پنجاب میں کسانوں کو انکار،پاسکو سے8لاکھ میٹرک ٹن گندم خریداری،آٹا بحران سنگین،اپوزیشن بھی برہم

لاہور:(بیوروچیف/سید ظہیر نقوی)پنجاب میں کسانوں سے گندم لینے سے انکار کے بعد پاسکو سے 8لاکھ میٹرک ٹن گندم کی خریداری کی جارہی ہے ۔پنجاب میں آٹا بحران مزید سنگین ہوگیا اپوزیشن بھی برہم ہوگئی۔

لاہور،چنیوٹ سمیت پنجاب کے کئی اضلاع میں آٹا سرکاری ریٹ کی بجائے من مانی قیمتوں پر فروخت کیا جارہا ہے جبکہ چکی مالکان نے بھی آٹا 15 روپے فی کلو تک مہنگا کردیا،چنیوٹ میں آٹے کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ جاری ہے اورمارکیٹ میں آٹا 5300 روپے فی من فروخت ہونے لگا ہےاس حوالے سےچکی مالکان کاکہناہے کہ گندم کی قلت اور قیمت میں اضافے کے باعث نرخ بڑھے،
دوسری طرف خریداروں کاکہناہے کہ ایک ہفتے میں 10 کلو بیگ 200 روپے مہنگا ہوگیاہے۔

گندم کی خریداری، ذخیرہ اندوزی، طلب و رسد اور آٹے کی قیمتوں کے معاملے پر محکمہ خوراک پنجاب کی حکمت عملی بھی سوالات کی زد میں آگئی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر صوبے میں گندم کے ذخائر، ضرورت اور مستقبل کی طلب کا درست اندازہ پہلے سے موجود تھا تو موجودہ صورتحال کیوں پیدا ہوئی؟ اور اگر ذخائر واقعی ناکافی تھے تو پھر عوام کو مسلسل اضافی گندم کے ذخائر کے دعوے کیوں سنائے جاتے رہے؟

گندم کی خریداری کے معاملے پر پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کے باعث عوام میں یہ خدشات بھی بڑھ رہے ہیں کہ کہیں آنے والے دنوں میں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ نہ ہو جائے۔ غریب اور متوسط طبقہ پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے اور آٹا عام آدمی کی بنیادی ضرورت ہے۔
دریں اثناپنجاب اسمبلی میں اپوزیشن رکن اعجاز شفیع نے صوبائی حکومت کی جانب سے پاسکو سے گندم خریدنے کے معاملے پر تحریکِ التواء جمع کرا دی، جس میں معاملے کی فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
تحریکِ التواء کے متن کے مطابق پنجاب حکومت نے پاسکو سے 0.8 ملین میٹرک ٹن یعنی 8 لاکھ میٹرک ٹن گندم خریدنے کے لیے خط لکھا ہے۔ اپوزیشن نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر صوبائی وزراء اور حکومتی ترجمان مسلسل یہ دعوے کرتے رہے کہ پنجاب کے پاس ضرورت سے زائد گندم کے ذخائر موجود ہیں تو پھر اچانک جولائی میں وفاقی ادارے سے اتنی بڑی مقدار میں گندم خریدنے کی ضرورت کیوں پیش آگئی؟
گندم کے وافر ذخائر کے دعوے کہاں گئے؟
اپوزیشن کا کہنا ہے کہ حکومت کو عوام کے سامنے واضح کرنا چاہیے کہ پنجاب میں گندم کے اصل ذخائر کتنے ہیں، سرکاری گوداموں میں کتنی گندم موجود ہے اور صوبے کو اچانک مزید 8 لاکھ میٹرک ٹن گندم خریدنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی۔
تحریک میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ اگر پنجاب میں گندم کی صورتحال واقعی اتنی مستحکم تھی تو پھر آٹے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور عوام کو درپیش مشکلات کی وجوہات کیا ہیں؟
اپوزیشن نے الزام عائد کیا ہے کہ اگر وفاقی حکومت اربوں روپے خرچ کرکے لاکھوں ٹن گندم درآمد کر رہی ہے تو پنجاب کے کسان کو اس صورتحال کا فائدہ کیوں نہیں دیا گیا؟ کسان اپنی گندم کی مناسب قیمت اور بروقت سرکاری خریداری کے لیے مشکلات کا سامنا کرتا رہا، جبکہ اب پاسکو سے بڑی مقدار میں گندم خریدنے کا فیصلہ کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔

اپوزیشن رکن اعجاز شفیع نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت پنجاب اور متعلقہ محکمے واضح کریں کہ پاسکو سے 8 لاکھ میٹرک ٹن گندم خریدنے کا فیصلہ کن بنیادوں پر کیا گیا، اس کی قیمت کیا ہوگی، خریداری کا مقصد کیا ہے اور صوبے کے موجودہ ذخائر کی اصل صورتحال کیا ہے۔
سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت کو گندم کی خریداری اور آٹے کی قیمتوں کے معاملے پر ایوان میں مکمل حقائق پیش کرنے چاہئیں تاکہ کسان اور عوام کے ذہنوں میں پیدا ہونے والے سوالات کا جواب دیا جا سکے۔
اب اصل سوال یہ ہے کہ پنجاب میں گندم کے وافر ذخائر کے حکومتی دعوے درست تھے یا نہیں؟ اگر درست تھے تو پاسکو سے 8 لاکھ میٹرک ٹن گندم خریدنے کی ضرورت کیوں پیش آئی، اور اگر ذخائر کم تھے تو عوام اور کسان کو حقیقت سے آگاہ کیوں نہیں کیا گیا؟۔



