بلاگپاکستانتازہ ترینتعلیم/ادبکالم

شاہدرہ کا آزاد مہدی۔۔۔۔۔۔۔

حسنین جمیل لندن

آزاد مہدی شاہدرہ کا داستان گو ہےجس کا نیا ناول پیرو شاہدرہ کی ہی داستان گوئی ہے ، شاہدرہ لاہور کی نواحی بستی ہے دریا ئے راوی شاہدہ کی مانگ کا سندور تھا مگر جب تک سندور پر ایمان رکھنے والےراوی کنارے آباد رہے تب راوی بھی تنومند جوان رہا اب شاید کنارے لاغر بوڑھے کی زندگی بسر کر رہا ہے۔

پیرو ناول کی ابتدا میں آزاد مہدی نے جس طرح شاہدرہ کا تعارف کرایا یوں لگتا ہے جسے آپ طلسم ہوش ربا میں داخل ہو چکے ہیں اس بستی کی ایک ایک گلی دل کے اندر اترتی ہوئی محسوس ہوتی اور بازار تو لگتا ہے جیسے سینے کے ساتھ لگ گیا ہو پھر ان گلی کوچوں سے دریا کی طرف جاتا راستہ گویا جنت کا راستہ لگتا ہے میں نے بچپن میں راوی کی طرف جاتے راستوں پر بہت سفر کیا تب راوی کے حالات بہت بہتر تھے مگر اب توراوی ہی اجڑ گیا شاہدرہ کی مانگ اجڑ گئی ہے۔

میں آج بھی راوی سے ہزاروں میل دور بیٹھ کر انہی راستوں پر سفر کر رہا ہوں آزاد مہدی میرا ہاتھ پکڑ پھر سے ان راستوں کی پرانی کہانیاں سنانے لگ گیا ہے ، جس شاہدرہ اورراوی کی کتھا کو آزاد مہدی نے ادبی کسوٹی پر پرکھ کر ایک شاہکار بنا دیا اسی شاہدرہ کے ناعاقبت اندیش لوگ آزاد مہدی کے گھر نیزے اور بھالے لے کر چڑھ دوڑے جس پیرو میں شاہدرہ کی اساطیری کہانی بیان کی گئی ان کو نذر آتش کر دیا گیا۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اسی شاہدرہ کے چوک میں آزاد مہدی کا مجسمہ لگ جاتا مگر اس تخلیق کے بعد آزاد مہدی کو اپنا ہی شاہدرہ چھوڑنا پڑ گیا ، ہائے ہائے آزاد مہدی جو شاہدرہ کی مانگ کے سنددورراوی کو اجاڑ چکے ہیں انکے نزدیک ایک شاہدرہ کے داستان گو کی کیا اہمیت ہے ، پیرو ایک لازوال تخلیق ہے اور شاہدرہ کے ماتھے کا جھومر ہے آج نہیں تو کل اہل شاہدرہ کو اپنی غلطی کا احساس ہو گا اور پیرو شاہدہ کے ہر گھر میں موجود ہو گا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button