پاکستانتازہ ترینعلاقائی خبریں

شانگلہ:کان کنوں کی صحت اورسلامتی پرجرگہ،اہم مطالبات پیش

شہیدمائنز ورکرز کی بیواﺅں اورمعذور کان کنوں کو ماہانہ 25 ہزار دیئے جائیں :سلطان محمد خان، سوشل سکیورٹی ، ای او بی آئی ،انشورنس یقینی بنائی جائے:علی باش خان

 

شانگلہ( نمائندہ خصوصی) کول مائنز ورکررز کی نرسری کہلائے جانے والے صوبہ خیبر پختوانخوا کے خوبصورت اور پسماندہ ترین ضلع شانگلہ میںپاکستان سنٹرل مائنز لیبر فیڈریشن نے انڈسٹری آل گلوبل یونین اورشانگلہ کول مائنز ورکرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (سموا) کے اشتراک سے شانگلہ میں مائننگ کے شعبے سے وابستہ کان کنوں کی صحت وسلامتی کے حوالے سے ایک جرگہ منعقد کیا۔

پاکستان سنٹرل مائنز لیبر فیڈریشن کے مرکزی سیکرٹری جنرل سلطان محمد خان ، وقار احمد خان، اجمیر محمد رحمان،فیض درہ فضل محمود ،عبدالحلیم خان،شاہ نواز زہری ،علی باش خان سمیت شانگلہ کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے مشران کا گروپ فوٹو

دی گرین ہیون ہوٹل اجمیر شانگلہ میں منعقد ہونے والے جرگے میں سابق تحصیل چیئرمین الپوری شانگلہ وقار احمد خان ، سابق ویلج کونسل چیئرمین اجمیر محمد رحمان،سابق چیئرمین فیض درہ فضل محمود ،پاکستان سنٹرل مائنز لیبر فیڈریشن کے مرکزی سیکرٹری جنرل سلطان محمد خان، انڈسٹری آل گلوبل یونین پاکستان میں پراجیکٹ کوآڈی نیٹر تنویر نذیر،شاہ نواز زہری ، علی باش خان، سرفراز خان ،محمد گل شانگلہ، عمران بٹ اور صحافی محمدقیصر چوہان سمیت دیگر علاقوں سے تعلق رکھنے والے ٹریڈ یونین نمائندے اور ضلع شانگلہ کے مختلف علاقہ مشران شریک ہوئے

پاکستان سنٹرل مائنز لیبر فیڈریشن کے ماسٹر ٹرینر عبدالحلیم خان نے جرگے میں شریک افراد کو مائننگ کے شعبے اور فیڈریشن کی کاوشوں بارے تفصیل سے بریفنگ دی ۔اس موقع پر مختلف مائنز حادثات کے نتیجے میں شہید ہونے والے کا ن کنوںکی مغفرت اور درجات کی بلند ی کیلئے خصوصی دعا بھی کی گئی۔

جرگے میں انکشاف ہوا کہ ضلع شانگلہ کے 80فیصد مزدور کوئلے کی کان کنی سے وابستہ ہیں،شانگلہ میں کول مائن مزدوروں کی 30 ہزار سے زائد بیوائیں اور 80 ہزار کے قریب یتیم بچے ہیںجبکہ دو سو سے زائد معذور مائن ورکرز ہیں کئی مزدور ہاتھ پائوں سے محروم یا نابینا ہو چکے ہیںجبکہ اکثر مزدور پھیپھڑوںکی بیماری میں بھی مبتلا ہو کر کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں ان میں سے کئی معذورمائن ورکرز بھیک مانگنے پر مجبور ہیں۔

پاکستان سنٹرل مائنز لیبر فیڈریشن کے مرکزی سیکرٹری جنرل سلطان محمد خان نے حکومت کو تجویز دی کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اور بیت المال کے ذریعے مائنز حادثات میں انتقال کر نے والے مائنز ورکرز کی بیوہ اورمعذور کان کنوں کیلئے ماہانہ 25 ہزار روپے پنشن مقرر کی جائے جبکہ یتیم بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کیلئے ضلع شانگلہ میں لیبر سکول اور علاج و معالجے کیلئے جدید سہولیات سے آراستہ لبیر ہسپتال بنائے جائیں ۔

مائننگ ایریاز میں بھی جدید سہولیات سے آراستہ ہسپتال ، ریسکیو سنٹر ،کان کنوں کو فوری ریسکیو کرنے کیلئے ہیلی کاپٹرز سروس متعارف کروائی جائے، حادثات کی کورٹ آف انکوائری میں مزدور نمائندوں کو شامل کرنے،مائنز پر موجود انسپکٹوریٹ کا نمائندہ (مائن سردار)کو با اختیار اور ذمہ دار بنانے سمیت کان کنوں کی سوشل سیکیورٹی ، ای او بی آئی ، مائننگ کمپنی کے پاس رجسٹریشن اور انشورنس کو یقینی بنایا جائے ۔

کول مائنز مزدوروں کے بچوں کیلئے میڈیکل وانجینئرکالجوں میں کوٹہ مقررکیا جائے،کوئلہ کان میں جاں بحق ہونے والے مزدوروں کیلئے یکساں معاوضہ مقرر کیا جائے، مائننگ کے شعبے سے حادثات کی روک تھام کیلئے ٹھیکیداری نظام ختم کرکے مائنز انسپکٹر قوانین کے مطابق روزانہ کی بنیاد مائن کی انسپکشن یقینی بنائے، مائنز ورکرز کی صحت وسلامتی یقینی بنانے کیلئے انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او )کے قوانین اور مائن ایکٹ پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button