انٹر نیشنلپاکستانتازہ ترینجرم-وسزا

ایران کے اسرائیل،امریکہ پر حملے تیز،ٹرمپ کا سیز فائر کا دعویٰ،تہران نے جھوٹا قراردے دیا

ٹرمپ نے نیٹو کو کا غذی شیر قرار دیدیا، برطانیہ کو ایران جنگ میں گھسیٹنے نہیں دیں گے: برطانوی وزیراعظم،ایران کے امریکی ، اسرائیلی اہداف پر حملے

تہران، واشنگٹن: ( ویب ڈیسک )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو پتھروں کے دور میں بھیجنے کی دھمکی دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے امریکہ سے جنگ بندی کی درخواست کی ہے۔اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پوسٹ میں ٹرمپ نے لکھاکہ نئی ایرانی حکومت کے صدر اپنے پیش روؤں کے مقابلے میں کہیں کم انتہا پسند اور کہیں زیادہ ذہین ہیں۔ انھوں نے ابھی ابھی امریکہ سے کہا ہے کہ جنگ بند کر دی جائے۔ہم اس پر تب غور کریں گےجب آبنائے ہرمز کھلے گی اور رکاوٹوں سے پاک ہو گی۔امریکی صدر نے اپنی پوسٹ میں مزید لکھا کہ (جب تک آبنائے ہرمز نہیں کھلتی) اس وقت تک ہم دھماکے کر کے ایران کو فنا کرنے کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ واپس پتھر کے دور میں بھیج دیں گے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں امریکہ کو نیٹو سے نکالنے پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہوں۔امریکی صدر نے دفاعی اتحاد کو کاغذی شیر قرار دے دیا۔ٹرمپ نے کہا میں سنجیدگی سے اس پر غور کر رہا ہوں کہ امریکہ نیٹو سے علیحدہ ہو جائے۔میں کبھی بھی نیٹو سے متاثر نہیں ہوا، میں ہمیشہ سے جانتا تھا یہ ایک کاغذی شیر ہے، پیوٹن بھی یہ جانتے ہیں۔ٹرمپ نے اپنے موقف کو ایران اور آبنائے ہرمز سے متعلق حالیہ کشیدگی سے جوڑتے ہوئے کہا کہ ان معاملات میں اتحادی ممالک کی جانب سے مطلوبہ حمایت نہیں ملی۔ان کا یہ بھی کہنا تھا اس صورتِحال نے عالمی توانائی کی ترسیل کو بھی متاثر کیا ہے۔

اپنے آفس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاہم جلد ہی ایران سے نکل جائیں گے، ایران میں پہلے ہی رجیم تبدیل کر چکے ہیں، امریکہ دو سے تین ہفتوں میں ایران سے نکل جائے گا، ممکنہ طور پر اس سے پہلے ڈیل ہو سکتی ہے۔اگر فرانس اور دیگر چند ممالک تیل اور گیس چاہتے ہیں تو وہ آبنائے ہرمز جائیں گے، میرا خیال ہے وہ اپنا دفاع کرسکیں گے۔ آبنائے ہرمز میں جو کچھ ہوگااس سے ہمارا کوئی لینا دینا نہیں ہوگا، انہیں اپنی حفاظت خود کرنا ہوگی، کوئی وجہ نہیں ہم ان کی حفاظت کریں۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا لوگ مجھ پر بادشاہ ہونے کا الزام لگاتے ہیں، بتائیں یہ لوگ پچھلے چار سال کے دوران کیا کرتے رہے؟انہوں نے کہا وہ چاہتے ہیں بارڈر کھلے رکھیں اور کریمنلز امریکہ میں داخل ہوں، مخالفین نے25 ملین لوگوں کو امریکہ داخل ہونے دیا۔

امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ وائٹ ہائوس کی حفاظت کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں، وائٹ ہائوس میں بہت سے کام کرائے، پیسے چند بڑی کمپنیوں اور امیر افراد نے دیے۔ایران نے امریکی صدر کا جنگ بندی کی درخواست کا دعویٰ مسترد کر دیا۔ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایران نے سیز فائر کے لیے کسی کو درخواست نہیں دی، ایران سے منسوب5 نکاتی مبینہ منصوبہ قیاس آرائی ہے، نقصانات کے ازالے تک جنگ اورجارح کو سزا دیتے رہیں گے۔

ایرانی وزارت خارجہ نے بھی جنگ بندی کی درخواست سے متعلق امریکی صدر کا بیان غلط اور بے بنیاد قرار دیا ہے۔ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے مصری اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اسرائیل کی غلط حکمتِ عملی اور اشتعال انگیزی کے باعث اس تنازع میں کھنچتا چلا گیا۔اسماعیل بقائی نے کہا دنیا میں اب کوئی بھی امریکی سفارتکاری پر اعتماد نہیں کر سکتا، وہ سفارتکاری اور مذاکرات کو صرف اپنے مطالبات مسلط کرنے یا طاقت کے طور پر استعمال کرتا ہے۔

ترجمان ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق ایرانی عوام اس وقت امریکہ کے ساتھ مذاکرات یا سفارتکاری کے لیے تیار نہیں، کیونکہ امریکہ ماضی میں بھی مذاکرات کو اپنے مطالبات منوانے اور طاقت کے استعمال کے لیے استعمال کرتا رہا ہے۔ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران کے نئے رہبر مجتبیٰ خامنہ ای مکمل صحتمند ہیں اور جنگی حالات کے باعث عوامی سطح پر نظر نہیں آ رہے۔ ایرانی پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول مضبوط ہے ، امریکی صدر کے بیانات سے آبنائے ہرمز نہیں کھلے گی۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل ایران کا مقابلہ کرنے کے لیے خطے کے اہم ممالک کے ساتھ نئے تعلقات استوار کر رہا ہے۔

گزشتہ روز اپنے خطاب میں نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل خطے کے اہم ممالک کے ساتھ نئے اتحاد تشکیل دے رہا ہے تاکہ ایران کا مقابلہ کیا جا سکے۔انہوں نے کہا ہم خطے کے اہم ممالک کے ساتھ نئے اتحاد قائم کر رہے ہیں، تاہم انہوں نے ان ممالک کے نام ظاہر نہیں کیے۔ان کا کہنا ہے جلد ہی میں آپ کو ان اہم معاہدوں کے بارے میں مزید بتا سکوں گا۔اپنے خطاب میں نیتن یاہو نے ایران کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے بھی پیشگوئی کی اور کہا کہ جلد یا بدیر ایرانی حکومت کا خاتمہ ہو جائے گا۔ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے نئے میزائل سسٹمز کے ساتھ امریکی اور اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔

پاسداران انقلاب نے سعودی عرب میں امریکی پائلٹوں اور لڑاکا طیاروں کے عملے پر بڑے حملے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔ایران کے بریگیڈیئر جنرل سید مجید موسوی نے کہا ہے کہ الخرج علاقے میں مقیم 200 امریکی پائلٹوں اور عملے کی رہائش گاہیں میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنائی گئی ہیں، اسی علاقے میں امریکہ کا اواکس طیارہ بھی تباہ کیا گیا تھا، حملے میں کئی دیگر امریکی طیاروں کو بھی نقصان پہنچا تھا۔پاسداران انقلاب کی بحریہ نے علاقے میں بحری جہازوں، فوجی میٹنگز، ریڈار اور ڈرونز ڈیفنس نظام پر بھی چار بڑے حملوں کا دعویٰ کیا ہے، متحدہ عرب امارات کے ساحلی علاقے میں امریکی مرینز کی کشتی کو ڈرونز سے ہدف بنایا گیا جو کہ فوجی اڈے سے باہر جا رہی تھی۔بحرین کے منامہ ایئرپورٹ کے قریب فوجی اڈے کے باہر موجود امریکی ففتھ فلیٹ کے ہاک اینٹی ڈرون نظام کو بھی ڈورنز سے تباہ کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

کویت کے احمد الجبر امریکی فوجی اڈے میں دو ارلی وارننگ ریڈار نظام بھی ڈرونز ہی سے تباہ کیے گئے، وعدہ صادق چہارم آپریشن کی 88 ویں لہر میں اسرائیل کا ایکسپریس ہاف اونگ کنٹینر جہاز میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔ایران نے وعدہ صادق چہارم آپریشن کی 88ویں لہر میں اسرائیل کے ایکسپریس ہاف اونگ کنٹینر جہاز کو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔اس کے ساتھ ہی پاسداران انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ اب امریکہ کی اعلی ترین 18 ٹیک کمپنیوں کے خطے میں دفاتر نشانہ بنائے جائیں گے کیونکہ ان ٹیک کمپنیز کی آرٹی فیشل انٹیلی جنس اور انٹرنیٹ ٹیکنالوجیز سے ایران میں قتل مہم کے اہداف کا تعین ہوا تھا۔

ایرانی میڈیا کے مطابق متحدہ عرب امارات میں منہاد بیس کے قریب خفیہ امریکی اڈے کو ایرانی فورسز کی جانب سے نشانہ بنایا گیا ہے، خفیہ اڈے میں کم ازکم 200 امریکی فوجی و افسران موجود تھے۔اسرائیل کی ہنگامی طبی سروس نے بتایا کہ ایک میزائل حملے میں ایک 11 سالہ لڑکی سمیت 14 افراد زخمی ہو گئے۔ امریکی چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف نے کہا ہے کہ فضائی برتری کے بعد ایران پر بی 52 بمبار طیاروں کی پروازیں شروع کر دیں۔ ایران پر ابتک 11 ہزار حملے کیے ہیں، میزائل، ڈرون اور نیوی کو سپلائی دینے والی لاجسٹکس کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ کے پہلے مہینے میں اس نے 800 سے زائد فضائی حملے کیے، جن میں 2 ہزار سے زیادہ ایرانی فوجی اہلکاروں اور کمانڈرز کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حملوں میں تقریباً 16 ہزار مختلف ہتھیار استعمال کیے گئے، جبکہ 4 ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

فوج کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں ایران کی عسکری صلاحیت کو کمزور کرنے کے لیے کی گئیں۔دوسری جانب ایران کے حکام نے ان دعوؤں کے برعکس بتایا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ابتک 1937 افراد شہید ہو چکےہیں ۔ ایران کے مبارکہ سٹیل پلانٹ کو ہفتے میں دوسری بار نشانہ بنایا گیا۔ تہران میں امریکہ کے سابق سفارتخانے کی عمارت کو حملے میں نشانہ بنایا گیا۔ایرانی میڈیا نے دعوی کیا کہ امریکہ کا سابق سفارتخانہ امریکی اسرائیلی حملوں کی زد میں آیا ہے۔عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا گیا کہ کمپانڈ کے مشرقی حصے کو نقصان پہنچا ہے، تاہم اس حملے سے مزید تفصیلات فی الحال موصول نہیں ہوئی ہیں۔واضح رہے سابق امریکی سفارت خانہ نومبر 1979 میں قبضے کے بعد میوزیم میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔بعد ازاں یہ عمارت زیادہ تر پاسدارانِ انقلاب اور بسیج سے منسلک اداروں کے کنٹرول میں رہی ہے۔

ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ایران زمینی جنگ نہیں چاہتا،لیکن جانتاہے اپنادفاع کیسے کرناہے۔ایک انٹرویو میں عباس عراقچی نے کہا کہ ایران پڑوسی ممالک اور ان کی سالمیت کا احترام کرتا ہے، امریکا خلیجی ریاستوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک کی سرزمین ہمارے خلاف استعمال ہو رہی ہے، امریکی اڈے علاقائی سلامتی کے لیے نقصان دہ ہیں۔ایرانی وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ کم ازکم 6 ماہ تک امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے لیے تیار ہیں۔عباس عراقچی نے کہا کہ جنگ کے بعد آبنائے ہرمز کی سکیورٹی کےمعاملے کا فیصلہ ایران اور عمان کریں گے، جنگ کے بعد آبنائے ہرمز پُرامن آبی گزر گاہ ہو گی۔ برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے ایک بار پھر دوٹوک موقف اپناتے ہوے کہا ہے کہ برطانیہ کو کسی صورت ایران جنگ میں گھسیٹنے نہیں دینگے۔ جبکہ طویل مدتی قومی مفاد کے لیے یورپی اتحادیوں کے ساتھ قریبی تعلقات ضروری ہیں۔

پریس کانفرنس کرتےہوئے انہوں نے کہا کہ برطانیہ اپنے قومی مفاد کے لیے کھڑا رہے گا اور ملک کو تحمل اور منصوبہ بندی کے ساتھ اس مشکل دور سے نکالنے کے لیے ضروری اقدامات کرے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ برطانیہ کو ایران جنگ میں گھسیٹنے نہیں دینگے۔ اگر دنیا غیر مستحکم راہ پر گامزن رہی تو طویل مدتی قومی مفاد کے لیے یورپی اتحادیوں کے ساتھ شراکت داری لازمی ہے۔انہوں نے توانائی کے بڑھتے مسائل سے نمٹنے کے لیے قابلِ تجدید توانائی پر زور دیا اور کہا اسی حکمت عملی کے تحت عوام کو ریلیف فراہم کیا جا رہا ہے۔

توانائی کی قیمتیں اب جولائی تک مقرر کر دی گئی ہیں، جس سے بلوں میں کمی آئے گی اور عوام کو غیر یقینی صورتحال کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔برطانوی وزیراعظم نے نیشنل لیونگ ویج پر کام کرنے والے افراد کی تنخواہوں میں اضافے کا بھی اعلان کیا، جس سے لاکھوں افراد کو فائدہ ہوگا، اور تقریباً 4 لاکھ 50 ہزار بچوں کو غربت سے نکالنے کا ہدف حاصل کیا جائے گا۔انہوں نے مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک بڑی قانون سازی بھی اگلے ہفتے نافذ العمل ہونے کا کہا، جسے ایک نسل میں سب سے بڑی پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button