بلاگپاکستانتازہ ترینتعلیم/ادبکالم

بند آنکھوں کے پیچھے

ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی

"بند آنکھوں کے پیچھے” بالکل میری آنکھوں کے سامنے ٹیبل پر پڑی ایک خوبصورت آپ بیتی ہے جو کہ یادوں کے دریچوں سے جھانکتی ایک تہذیبی داستان بھی ہے جس کے مصنف فیروز ناطق خسرو ہیں یہ ان کی خودنوشت سوانح عمری ہے۔ یہ کتاب اردو کی بہترین خودنوشتوں میں سے ایک ہے۔ فیروز ناطق لکھتے ہیں کہ
بند آنکھوں کے پیچھے بھی اک دنیا ہے آباد
بند آنکھیں میں کرکے پہروں گھوما کرتا ہوں

کتاب کے ابتدائیہ میں مصنف لکھتے ہیں کہ
"آنکھیں بند کر کے بیتی ہوئی زندگی پر نظر کی تو واقعات کا ایک سمندر موجیں مارتا نظر آیا ۔ سوچا کہ اس میں غواصی کرنا آسان نہیں ہوگا ۔ تہ سے موتیوں کے ساتھ کنکر بھی سمٹ آئیں گے۔ ستر پچھہتر سال پر محیط مواد کی چھان پھٹک کے لیے وقت درکار ہوگا۔ بونس پر گزرنے والی زندگی کب تک وفا کرے گی”۔

اردو ادب میں خودنوشت اور آپ بیتی نگاری کی روایت نہایت قدیم اور معتبر ہے۔ اس صنف نے محض افراد کی زندگیوں کو محفوظ نہیں کیا بلکہ مختلف ادوار کی تہذیب، معاشرت، تاریخ، انسانی رویوں اور فکری ارتقا کو بھی اپنے دامن میں سمیٹا ہے۔ مجھ جیسے نقاد کی نظر میں ایک کامیاب آپ بیتی وہی ہوتی ہے جو ذاتی زندگی کے احوال سے آگے بڑھ کر اپنے عہد کی اجتماعی یادداشت بن جائے۔ معروف شاعر، ادیب، استاد اور دانشور فیروز ناطق خسرو کی خودنوشت “بند آنکھوں کے پیچھے” اسی روایت کی ایک اہم کڑی ہے۔
پروفیسر سحر انصاری رقمطراز ہیں
"دنیا بھر میں آپ بیتیوں کو بہت پسند کیا جاتا ہے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ شاید صاحب سوانح پسندیدہ شخصیت ہو۔ پھر حقائق کا اظہار رواں اور شستہ زبان میں ہوتا ہے تو فکشن کا سا لطف پیدا ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ایک تہذیب، ایک تاریخ اس بہانے مرتب ہو جاتی ہے”۔

یہ کتاب ایک ایسے حساس تخلیق کار کی داستانِ حیات ہے جس نے آٹھ دہائیوں پر پھیلے ہوئے زندگی کے سفر، ہجرت کے کرب، خاندانی روایات، علمی و ادبی وابستگیوں، سماجی مشاہدات اور انسانی رشتوں کی حرارت کو نہایت سادگی اور سچائی کے ساتھ من و عن بیان کیا ہے۔

ناطق خسرو لکھتے ہیں
"ایک دن ٹرین سے قبل جب ہم سب بچے پتھر چن رہے تھے۔ ایک شخص ڈنڈا لیے ہماری طرف دوڑتا نظر آیا۔ سب بھاگے۔ ہمارا گھر قریب تھا ہم نے بھی دوڑ لگائی ۔ وہ شخص ڈنڈا ہلا ہلا کر پتہ نہیں کیا کیا کہہ رہا تھا”

فیروز ناطق خسرو نے اپنی آپ بیتی کے ابتدائیہ میں ایک شاعر کی لطافت اور ایک عمر رسیدہ انسان کی بصیرت کے ساتھ اپنی تخلیقی تحریک کا اظہار کیا ہے:
“پورا ہو اس سے پہلے کہ یہ زندگی کا باب ہو جائے
کچھ تو عمرِ گزشتہ کا بھی حساب ہو جائے”
یہ شعر دراصل پوری کتاب کا پیش لفظ ہے۔ اسی برس کی عمر مکمل کرنے کے بعد جب مصنف ماضی کے دریچوں میں جھانکتا ہے تو اسے واقعات کا ایک ایسا امڈتا ہوا اور ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر نظر آتا ہے جس کی تہہ میں خوشیوں کے موتی بھی ہیں اور آزمائشوں کے کنکر بھی۔ اس استعاراتی اندازِ بیان سے واضح ہوتا ہے کہ مصنف زندگی کو یک رخے انداز میں نہیں دیکھتا بلکہ اس کے تمام رنگوں کو قبول کرتا ہے۔
ان کا یہ جملہ کہ “بونس پر گزرنے والی زندگی کب تک وفا کرے گی” انسان کے احساسِ فنا اور وقت کی بے رحمی کا گہرا اظہار ہے، لیکن اسی احساس کے باوجود قلم اٹھانے کا فیصلہ ان کے تخلیقی عزم کی علامت ہے۔ وہ یادداشت کے سہارے ماضی کے سفر پر روانہ ہوتے ہیں اور واقعات کو اس طرح بیان کرتے ہیں جیسے کسی فلم کی ریل نگاہوں کے سامنے چل رہی ہو۔

عرفان مرتضٰی لکھتے ہیں
"ہر ورق پلٹے ہوئے میں سوچتا کہ چلو اس ورق پر ایک گلاب رکھ دوں۔ لیکن ورق پلٹتے ہی ارادہ بدل جاتا کہ دوسرے ورق پر بکھرے الفاظ اپنی بھر پور توانائی اور جذبات و احساسات سے پر اپنے ہونے کا اعلان کرتے دکھائی دیتے ۔“

“بند آنکھوں کے پیچھے” کا سب سے اہم تاریخی پہلو تقسیمِ ہند کے بعد کی ہجرت اور اس سے وابستہ انسانی جذبات کی تصویر کشی ہے۔ فیروز ناطق خسرو 19 نومبر 1944ء کو ہندوستان کے معروف علمی و ادبی شہر بدایوں میں پیدا ہوئے، جسے “مدینۃ الاولیاء” اور شعر و ادب کے ایک معتبر مرکز کی حیثیت حاصل ہے۔
1948ء میں ان کے والد، معروف شاعر حضرت ابوالحسنین ناطق بدایونی، اہلِ خانہ کے ساتھ پاکستان ہجرت کر آئے۔ اس وقت مصنف کی عمر صرف چار برس تھی، لیکن بچپن کے مناظر ان کے حافظے پر اس شدت سے ثبت ہیں کہ قاری خود کو اس زمانے کی گلیوں اور فضاؤں میں محسوس کرتا ہے۔

ڈاکٹر ارشاد رضوی رقمطراز ہیں
"وہ ہنر کی اس منزل پر ہیں جہاں طاقچے دیواروں سے منہ کھولے بجھا سکتے ہیں اور وہ ان میں الگ الگ شبیہ کا دیا جلاتے جاتے ہیں جس کی تپش سے سر پھرا ہوا دن دھوپ سا روشن لگنے لگتا ہے۔ میرے شاعر دوست شاید کہانی کو پسند آگئے کہ شاعری تو انہیں پہلے سے ہی پسند کر چکی ہے کہ وہ محبوب شخصیت کے مالک ہیں اور لکھنے کے ہنر سے واقف ہیں ۔“

لاہور میں ریل کی پٹڑی کے قریب گزرا بچپن، گزرتی ہوئی ٹرین کی دھڑ دھڑاہٹ، بچوں کا پٹڑی پر پتھر رکھ کر انہیں پِس کر آٹے کی مانند دیکھنا، ہم عمر بچوں کے ساتھ کھیل اور پھر لائن مین کی ڈانٹ، یہ تمام واقعات محض بچپن کی شرارتیں ہی نہیں بلکہ ایک مہاجر بچے کے ذہنی اور جذباتی نقشے کی تشکیل کا حصہ بھی ہیں۔
خاص طور پر وہ منظر جب ایک رات والد اپنے وطن میں موجود والدہ کی وفات کی خبر سن کر دیواروں سے سر ٹکرا کر گریہ کرتے ہیں، ہجرت کے اس درد کی نمائندگی کرتا ہے جسے لاکھوں خاندانوں نے تقسیمِ ہند کے بعد محسوس کیا۔ یہ چند سطور ایک پورے تاریخی المیے کی علامت بن جاتی ہیں۔
ثریا حافظ لکھتی ہیں
"بلا کا حافظہ رکھنے والے مصنف نے اپنی زندگی کی روداد کو فیس بک پر بھی قسط وار پیش کیا جسے قارئین نے بہت سراہا۔ احباب کی اس میں دلچپی دیدنی تھی۔ واقعاتی تسلسل کے ساتھ لکھی گئی تجس سے بھری کہانی کی سب سے بڑی خصوصیت اس کی سچائی ہے۔ اس کہانی کا ہر ہر ورق آپ کے مزاج اور کردار شناسی میں مدد دیتا ہے۔“
پروفیسر سحر انصاری رقمطراز ہیں
"خسرو صاحب ایک علمی اور تہذیبی شخصیت ہیں۔ قادر الکلام شاعر ہیں۔ غزل نظم اور رثائی شاعری کی تخلیق ایک معیار کے ساتھ کرتے رہے ہیں۔ شعر گوئی کا ملکہ ایسا ہے کہ وہ چاہتے تو اپنی سوانح عمری منظوم صورت میں بھی پیش کر سکتے تھے۔“

فیروز ناطق خسرو کو ادبی ذوق ورثے میں ملا۔ ان کے والد ناطق بدایونی خود ایک مایہ ناز شاعر تھے۔ یہی وجہ ہے کہ زبان کی شائستگی، بیان کی لطافت اور شعری احساس ان کی شخصیت کا حصہ بن گئے۔
پروفیسر جاذب قریشی بجا طور پر لکھتے ہیں کہ خسرو کا اسلوب کسی بڑے شاعر کی تقلید نہیں بلکہ ان کی اپنی شخصیت کا آئینہ دار ہے۔ وہ زبان و بیان کے اسرار سے آگاہ ہیں اور ان کی تخلیقی شناخت منفرد ہے۔
پروفیسر سحر انصاری بھی انہیں ایک علمی و تہذیبی شخصیت قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ان کے پاس ایسی شعری قدرت موجود ہے کہ اگر وہ چاہتے تو اپنی سوانح عمری کو منظوم شکل میں بھی پیش کر سکتے تھے۔ یہ تبصرہ ان کی فنی استعداد کا واضح اعتراف ہے۔

ڈاکٹر پیر زادہ قاسم رضا صدیقی لکھتے ہیں
"میں پورے یقین کے ساتھ کہتا ہوں اس لیے کہ میں خود شعراء و ادبا کے اس حلقے میں شامل ہوں اگر آپ کو پورے زمانے اور ہمارے پاکستان میں بھی کوئی شائستہ علیم الطبع، وقت اور اپنے زمانے کے ساتھ انصاف کرنے والا حق کو حق اور سچ کو سچ کہنے والا اور اس کی ترویج کرنے والا دیکھنا ہو تو آپ فیروز ناطق خسرو کود یکھ لیں۔“

“بند آنکھوں کے پیچھے” کی سب سے نمایاں خوبی اس کی بے ساختگی اور سچائی ہے۔ مصنف نے نہ تو خود ستائی کا سہارا لیا ہے اور نہ واقعات کو مصنوعی رنگ دینے کی کوشش کی ہے۔ وہ ایک دیانت دار راوی کی طرح اپنی کامیابیوں، کمزوریوں، جذبات اور مشاہدات کو پیش کرتے ہیں۔
ثریا شاہد کے مطابق اس کتاب کا ہر ورق مصنف کے مزاج، کردار اور شخصیت کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس خودنوشت کا سب سے بڑا حسن یہی صداقت ہے جو قاری اور مصنف کے درمیان ایک روحانی تعلق پیدا کرتی ہے۔
زبان سادہ، رواں اور عام فہم ہے، لیکن اس سادگی میں ادبی چاشنی موجود ہے۔ چھوٹے چھوٹے واقعات کو اس انداز سے پیش کیا گیا ہے کہ وہ محض ذاتی یادیں نہیں رہتیں بلکہ اجتماعی تجربے کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔

پروفیسر جاذب قریشی لکھتے ہیں
"فیروز خسرو نے بہت سا تخلیقی کام کیا ہے جسے وہ کئی کتابوں میں ترتیب دے رہے ہیں۔ وہ بزرگ شاعر ناطق بدایونی کے بیٹے ہیں اور انہیں سے زبان و بیان کی تربیت بھی حاصل کی ہے۔ یہی سبب ہے کہ خسرو کو لسانی حوالے سے کم ہی گرفت میں لایا جا سکتا ہے۔ خسرو کا اسلوب نہ تو غالب کی طرح ہے نہ میر کی طرح بلکہ خسرو کا طرز بیان خود اُس کی شخصیت سے ہم آہنگ ہے اور اس کے تخلیقی چہرے کی پہچان کراتا ہے۔“
فیروز ناطق خسرو کی یہ کتاب ان کی چودھویں تصنیف ہے۔ اس سے قبل وہ تیرہ کتابیں شائع کر چکے ہیں۔ حلقۂ اربابِ تخلیق کے ذمہ دار طارق جمیل کے مطابق ادارے کے لیے یہ باعثِ اعزاز ہے کہ اس نے ان کی اس اہم تصنیف کو زیورِ طباعت سے آراستہ کیا۔
یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ کتاب کی ابتدائی قسطیں سوشل میڈیا پر شائع ہوئیں اور قارئین کی بھرپور توجہ حاصل کی۔ یہ پذیرائی اس امر کا ثبوت ہے کہ فیروز ناطق خسرو کی زندگی کی داستان محض ان کی ذاتی کہانی ہی نہیں بلکہ ایک عہد کی یادوں کا سرمایہ بھی ہے۔

خسرو کی آپ بیتی “بند آنکھوں کے پیچھے” کی سب سے بڑی قوت اس کی سچائی، تہذیبی شعور اور تاریخی آگہی ہے۔ البتہ ایک سنجیدہ قاری کے لیے یہ خواہش باقی رہتی ہے کہ بعض تاریخی اور ادبی واقعات پر مصنف مزید تفصیل سے روشنی ڈالتے تاکہ کتاب اپنے عہد کی سماجی تاریخ کا اور بھی جامع حوالہ بن جاتی۔
اس جملہ متعرضہ کے باوجود یہ خودنوشت اپنی فنی صداقت، جذباتی تاثیر اور ثقافتی اہمیت کے باعث اردو کی قابلِ قدر خودنوشتوں میں شمار کیے جانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

“بند آنکھوں کے پیچھے” صرف فیروز ناطق خسرو کی زندگی کا بیان ہی نہیں، بلکہ ایک خاندان، ایک ہجرت، ایک تہذیب، ایک ادبی روایت اور ایک عہد کی زندہ تصویر بھی ہے۔ اس کتاب میں بچپن کی معصوم یادیں، تقسیمِ ہند کا درد، والدین کی محبت، ادبی تربیت، علمی سفر اور انسانی تعلقات کی خوشبو ایک ساتھ محسوس ہوتی ہے۔
فیروز ناطق خسرو نے بند آنکھوں سے ماضی کے دریچوں کو وا کیا تو یادوں کے وہ چراغ روشن ہوئے جن کی روشنی آنے والی نسلوں کو نہ صرف اپنے ماضی سے آگاہ کرے گی بلکہ انہیں یہ احساس بھی دلائے گی کہ زندگی کی اصل دولت صرف گزرا ہوا وقت نہیں بلکہ اس وقت سے حاصل ہونے والے تجربات، اقدار اور انسانی رشتے ہیں۔ یہی اس خودنوشت کی سب سے بڑی ادبی اور فکری کامیابی ہے۔ میں کتاب کی اشاعت پر مصنف کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button