پاکستان اس وقت ایک ہمہ گیر سیاسی، معاشی اور سماجی بحران سے گزر رہا ہے۔ اس بحران کی جڑیں محض معاشی کمزوریوں یا حکومتی ناکامیوں تک محدود نہیں بلکہ پورا سیاسی ڈھانچہ بگاڑ کا شکار ہے گلی محلوں سے لے کر ایوان اقتدار تک، وہی فرسودہ نظام مسلط ہے جو چند خاندانوں،وڈیروں،چودھریوں، سرداروں اور جاگیرداروں کے گرد گھومتا ہے، عوام کے بنیادی حقوق اور ان کی رائے کی کوئی عملی حیثیت باقی نہیں رہی۔
آئین توڑنے والے جرنیلوں کو آج تک کسی عدالت نے سزا نہیں دی۔ وطن عزیز میں آئین توڑنے والوں کو گارڈ آف آنر دیا جاتا ہے جبکہ سڑک پر لگی سرغ بتی (اشارہ)توڑنے ولے شخص کے ساتھ ٹریفک وارڈن بدتمیزی کرتے ہوئے چالان کرتے ہیں، پاکستان کا مزدور، کسان، طلبہ، اساتذہ اور متوسط طبقہ آج بے پناہ مسائل کا شکار ہے۔ کوئی ان کے مسائل کی نمائندگی نہیں کرتا۔
سینیٹ ، قومی وصوبائی اسمبلیوں میں عوامی نمائندے نہیں بلکہ اسٹیبلشمنٹ کے نمائندے بیٹھے ہیں ۔حال ہی میں ہونے والی ستائیسویں آئینی ترمیم کا تفصیلی جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے کہ ترمیم کا بڑا حصہ کسی قومی مقصد یا مفاد کو پیش نظر رکھ کر اس میں شامل نہیں کیا گیا بلکہ اس کا مقصد مخصوص شخصیات کو ذاتی حیثیت میں فائدہ پہنچانے کی خاطر سینیٹ اور قومی اسمبلی سے منظور کروایا گیا ہے۔
عوام کی نمائندگی کے دعویداروں نے کبھی عوام کی فلاح وبہبود کے لیے کوئی قانون سازی کی ہے؟ ۔اس سوال کا جواب کسی بھی سیاست دان کے پاس نہیں ہے۔کیونکہ عوامی نمائندگی کے دعویداروں نے ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کی خوشنودی کے لیے آئین کو پامال کیا ، پارلیمنٹ کی بالادستی کو مجروح کیا اور قوم کو چور دروازوں کی سیاست کے حوالے کیا۔ملک کی موجودہ سیاسی جماعتیں محض خاندانی وراثت اور ذاتی مفادات کا ایک جال بن چکی ہیں۔ تمام سیاسی جماعتیں جاگیردارانہ پارٹیاں، سب کا ایجنڈا اپنے اثر و رسوخ کو قائم رکھنا ہے، عوام کے مسائل حل کرنا نہیں بلکہ مختلف ٹیکس لگا کراپنی حکمرانی اور عیاشیوں کے لیے غریب عوام کا خون نچوڑنا ہے۔ملک میں غربت کا گراف دن بدن بڑھ رہا ہے۔
پاکستانی اشرافیہ کو حاصل سہولیات اور مراعات کا حجم بہت زیادہ ہوچکا ہے۔ سرکاری افسروں اور آئینی عہدیداروں اور ان کے اسٹاف افسران کی تنخواہوں سے زیادہ ان کی مراعات اور دیگر سہولتیں ہیں، جن کا بجٹ کروڑوں روپے ماہانہ ہے۔رواں سال سینیٹ ، قومی و صوبائی اسمبلی ارکین کی تنخواہ میں بھاری بھر کم اضافہ کیا گیا ۔ آئی ایم ایف سے قرض لیتے ہوئے ہر مرتبہ ہمارے حکمران کہتے ہیں کہ ”یہ آخری پروگرام ہے“ ایسے دعوئوں کی ابھی سیاہی بھی خشک نہیں ہوئی ہوتی کہ ایک نیا پروگرام مانگ لیا جاتا ہے۔
آئی ایم ایف سے قرض حاصل کرنے کے لیے اس کی سخت شرائط بھی تسلیم کر لی جاتی ہیں۔ جن کا خمیازہ ملک کے عوام بھگتے ہیں۔ ایسی یقین دہانیاں کرائی جاتی ہیں جن کو پورا کرنا ممکن نہیں ہوتا ہے۔ اگر حکومت سمجھتی ہے کہ عوامی نمائندے واقعی ایسی مراعات کے حقدار ہیں تو عام آدمی کا کیا قصور ہے۔ اس کو بھی اسی طرح ریلیف دیا جائے، خاص طور پر سرکاری اور نجی شعبے کے ملازمین کی تنخواہیں اور مراعات بھی اسی تناسب سے بڑھائی جائیں۔کہنے کو توحکومت یہ دعوے کرتی ہے کہ مہنگائی بڑھنے کی شرح بہت کم ہو گئی ہے لیکن زمینی حقائق دیکھیں تو مہنگائی بدستور موجودہے اور بہت زیادہ ہے۔
بجلی، گیس، پٹرول ہو یا ادویات ان کی قیمتوں میں کمی نہیں ہوئی ہے ۔ نجی تعلیمی اداروں کی فیسوں اور دیگر اخراجات میں کوئی کمی نہیں ہوئی ہے۔ غربت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔اس وقت بڑی تعداد میں لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ تنخواہ دار و دیہاڑی دار طبقہ اس ساری بدحالی سے بہت زیادہ متاثر اور شدید مالی مشکلات کا شکار ہے۔اس ساری صورت حال میں سب سے زیادہ مشکل سفید پوش طبقے کی ہے، حکومت اس مہنگائی کے باوجود عوام کو ریلیف دینے کے بجائے اسٹیبلشمنٹ کی خوشنودی حاصل کرنے میں لگی ہوئی ہے۔عام آدمی مہنگائی کی چکی میں بدستور پس رہا ہے جبکہ اشرافیہ پاکستان پر بوجھ بن گئی ہے۔
پاکستان ایک ایسا ایٹمی ملک ہے جس کا عام شہری غیرآئی ایم ایف سمیت غیر ملکی قرض کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے، مہنگائی کی شرح آسمان کو چھو رہی ہے، جہاں ہر گزرتے دن کے ساتھ غربت کی شرح میں ہوشربا اضافہ ہو رہا ہو، چالیس فی صد سے زائد افراد خطغربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، جس ملک کی شرح خواندگی فخر کے قابل نہ ہو، جہاں ڈھائی کروڑ سے زائد بچے سکول جانے سے محروم ہوں، جہاں بے روزگاری کی وجہ سے گزشتہ تین سال میں تیس لاکھ سے زائد نوجوان بہتر روزگار کے لیے ملک چھوڑ کر بیرون ملک جاچکے ہوں جہاں 96 فی صد شہری اور 89 فی صد دیہی آبادی کو پینے کا صاف پانی تک میسر نہ ہو، جہاں باپ اپنے بچوں کی خواہشات نہ پوری کرنے کی وجہ سے موت کو گلے لگا رہا ہو، بچے فروخت کیے جارہے ہوں۔
خودکشیوں کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہو، مہنگائی نے عوام کا جینا دوبھر کردیا ہو، غریب عوام دو وقت کی روٹی کو ترستے ہوں، وہاں اشرافیہ کی مراعات میں دن بدن اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ حکومتی ارکان اور عوامی نمائندوں کو عوامی مسائل و مشکلات کی قطعاً پروا نہیں، ان کی بلا سے کوئی مرے یا جیے۔لطف کی بات یہ ہے کہ روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ لگانے والے، ”ووٹ کو عزت دو“ کے آرزو مند، اور ملک میں ”انصاف“ کا بول بالا کرنے کا عزم رکھنے والوں نے مراعات کے حصول کیلئے اپنے اپنے سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایک پیج پر نظر آتے ہیں۔یہ اس امر کی نشاندہی ہے کہ عوامی مسائل کو حل کرنا نہ حکومت کی ترجیح ہے نہ ان سیاسی جماعتوں کی جو عوام کو سبز باغ دکھاکر ایوان تک پہنچتی ہیں۔
پاکستان بھر کے محنت کش عوام کی آمدن ایک طرف رکھیں اور دوسری طرف اس افسر شاہی کی مراعات تو محنت کش طبقے کی آمدن اس کا دس فیصد بھی نہیں بنتی۔ اتنی مراعات کے باوجود یہ رشوت لینا اپنا قانونی حق تصورکرتے ہیں ، کسی بھی ادارے میں بغیر رشوت کے عوام کا کوئی کام نہیں ہوتا۔ اس ملک کا مراعات یافتہ طبقہ اس کی تباہی کا ذریعہ بن گیاہے۔یہاں جس کو سب سے زیادہ تنخواہ اور مراعات دی جاتی ہیں وہ سب سے زیادہ کرپشن اور استحصال کرتا ہے اور جس کو جتنا اختیار دیا جاتا وہ اس کو اپنے ذاتی فائدے یا کسی اور کے فائدے کے لیے استعمال کرتا ہے۔
اس لیے یہاں قانون کی پاسداری کہیں نظر نہیں آتی۔اکثر دیکھا گیا ہے کہ حکومت کی طرف سے عوام الناس کو توکفایت شعاری کا درس دیا جاتا ہے، لیکن وزیروں، مشیروں، سرکاری افسروں اور دیگر اعلیٰ عہدیداران کی مراعات اور سہولیات اسی طرح جاری رہتی ہیںحقیقت یہ ہے کہ یہ صورتحال عام آدمی کے لیے تکلیف کا باعث ہوتی ہے۔ عام شہری اپنے آپ کو قربانی کا بکرا محسوس کرنے لگتا ہے۔ پاکستان کے کسی بھی شہر میں سرکاری گاڑیوں کو سرکاری افسروں کی بیگمات، بچوں اور رشتے داروں کو بے دریغ استعمال کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔ہفتے اور اتوارکو چھٹی ہوتی ہے اس دن بھی یہ ساری گاڑیاں آپ کو مارکیٹوں اور دیگر جگہوں پر اس اشرافیہ کی خدمت میں ملیں گی۔
سرکاری افسران اور وزراءاپنے گاڑی کے شیشے کالے کروا سکتے ہیں،کلاشنکوف بردار رکھ سکتے ہیں، عدالت سے سزا پانے کے بعد بھی اپنے ہی گھر پر رہ سکتے ہیں۔ کسی بھی شہر میں جائیں تو اس شہر کی پولیس شاہراہیں خالی کر کے سیکڑوں کی تعداد میں جلوس کی شکل میں پروٹوکولز دیتی نظر آتی ہے اور جو شہری ایمانداری کے ساتھ پورا ٹیکس اد اکرے اسے کسی قسم کی سہولت حاصل نہیں ہے۔یوں بھی حکومتی وزیروں، سرکاری افسران اور اراکین پارلیمان کا پروٹوکول اکثر و بیشتر میڈیا پر زیر بحث رہتا ہے۔ ایک وزیر یا افسر کے پیچھے درجنوں گاڑیوں کا قافلہ چلتا ہے۔پولیس کی گاڑیاں بھی اس قافلے میں شامل ہوتی ہیں۔ اس طرح سیکڑوں لیٹر پٹرول ضائع ہوتا ہے۔ پولیس جسے امن عامہ کی صورتحال بہتر بنانے کی ذمے داری نبھانی ہوتی ہے، وہ اس کے بجائے حکومتی اراکین اور افسران کے پروٹوکول کی ذمے داری نبھانے میں مصروف رہتی ہے۔
ٹی وی پر ایسے مناظر دیکھ کر عام آدمی کا دل جلتا ہے،اگر ایک عام پاکستانی محنت مزدوری کر کے اپنے خاندان کا پیٹ پال سکتا ہے تو یہ لوگ بھی اپنی ماہانہ تنخواہ پرگزر اوقات کرنا سیکھیں۔ ان کے دفتروں کے ایئرکنڈیشن ہر وقت چلتے ہیں۔پتہ ہے بل انھوں نے ادا نہیں کرنا، سرکاری گاڑیاں ان کے ذاتی استعمال کے ساتھ ساتھ ان کے اہل و عیال کے زیر استعمال بھی رہتی ہیں، ان کے گھرکی سبزی تک سرکاری گاڑی میں آتی ہے، کیونکہ غریب عوام کے خون پسینہ سے ان کی گاڑیوں میں ایندھن ڈالا جاتا ہے۔ ان تمام قربانیوں کے باوجود عوام پریشان رہتے ہیں۔
دن بدن بڑھتی ہوئی غربت اور مہنگائی ایک حقیقت ہیں،اس بدترین مہنگائی کے دور میں تیس ہزار روپے ماہانہ کمانے والا عام آدمی یہ اخراجات اپنی جیب سے پورے کرنے پر مجبور ہے، جس کے لیے ان حالات میں دو وقت کی روٹی کا حصول بھی مشکل ترین ہو چکا ہے۔ جب عام آدمی بجلی، گیس اور پٹرول کے اخراجات اپنی جیب سے پورے کر سکتا ہے تو لاکھوں میں تنخواہیں لینے والے سرکاری افسران کیوں نہیں کرسکتے؟ جب تک سرکاری مراعات کا خاتمہ نہیں کیا جاتا ملکی معیشت میں بہتری ممکن نہیں ۔



