مظلوم طبقے کے ساتھ نارواسلوک، غیر اخلاقی برتاﺅ اورطاقتور طبقے ، سیاستدانوں وڈیروں،جاگیرداروں،سرمایہ داروں ،قبضہ گروپوں، بیورو کریٹس سمیت باثرافرادکوپروٹوکول دینا اور ان کے مفادات کو تحفظ فراہم کرناجبکہ محنت کشوں، نوجوانوں ،اساتذہ ،ڈاکٹرز، نرسوںپر ڈنڈے برسانا،خواتین پر گولیاں چلانا، مدارس مساجد کے تقدس کی پامالی کرنا،جوتوں سمیت مساجد، میں داخل ہوکر علماءکو گرفتار کرکے تشدد کا نشانہ بنانا،جعلی مقابلوں میں ماﺅں سے ان کے بیٹوں،سہاگنوں سے ان کے سہاگ کو چھیننا اور طلبا ءو طالبات پر تشدد کرنا ان سب کارناموں کا سہرا صرف ایک ہی محکمے کو جاتا ہے۔جس کو ”پولیس“کہتے ہیں۔پولیس کی ذمہ داری کسی بھی معا شرے میں امن وامان قائم رکھنا اورمعاشرے کے مجبور طبقات کی مدد کرنا۔
باثر افراد کی چیرہ دستیوں سے مظلوم ہر بے کس افراد کو بچاناہے ،پولیس در حقیقت ریاست کی طرف سے ایک ایسے کام پر مامور ہوتی ہے جس طرح اللہ پاک فرشتوں کو اپنی مخلوق کی مدد کیلئے بھیجتا ہے۔ ترقی پذیر ممالک اور پسماندہ ملک جن میں پاکستان، بھارت، برما، بنگلہ دیش ، فلپائن سمیت دیگر کئی ممالک شامل ہیں میں پولیس کا کردار مہذب معاشرے کی نفی کرتا ہے۔
جاگیردار نہ سوچ وڈیرہ شاہی ، سرمایہ دارانہ ذہنیت یہ سب کچھ جس معاشرے میں ہو وہاں پولیس نام کی فورس فرشتوںجیسا نہیںبلکہ ظالموں کا روپ دھار لیتی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاںسیاست دان اپنی مر ضی سے اپنے علاقے کا تھا نیدارمقرر کرواتے ہیں۔ دنیا بھر میں پولیس امن و امان قائم رکھنے کی سلجھے ہوئے انداز میں کوشش کرتی ہے، مگر ترقی پذیر ملکوں میں اس ادارے کو حکمران غلاموں کو ان کی ”اوقات“ یاد دلاتے رہنے کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔پولیس مقابلے، لاٹھی چارج، آنسو گیس، ربڑ کی گولیاں اور چھترول پولیس والوں کے بنیادی حقوق ہیں، جمہوریت کی بنیادی روح سے نا آشنا حکمران پولیس کی مدد سے حکومت چلانے کی کوشش کرتے ہیں۔
وطن عزیز میں محکمہ پولیس کی کارکردگی صرف صاحب ثروت افرادکو حفاظت دینا اور غریبوں پرہر قسم کے قوانین کا نفاذہے۔عمومی طور پر ہم جب پولیس کے نظام کا جائزہ لیتے ہیں تو اس میں سب سے زیادہ زیر بحث نکتہ اس نظام میں سیاسی مداخلتوں، سازگار ماحول کا نہ ہونا، پولیس تشدد، جرائم پیشہ افراد اور پولیس کے درمیان گٹھ جوڑ، جرائم پیشہ افراد کی سرپرستی پر دی جاتی ہے۔ پولیس کی کارکردگی سب کے سامنے ہے کہ ظالم کو مظلوم اور مظلوم کو ظالم بنادیا جاتا ہے اسی طرح پولیس کی جانب سے ملزمان کے خلاف شواہد پیش نہ ہو پانے کیس کی پیروی نہ کرنا، اس سے بھی عدالتوں کو پھر شواہد اور حالات و واقعات کی روشنی میں ملزمان کو رہا کرنا پڑتا ہے الزام عدلیہ پر دھر دیا جاتا ہے کہ عدلیہ کا قصور ہے ،پولیس کے حوالے سے شکایات زبان زدِ عام ہیں پاکستان میں موجود تھانے جو چوروں، ڈاکوئوں، جیب کتروں اور ٹائوٹوں کیلئے تفریحی مقامات کی حیثیت رکھتے ہیں، مگر معصوم اور بے ضرر عوام کیلئے ایک ڈرائونا خواب بن جاتے ہیں۔
پاکستان کی پولیس نے اپنے لیے ایک سلوگن وضع کر رکھا ہے، یعنی ”پولیس کا ہے فرض، مدد آپ کی“حالانکہ جس مقام سے چور کامران ہو کر نکلتا ہے۔وہاں پولیس آ کر ”ڈاکو“ کا رول کرتی ہے۔ اس ڈر سے شریف شہری وارداتوں کے بعد پولیس سے رجوع نہیں کرتے کیونکہ پولیس والے اپنی بہترین تفتیش میں جرم کا سرا کھینچ کرمدعی کے گھر کی طرف ہی لے آتے ہیں اور پھر مدعی کو بدترین تشدد کے ذریعے انصاف مہیا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔انصاف کی فراہمی کے اس عمل میں پاکستان کی پولیس کو مہارت حاصل ہے چنانچہ وہ عام شہریوں کو برہنہ کرتے الٹا لٹکا کر چھترول کرنے، چنڈا، کنڈا، کڑا اور منجی لگانے، رولر پھیر کر ٹانگوں کی ہڈیاں توڑتے اور خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے جیسے کامیاب طریقے استعمال کرنے سے بالکل گریز نہیں کرتی۔
دنیا میں آج کے جدید دور میں پولیس کے نظام کو موثر او راس نظام میں شفافیت کو پیدا کرنے کیلئےنئے نئے جدید طریقے اختیار کیے جا رہے ہیں۔ ان میں کمیونٹی پولیس، ٹیکنالوجی کا استعمال، شہریوں اور پولیس کے نظام میں اعتماد کی بحالی کیلئے نئے طور طریقے، مقدمہ کی تفتیش کے لیے جدید طریقہ کار، اسی طرح بے جا پولیس تشدد کی بجائے نفسیاتی طور پر ملزموں سے تفتیش کا نظام شامل ہے پاکستان میں پولیس ریفارمز پر ماضی میں بہت گفتگو ہوئی ہے، 2002 کے پولیس آرڈر میں اس حوالے سے ایک اہم کوشش کی گئی تھی مگر یہ بھی نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئی۔
پولیس اور عوام کے درمیان موجود اجنبیت اور عدم اعتماد کی خلیج برقرار رہی، عوام کو ہمیشہ سے پولیس سے احساس تحفظ کے بجائے خوف محسوس ہوتا تھا، یہ مسئلہ آج بھی موجود ہے جسے حل کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔پولیس میں اصلاحات لانے کے حوالے سے کمیونٹی پولیسنگ کے تصور کو کبھی بروئے کار نہیں لایا گیا، عوام اور پولیس دو مختلف جزیرے ہیں جو ایک دوسرے سے فاصلے پر موجود ہیں، ان کے درمیان مستقل رابطہ قائم کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔ اس کے برعکس دنیا میں کمیونٹی پولیسنگ کا تصور کامیابی سے چل رہا ہے جس میں پولیس اور عوام ایک دوسرے سے اس طرح جڑے ہوتے ہیں کہ جرائم پیشہ طبقے کو اس میں اپنا وجود برقرار رکھنا دشوار ہو جاتا ہے۔
پاکستان میں محکمہ پولیس میں اصلاحات کے حوالے سے یہ پہلا نکتہ پر جس پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے، جرائم کے خلاف جب تک پولیس اور عوام کے درمیان باہمی تعاون شروع نہیں ہوتا، نہ ہی اس بنیادی ادارے کی کارکردگی بہتر ہو گی اور نہ ہی عوام کا عدم اعتماد ختم ہو پائے گا، ایسی صورتحال ہمیشہ جرائم پیشہ افراد کیلئے مثالی ہوتی ہے۔ پولیس ریاست کا بنیادی ادارہ ہوتا ہے پولیس کے بغیر کوئی ریاست نہیں چل سکتی۔ پولیس کا بنیادی کام امن و امان کو قائم رکھنا اور جرائم پر کنٹرول پانا ہوتا ہے جب تک پولیس کے اوپر عوام کا چیک نہیں ہوگا پولیس کسی صورت جرائم پر قابو نہیں پا سکے گی اور ہر حکومت کو امن و امان کے قیام کے لیے فوج پر انحصار کرنا پڑے گا جس کی وجہ سے فوج کی مداخلت سول امور میں بڑھ جاتی ہے اور جمہوری حکومتیں کمزور پڑنے لگتی ہیں۔ پاکستا ن کے سیاستدان اگر جمہوریت کو مستحکم کرنا چاہتے ہیں پارلیمنٹ کی بالادستی کو قائم رکھنا چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ فوج اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کرے تو حکمرانوں کو پولیس کے محکمہ میں فوری طور پر ریفارمز کرنی ہوں گی۔
لندن پولیس کی طرز پر پاکستان کے ہر بڑے شہر میں میٹرو پولیٹن پولیس قائم کی جائے جو آزاد اور خود مختار ہو۔ وردیاں تبدیل کرنے سے تھانہ کلچر تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ پولیس اور عوام کے درمیان بداعتمادی کو ختم کرنا پڑے گا۔ جس کی واحد صورت یہ ہے کہ پولیس کو عوام کے تابع کر دیا جائے۔ جب تک پولیس عوام دوست نہیں ہوگی۔ گڈ گورننس کو یقینی نہیں بنایا جا سکتا اور نہ ہی پاکستان کو ترقی اور خوش حالی کی راہ پر ڈالا جا سکتا ہے جس ریاست میں آئین اور قانون کی حکمرانی نہ ہو وہاں پر سرمایہ کاری نہیں ہو سکتی۔ آئین اور قانون کی حکمرانی یقینی بنا نے کیلئے غیر سیاسی پولیس لازمی ہوتی ہے۔



