انٹر نیشنلپاکستانتازہ ترینکاروبار

برین ڈرین کوبرین گین میں تبدیل،پاکستان یوتھ فارن انویسٹمنٹ کونسل بنائی جائے:اسد شمیم

سرمایہ کاری،رہنمائی، ٹیکنالوجی،شراکت داری اور عالمی منڈیوں تک رسائی فراہم کر سکتے ہیں:پاکستانی نژاد برطانوی بزنس مین

لاہور:(محمد قیصر چوہان)پاکستانی نژاد برطانوی بزنس مین ،بانی و سی ای او فرنیچر اِن فیشن اور او ایم انٹرنیشنل کے چیئرمین ایڈوائزری بورڈاسد شمیم نے پاکستان کو ایشین ٹائیگر بنانے کے حوالے سے وفاقی حکومت کو ’پاکستان یوتھ فارن انویسٹمنٹ کونسل‘ بنانے کی تجویز دیدی۔
سی این این اردوکو خصوصی انٹرویومیں اسد شمیم نے کہا ہے کہ  پاکستان کو ’برین ڈرین‘ (ذہین افراد کے انخلا) کو ’برین گین‘(ذہین افرادی قوت کے حصول)میں بدلنا ہوگا،پاکستان میں صلاحیت، عزم اور کاروباری جذبے کی کوئی کمی نہیں ہے،پاکستان کو جس چیز کی ضرورت ہے، وہ نوجوانوں اور عالمی سطح پر موجود مواقع کے درمیان ایک مضبوط رابطہ قائم کرنا ہے ۔
انہوں نے کہا اسی لیے میں ’پاکستان یوتھ فارن انویسٹمنٹ کونسل‘کے قیام کی تجویز پیش کر رہا ہوں، یہ ایک ایسا قدم ہے جس کا مقصد پاکستان کے نوجوان کاروباری افراد کو عالمی سرمایہ، ٹیکنالوجی، مہارت اور بین الاقوامی منڈیوں سے منسلک کرنا ہے۔
 پاکستانی نژاد برطانوی بزنس مین اسد شمیم نے کہا کہ پاکستان کے پاس دو غیر معمولی اثاثے ہیں،اس کے نوجوان اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانی،برطانیہ، متحدہ عرب امارات، مشرقِ وسطیٰ، یورپ، شمالی امریکہ، آسٹریلیا سمیت دیگر ممالک میں مقیم پاکستانیوں نے کامیاب کاروبار، کیریئر اور بین الاقوامی نیٹ ورکس قائم کیے ہیں۔
پاکستان کیلئے ہمارا کردار محض ترسیلاتِ زرتک محدود نہیں رہنا چاہیے،ہم سرمایہ کاری،رہنمائی، ٹیکنالوجی،شراکت داری اور عالمی منڈیوں تک رسائی فراہم کر سکتے ہیں،پاکستان یوتھ فارن انویسٹمنٹ کونسل ایک قابل بھروسہ اور شفاف پل بنا سکتا ہے جو اُمید افزا پاکستانی بزنس کو بیرون ملک مقیم پاکستانی سرمایہ کاروں، خاندانی دفاتر، وینچر کیپیٹل، ملٹی نیشنل کمپنیوں اور بین الاقوامی اسٹریٹجک شراکت داروں سے جوڑ سکتا ہے۔
بانی و سی ای او فرنیچر اِن فیشن اسد شمیم نے بتایا کہ میں برطانیہ میں اُس مہم کا حصہ رہا جس نے 1929 کے اُن ضوابط کو تبدیل کرنے میں مدد دی جن کی وجہ سے ذیابیطس کے شکار پیشہ ور باکسرز کو پیشہ ورانہ باکسنگ کا لائسنس حاصل کرنے سے روک دیا جاتا تھا،میں اسی عزم کے ساتھ پاکستان کی اگلی نسل کیلئے مواقع پیدا کرنے کے عمل میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتا ہوں۔
ایک برطانوی پاکستانی کاروباری شخصیت کی حیثیت سے میں پاکستان کیلئے مواقع کے دروازے کھولنے میں مدد کی خاطر اپنے بین الاقوامی کاروباری تجربے، تعلقات اور نیٹ ورکس کو بروئے کار لانے کیلئے تیار ہوں۔
 او ایم انٹرنیشنل کے چیئرمین ایڈوائزری بورڈاسد شمیم نے کہا کہ میرا ویژن ہے کہ ذہانت کے انخلاءسے ذہانت کے حصول کی جانب،ترسیلاتِ زر سے سرمایہ کاری کی جانب،پاکستانی ٹیلنٹ سے عالمی کاروباری اداروں کی جانب،پاکستان کے پاس ٹیلنٹ بھی ہے اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی افرادی قوت بھی،اب ہمیں انہیں آپس میں جوڑنا ہے اور ایک ایسا قابل اعتماد اور شفاف طریقہ کار بنانا ہے جس کے ذریعے پاکستان کی نوجوان نسل کی رہنمائی کی جا سکے۔
Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button