
دنیا کی سیاست میں پاکستان کا کردار ہمیشہ غیر معمولی رہا ہے کبھی وہ بڑی طاقتوں کے درمیان پل بنا، کبھی فرنٹ لائن اتحادی، اور کبھی ایک ایسے ملک کے طور پر سامنے آیا جس نے عالمی تنازعات کا بوجھ اپنے اندر برداشت کیا۔ 1970 کی دہائی سے لے کر آج 2026ء تک ایک واضح پیٹرن نظر آتا ہے۔پاکستان ثالث بنتا ہے مگر نتائج اکثر اس کے اپنے لیے پیچیدہ اور مہنگے ثابت ہوتے ہیں۔
1970ء میں پاکستان نے ایک تاریخی کردار ادا کیا جب اس نے امریکہ اور چین کے درمیان خفیہ سفارتی رابطہ قائم کروایا۔ امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر کا خفیہ بیجنگ دورہ اسلام آباد کے ذریعے ممکن ہوا جس کے بعد 1972 میں صدر رچرڈ نکسن کا چین کا تاریخی دورہ ہوا۔یہ پیش رفت سرد جنگ کے دوران عالمی طاقتوں کے توازن کو بدلنے والی تھی۔ مگر اسی دوران پاکستان خود ایک سنگین بحران کی طرف بڑھ رہا تھا۔
دسمبر 1971ء میں مشرقی پاکستان الگ ہو کر بنگلہ دیش بن گیا۔ پاکستان کو امید تھی کہ امریکہ کھل کر اس کا ساتھ دے گا، مگر عملی حمایت محدود رہی۔ یہ واقعہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے لیے ایک اہم سبق تھا۔عالمی طاقتیں اصولوں سے زیادہ اپنے مفادات کے تحت فیصلے کرتی ہیں۔
24 دسمبر 1979 ء کو سوویت یونین نے افغانستان پر حملہ کیا۔ اس کے بعد پاکستان امریکہ کا مرکزی اتحادی بن گیا۔ 1981 ء میں امریکہ نے پاکستان کے لیے تقریباً 3.2 ارب ڈالر کا امدادی پیکیج منظور کیا۔ سی آئی اے اور آئی ایس آئی کے ذریعے مجاہدین کو تربیت اور اسلحہ فراہم کیا گیا۔لاکھوں افغان مہاجرین پاکستان آئے، نتیجے میں کلاشنکوف کلچر کا پھیلاؤ، منشیات اور اسلحے کی اسمگلنگ میں اضافہ، معاشرتی اور سکیورٹی مسائل پیدا ہوئے۔ 1989 میں سوویت انخلا ء کے بعد امریکہ بھی خطے سے پیچھے ہٹ گیا اور افغانستان میں طاقت کا خلا ء پیدا ہوا جس کے اثرات پاکستان نے براہ راست بھگتے۔ 1990 کی دہائی اصل میں پابندیوں اور مایوسیوں کی دہائی تھی۔ افغان جنگ کے فوراً بعد 1990 میں پریسلر ترمیم کے تحت پاکستان پر پابندیاں لگ گئیں۔ فوجی اور معاشی امداد تقریباً ختم ہو گئی۔یہ وہ مرحلہ تھا جہاں پاکستان میں یہ تاثر مضبوط ہوا کہ امریکہ ضرورت کے وقت ساتھ دیتا ہے مگر بعد میں پیچھے ہٹ جاتا ہے۔
11 ستمبر 2001 ء کے حملوں کے بعد پاکستان ایک بار پھر فرنٹ لائن اتحادی بنا۔ 2002–2014 ء کے دوران امریکہ نے پاکستان کو 8.4 ارب ڈالر اقتصادی امداد 5.8 ارب ڈالر فوجی امداد فراہم کی۔ ہزاروں پاکستانی شہری اور سکیورٹی اہلکار جان سے گئے۔ دہشت گردی اور عدم استحکام میں اضافہ ہوا۔مزید یہ کہ 2004–2018 کے دوران ڈرون حملوں نے خودمختاری اور عوامی ردعمل کے مسائل پیدا کیے۔ جب 2021 ء میں امریکہ افغانستان سے نکلا، تو ایک بار پھر طاقت کا خلا پیدا ہوا اور اس کے اثرات پاکستان پر پڑے۔
آج پاکستان ایک بار پھر ایک حساس عالمی کردار ادا کر رہا ہے۔ اس بار امریکہ اور ایران کے درمیان اہم پیش رفت اپریل 2026ء میں اسلام آباد میں ہوئی ہے۔جس میں امریکہ اور ایران کے درمیان طویل مذاکرات ہوئے۔پاکستان نے دونوں ممالک کے درمیان پیغامات پہنچانے اور کشیدگی کم کرنے میں کردار ادا کیا۔پاکستان کی کوششوں سے عارضی جنگ بندی ممکن ہوئی۔امریکہ نے پاکستان کی درخواست پر جنگ بندی میں توسیع پر غور کیا۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان آج بھی ایک اہم سفارتی پل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ پاکستان کو کیا حاصل ہوا؟ یہ وہ سوال ہے جو ہر دور میں اٹھتا ہے اور آج بھی اٹھ رہا ہے۔
اب تک کی صورتحال تو یہ ہے کہ کوئی بڑا فوری معاشی پیکیج یا واضح فائدہ سامنے نہیں آیا۔ پاکستان بدستور معاشی دباؤ، توانائی بحران اورسکیورٹی چیلنجز کا شکار ہے۔ خطے میں کشیدگی کے اثرات براہ راست پاکستان پر پڑ سکتے ہیں۔ممکنہ فائدہ یہ ہوا ہے کہ عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ میں اضافہ ہوا ہے،ایک قابل اعتماد ثالث کے طور پر پہچان بنی ہے۔ مستقبل میں سفارتی اثر و رسوخ میں بہتری ہو سکتی ہے مگر یہ سب امکانات ہیں یقینی فوائد نہیں۔کیا یہ ایک بار پھر وہی کہانی ہے؟ اگر ہم 1971، 1989، 2001 اور 2021 کو دیکھیں تو ایک واضح پیٹرن سامنے آتا ہے۔ پاکستان عالمی طاقتوں کی مدد کرتا ہے، بحران ختم ہوتا ہے، بڑی طاقتیں اپنے مفادات کے ساتھ آگے بڑھ جاتی ہیں اور پاکستان کو اندرونی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
آج 2026 میں امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی بھی اسی تسلسل کا حصہ لگتی ہے۔ حقیقت کا دوسرا رخ یہ بھی ضروری ہے کہ ہم مکمل تصویر دیکھیں۔پاکستان کے فیصلے صرف بیرونی دباؤ کا نتیجہ نہیں تھے۔ علاقائی سیاست، بھارت کے ساتھ کشیدگی اور سکیورٹی خدشات بھی اہم عوامل تھے بعض پالیسیوں نے داخلی مسائل کو مزید پیچیدہ بنایا۔ قیادت اور عوام کے لیے ایک اہم سوال یہ ہے کہ تاریخ صرف سنانے کے لیے نہیں ہوتی، اس سے سبق سیکھنے کے لیے ہوتی ہے۔ کیا پاکستان کو ہر بار بغیر واضح شرائط کے عالمی طاقتوں کے درمیان ثالثی کرنی چاہیے؟ کیا عالمی ساکھ کے لیے ہم اپنی معیشت اور داخلی استحکام کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں؟ اور سب سے اہم یہ کہ کیا ہم نے ماضی سے واقعی کچھ سیکھا ہے، یا ہم ایک بار پھر وہی راستہ اختیار کر رہے ہیں؟
پاکستان کی جغرافیائی حیثیت اور سفارتی اہمیت اسے ایک قدرتی ثالث بناتی ہے۔ مگر ثالثی تبھی فائدہ دیتی ہے جب واضح شرائط ہوں،قومی مفاد اولین ترجیح ہو،طویل مدتی حکمت عملی موجود ہو، ورنہ تاریخ یہی بتاتی ہے کہ کردار تو مل جاتا ہے مگر قیمت اکثر بہت زیادہ ہوتی ہے۔



