
اسلام آباد:(ویب ڈیسک)بانی پی ٹی آئی عمران خان سے بہنوں سمیت دیگر کی ملاقات اور ذاتی معالجین تک رسائی کے کیس میں سپریم کورٹ نے عمران خان کو اسلام آباد کے الشفا اسپتال منتقل کرنے جبکہ عظمی خان اور ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان کی ملاقات کروانے کا حکم دے دیا۔کارکنوں نے عدالتی فیصلہ کے بعد جشن منایا خوشی کا اظہار کیا۔
جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دیے کہ میڈیکل رپورٹس کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی نبض نارمل ہے اور نہ ہی دل۔ دوران سماعت وکیل نے جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو نہ کرنے کی یقین دہانی بھی کروائی تھی۔
کیس کی سماعت شروع ہوئی تو وکیل عزیر بھنڈاری نے استدعا کی کہ بانی کے ذاتی معالج ڈاکٹر عاصم یوسف اور عظمی خان سے ملاقات کروائی جائے، انہوں نے یقین دہانی بھی کروائی کہ ملاقات کے بعد میڈیا ٹاک نہیں کریں گے۔
جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دیے کہ میڈیکل رپورٹس کے مطابق بانی کے جیل میں اعضا متاثر ہونا شروع ہوگئے ہیں، رپورٹس کے مطابق دل کا بھی مسئلہ ہے اور ذہنی اضطراب کا شکار ہیں۔
جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیے کہ بانی کی بیماری پر سیاست نہ کریں بلکہ بانی کی بہتری کی بات کریں۔کیس کی سماعت میں مختصر وقفے کے بعد سماعت شروع ہوئی تو جسٹس شاہد وحید نے استفسار کیا کہ بانی پی ٹی آئی کا میڈیکل ریکارڈ دینے میں کیا مسئلہ ہے؟ جو مواد دیا گیا ہے وہ صرف میڈیکل رپورٹ کی سمری ہے۔
سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کا تمام میڈیکل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے آئندہ سماعت سے قبل تمام ریکارڈ جمع کروانے کی ہدایت کر دی۔جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دیے کہ ریکارڈ عدالت میں آئے گا تو وہ خفیہ نہیں رہے گا، بہنوں کی ملاقات کے حوالے سے کیا کہتے ہیں۔
ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے بتایا کہ اگر کوئی قانون کی خلاف ورزی کرے گا تو ملاقات نہیں ہوگی۔ جسٹس شاہد وحید نے استفسار کیا کہ اگر وہ قانون کی خلاف ورزی کر رہے ہیں تو آپ بھی کریں گے؟ بہنوں سے ملاقات کوئی احسان نہیں ان کا بنیادی حق ہے اور ریاست کا کام نہیں کہ قانون کی خلاف ورزی کرے، اسلام آباد ہائیکورٹ کی ہدایات پر عمل کیوں نہیں ہو رہا۔
ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے جواب دیا کہ بہنوں کی تین سال میں 48 ملاقاتیں کروائی گئی ہیں۔ سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی سے بہنوں کی ملاقاتوں کی تمام تفصیلات طلب کر لیں، تین سال میں ہونے والی ملاقاتوں کا ریکارڈ طلب کیا گیا جبکہ عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی بچوں سے بات کروانے کا ریکارڈ بھی مانگ لیا۔
وکیل عذیر بھنڈاری کی جانب سے بہنوں کی ملاقات کے بعد میڈیا ٹاک نہ کرنے کی یقین دہانی پر جسٹس نعیم افغان نے ریمارکس دیے کہ ایک بات طے کر لیں کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت پر سیاست نہیں کرے گی۔عدالت نے کیس کی سماعت کے دوران عظمی خان کو بات کرنے سے روک دیا۔
جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ آپ کے وکیل موجود ہیں بات نہ کریں۔وکیل عزیر بھنڈاری نے دلائل دیے کہ بانی کا بلڈ کلاڈ کیوں ہوا اس کی وجہ سامنے آنی چاہیے۔
جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیے کہ بانی پی ٹی آئی کے مقدمات کی مکمل تفصیل دیں، بانی کتنے مقدمات میں انڈر ٹرائل قیدی ہیں، تفصیل دیں، بانی کتنے کیسز میں سزا یافتہ ہیں؟ کتنے کیسز میں سزا معطل ہو چکی، تفصیل دیں۔
وکیل عزیر بھنڈاری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ 1979 میں جو کچھ ہوا نہیں چاہتے دوبارہ ہو۔جسٹس شاہد وحید نے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کا مکمل میڈیکل ریکارڈ دینے میں کیا ممانعت ہے، ہمیں بانی پی ٹی آئی کا مکمل ریکارڈ دیں، سمری نہیں چاہیے۔
جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیے کہ آپ کی رپورٹ میں لکھا ہوا انجیو گرافی کروانی ہے، کیا جیل میں انجیو گرافی ہو سکتی ہے۔ ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے جواب دیا کہ باہر اسپتال سے ہو سکتی ہے۔
عدالت نے بانی کی بیٹوں کے ساتھ ملاقات کی تفصیل اور سی ڈی آر طلب کرتے ہوئے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کو 3 سال کی ملاقاتوں کی تفصیل فراہم کرنے کی ہدایت کر دی۔جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دیے کہ کسی درخواست گزار نے بانی کا چیک اپ کرنے والے ڈاکٹرز کی اہلیت پر سوال نہیں اٹھایا۔
وکیل عزیر بھنڈاری نے کہا کہ یقین دہانی کراتے ہیں ڈاکٹر عظمی خان اور ڈاکٹر عاصم یوسف میڈیا سے گفتگو نہیں کریں گے۔ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ یہ معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں انٹرا کورٹ اپیل کی صورت میں زیر التوا ہے۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے بتایا کہ ہمیں ابھی تک نوٹس نہیں ہوا، جس پر جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دیے کہ پھر آپ ہمارے سامنے کھڑے ہوکر بات کیوں کر رہے ہیں۔سماعت سے قبل سپریم کورٹ پہنچنے والے وزیر اعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا تھا کہ ہمیں عدالتوں سے امید ہے اور بانی کو عدالتوں کے ذریعے ہی رہا کروائیں گے۔

دریں اثنا سپریم کورٹ نے عمران خان کو علاج کے لیے نجی اسپتال منتقل کرنے، اہل خانہ اور ذاتی معالج سے ملاقاتوں کا حکم دیا تھا جس پر عمل درآمد شروع ہوگیا، آج ہمشیرہ نورین نیازی کی عمران خان سے ملاقات کرادی گئی۔
عمران خان سے ملاقات کے لیے علیمہ خان، نورین خان اور دیگر اڈیالہ جیل پہنچے، نورین نیازی جیل کے اندر روانہ ہوئیں۔
عمران خان اور اور نورین نیازی کی کانفرنس روم میں ملاقات کرادی گئی۔ ملاقات میں دونوں بہن بھائی نے صحت اور دیگر امور پر گفتگو کی۔
جیل ذرائع کے مطابق نورین نیازی نے عمران خان کو سپریم کورٹ کے فیصلے سے آگاہ کیا۔
علیمہ خان نے کہا کہ ملاقات کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتی، آج نورین کی ملاقات ہو گئی یہ بونس ہے، ملاقات پر اتنی خوشی ہے آپ سوچ بھی نہیں سکتے، میں کہاں سے مٹھائی لاتی، سپریم کورٹ سے اے ٹی سی پنڈی پیش ہوئی۔
صحافی نے سوال کیا کہ کوئی اشارہ ملا ہے کہ حالات تبدیل ہو رہے ہیں؟ اس پر انہوں نے کہا کہ ہمیں کہاں سے اشارہ ملنا ہے، آپ کا مطلب یہ ملاقات ہے؟ ہاں اکھٹا ہی بہت کچھ ہوگیا ہمیں ابھی تک غیر یقینی سی ہے۔
بانی پی ٹی آئی عمران خان کی جیل میں بشری بی بی سے بھی ملاقات کرادی گئی۔ بانی اور بشری بی بی کی ملاقات 30 منٹ تک جیل کانفرنس روم میں جاری ہی۔ ملاقاتوں کے بعد عمران خان کو واپس کمپاؤنڈ منتقل کردیا گیا۔
علیمہ خان نے کہا کہ دونوں کو دونوں کو ضمانت ملنی چاہیے، بشریٰ بی بی کے خلاف الزامات کمزور ہیں اور انہیں پہلے ہی ریلیف مل جانا چاہیے تھا، انصاف ملے گا تو تنقید نہیں ہوگی، ماضی میں عدالتوں کے فیصلوں پر تنقید انصاف نہ ملنے کی وجہ سے ہوئی۔
اپنے مقدمے سے متعلق انہوں نے بتایا کہ انسداد دہشت گردی عدالت میں ابھی ان کی جانب سے گواہ پر جرح ہونا باقی ہے۔



