انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینکالم

ڈیڈ لائن ڈپلومیسی

شاید جاوید ڈسکوی/ دستک

امریکی سیاست ایک بار پھر اُس نازک موڑ پر کھڑی دکھائی دیتی ہے جہاں آئینی حدود، صدارتی اختیارات اور عالمی جنگ و امن کے فیصلے ایک دوسرے سے ٹکرا رہے ہیں۔ معروف امریکی جریدے نیویارک ٹائم کے دعوے کے مطابق سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اگر ایران کے ساتھ جاری جنگ کو طول دیتے ہیں تو انہیں60 دن کی ڈیڈ لائن جیسے سخت آئینی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ محض ایک عدد نہیں بلکہ امریکہ کے طاقت کے ڈھانچے میں لکھی گئی وہ لکیر ہے جو جنگ اور قانون کے درمیان فاصلہ قائم رکھنے کی کوشش کرتی ہے۔1973 کا”وار پاورز ریزولوشن” دراصل ویتنام جنگ کے بعد امریکی کانگریس کی وہ کوشش تھی جس میں یہ طے کیا گیا کہ کوئی بھی صدر کانگریس کی منظوری کے بغیر طویل جنگ نہیں چلا سکتا۔ اس قانون کے مطابق صدر کو فوری خطرے کی صورت میں فوجی کارروائی شروع کرنے کا اختیار ضرور حاصل ہے مگر یہ اختیار غیر محدود نہیں۔ صرف 48 گھنٹوں کے اندر کانگریس کو اطلاع دینا لازم ہے اور پھر زیادہ سے زیادہ 60 دن تک اس کارروائی کو جاری رکھا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد یا تو کانگریس کی باقاعدہ منظوری درکار ہوتی ہے یا پھر جنگی کارروائی کو سمیٹنا پڑتا ہے۔یہی وہ آئینی گھڑی ہے جسے بعض مبصرین ڈیڈ لائن ڈپلومیسی بھی کہتے ہیں۔
اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے تناظر میں امریکہ تنہائی کا شکار ہے، ماسوائے اسرائیل کے کوئی ریاست امریکہ کے ساتھ کھڑی دکھائی نہیں دیتی ۔ یہ صورتحال دراصل عالمی سیاست کے بدلتے ہوئے توازن اور بڑھتی ہوئی سفارتی پیچیدگیوں کی عکاسی کرتی ہے، جہاں ہر اقدام کے ساتھ نئی صف بندیاں جنم لے رہی ہیں۔ اس صورتحال میں امریکہ اگرچہ اب بھی عالمی طاقتوں کے نظام میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے مگر اس کی پالیسیوں کو پہلے کی نسبت زیادہ سوالات اور مزاحمت کا سامنا ہے۔ خاص طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کو اندرونی محاذ پر شدید سیاسی تقسیم، کانگریس میں مخالفت، عوامی رائے کے دباؤ اور میڈیا کی تنقید کا سامنا ہے، جہاں جنگ کے ممکنہ پھیلاؤ کو لے کر تحفظات بڑھتے جا رہے ہیں جبکہ بیرونی محاذ پر یورپی اتحادیوں کی محتاط پالیسی، بعض علاقائی طاقتوں کی ہچکچاہٹ اور عالمی اداروں کے جنگ مخالف بیانیے نے امریکی حکمت عملی کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ یوں صورتحال یہ ظاہر کرتی ہے کہ معاملہ محض عسکری برتری یا سفارتی دباؤ کا نہیں بلکہ ایک ایسے عالمی نظام کا ہے جہاں فیصلے اب یک طرفہ نہیں رہ سکے اور ہر قدم پر ردعمل کی ایک نئی لہر پیدا ہو رہی ہے۔اوپر سے 60 روزہ پابندی کی تلوار نے ٹرمپ انتظامیہ کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر ایران جیسے حساس اور خطے کو جھنجھوڑ دینے والے تنازع میں امریکہ مزید داخل رہتا ہے تو کیا واقعی صدارتی اختیارات اس 60 روزہ فریم میں محدود رہ پائیں گے؟ یا پھر امریکی صدور کی روایتی حکمت عملی ایک بار پھر اس قانون کے گرد راستہ تلاش کر لے گی؟۔تاریخ بتاتی ہے کہ امریکی صدور اکثر اس قانون کی سختی کو نرم کرنے کے لیے اسٹریٹجک تشریحات کا سہارا لیتے رہے ہیں۔ کبھی اسے محدود کارروائی کہا گیا، کبھی دہشت گردی کے خلاف دفاعی اقدام قرار دیا گیا اور کبھی قومی سلامتی کے وسیع دائرے میں جنگی اقدامات کو داخل کر دیا گیا۔ یہی وہ قانونی خلا ہے جس نے ماضی میں کئی بار صدارتی اختیارات کو عملاً زیادہ وسیع کر دیا۔اگر موجودہ سیاسی منظرنامے میں دیکھا جائے تو ایران کے ساتھ کشیدگی کسی بھی چھوٹے واقعے سے بڑے بحران میں بدل سکتی ہے۔ مشرق وسطیٰ کی پیچیدہ جغرافیائی سیاست، عالمی طاقتوں کی موجودگی اور توانائی کے عالمی نظام کی حساسیت اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ کوئی بھی عسکری اقدام ایک محدود دائرے میں رہ سکے۔ایسے میں اگر ٹرمپ یا کسی بھی امریکی صدر کی جانب سے فوجی کارروائی شروع ہوتی ہے تو 60 دن کا یہ آئینی فریم نہ صرف داخلی سیاسی بحث کو جنم دے گا بلکہ عالمی سفارت کاری کو بھی شدید دباؤ میں لے آئے گا۔
کانگریس جو پہلے ہی سیاسی تقسیم کا شکار ہے، اس معاملے پر کسی متفقہ فیصلے تک پہنچ سکے گی یا نہیں، یہ بھی ایک بڑا سوال ہے۔اصل نکتہ یہ ہے کہ امریکہ میں جنگ کا آغاز صرف میدانِ جنگ کا فیصلہ نہیں بلکہ ایک آئینی، سیاسی اور ادارہ جاتی امتحان بھی ہے۔ صدر کی مرضی، کانگریس کی منظوری اور سپریم اسٹیبلشمنٹ کی حکمت عملی، یہ تینوں عناصر مل کر ہی کسی جنگ کا راستہ متعین کرتے ہیں۔یوں محسوس ہوتا ہے کہ60 دن محض ایک عدد نہیں بلکہ ایک ایسا آئینی توازن ہے جو طاقت کو لا محدود ہونے سے روکتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا جدید عالمی سیاست میں یہ توازن اب بھی اتنا مضبوط ہے جتنا اسے بنایا گیا تھا یا پھر حالات ایک بار پھر اسے محض ایک رسمی حد تک محدود کر دیں گے؟دنیا اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں ایک فیصلہ صرف جنگ یا امن کا نہیں بلکہ عالمی نظام کی سمت کا بھی تعین کر سکتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button