو درجوں میں تقسیم ہو سکتی ہے۔۔۔؟جب ریاست کا عام آدمی اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے جدوجہد کرتا رہے، جبکہ اسے محسوس ہو کہ اس کی آواز فیصلہ سازی تک پہنچ ہی نہیں رہی، تو مایوسی بڑھتی ہے۔ یہ مایوسی کسی ایک حکومت، ایک جماعت یا ایک دور کا مسئلہ نہیں، بلکہ ایک طویل سلسلے کا نتیجہ ہے جس نے عوام اور اقتدار کے درمیان اعتماد کی خلیج کو وسیع کر دیا ہے۔قومیں صرف سڑکوں، پلوں اور عمارتوں سے مضبوط نہیں ہوتیں۔ وہ اس وقت مضبوط ہوتی ہیں جب ایک مزدور کو یقین ہو کہ اس کی محنت کا پھل ملے گا، ایک کسان کو اپنی فصل کا مناسب معاوضہ ملے گا، ایک استاد عزت سے زندگی گزار سکے گا، ایک مریض علاج سے محروم نہیں رہے گا اور ایک طالب علم کی قابلیت اس کی منزل کا فیصلہ کرے گی، نہ کہ اس کی معاشی حیثیت۔اگر کسی ملک میں عوام کی اکثریت کی زندگی مسلسل مشکل ہوتی جائے اور مراعات یافتہ طبقے کی آسائشیں بڑھتی جائیں تو فاصلے صرف معاشی نہیں رہتے، ذہنی اور سماجی بھی بن جاتے ہیں۔ ایسے فاصلے کسی بھی معاشرے کے لیے خطرے کی گھنٹی ہوتے ہیں۔۔۔ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا ریاست چند ہزار بااثر لوگوں کی سہولت کے لیے چلائی جائے گی یا پھر ان کروڑوں لوگوں کے لیے جو اپنے ٹیکس، اپنی محنت اور اپنی امیدوں سے اس ملک کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ کیونکہ آخرکار ریاست کی اصل طاقت اس کے محلات میں نہیں، اس کے عام شہری کے چہرے پر لکھی ہوئی امید میں ہوتی ہے۔۔۔ اور آخر میں صرف اتنا ہی۔۔۔!!
کسی کے پاس یاجوج ماجوج کا نمبر ہے۔۔۔؟ اگر ہے تو انہیں اطلاع کر دیں، تمہارے آنے سے پہلے ہی اشرافیہ نے سب کچھ کھا جانا ہے۔۔۔جلدی نکل آؤ۔۔۔



