انٹر نیشنلتازہ ترینسپورٹس

فیفا ورلڈ کپ: ما ں سے محبت کا والہانہ انداز،سپین کے کھلاڑی نے میڈل والدہ کے گلے میں ڈال دیا

منظر لاکھوں مداحوں کے دلوں کو چھو گیا لیکن اس کے پیچھے برسوں کی قربانی اور جدوجہد کی داستان پوشیدہ ہے

 

واشنگٹن:(ویب ڈیسک)فیفا ورلڈ کپ 2026 کے فائنل میں اسپین کی فتح کے بعد جشن کی کئی یادگار تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں، تاہم سب سے زیادہ توجہ اسپین کے ونگر نیکو ولیمز کے اس جذباتی لمحے نے حاصل کی جب انہوں نے اپنی جیت کا میڈل اسٹیڈیم میں موجود اپنی والدہ کے گلے میں ڈال دیا۔

یہ منظر لاکھوں مداحوں کے دلوں کو چھو گیا لیکن اس ایک لمحے کے پیچھے برسوں کی قربانی، جدوجہد اور والدین کی بے مثال محبت کی داستان پوشیدہ ہے۔

نیکو ولیمز کی پیدائش 2002 میں اسپین کے شہر بلباؤ میں ہوئی، تاہم ان کے والدین ماریا اور فیلکس ولیمز 1990 کی دہائی میں بہتر مستقبل کی تلاش میں گھانا چھوڑ کر اسپین پہنچے تھے۔

اس وقت ماریا اپنے پہلے بیٹے ایناکی ولیمز سے سات ماہ کی حاملہ تھیں۔ دونوں میاں بیوی نے تین ہزار کلومیٹر سے زائد کا خطرناک سفر کیا جس کا کچھ حصہ کھلے ٹرکوں میں اور باقی صحرائے اعظم (صحارا) کو پیدل عبور کرتے ہوئے طے کیا۔

بعد ازاں نیکو کے بڑے بھائی ایناکی ولیمز نے انکشاف کیا کہ اس سفر کے دوران ان کے والدین نے انتہائی سخت حالات کا سامنا کیا۔

انہوں نے بتایا کہ راستے میں کئی افراد گر کر جان کی بازی ہار گئے، بعض کو وہیں دفن کرنا پڑا جبکہ مسافروں کو ڈاکوؤں، تشدد اور دیگر خطرات کا بھی سامنا رہا۔

اسپین کے شمالی افریقی علاقے میلیا پہنچنے پر دونوں نے سرحدی باڑ عبور کرنے کی کوشش کی، تاہم انہیں گرفتار کر لیا گیا اور ملک بدر کیے جانے کا خطرہ پیدا ہو گیا۔

ایناکی ولیمز کے مطابق اس موقع پر فلاحی تنظیم سے وابستہ ایک وکیل نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ خود کو جنگ زدہ ملک لائبیریا سے تعلق رکھنے والا ظاہر کریں تاکہ سیاسی پناہ حاصل کر سکیں۔

اس مشورے پر عمل کرتے ہوئے انہوں نے اپنے گھانا کے کاغذات ضائع کر دیے اور بعد میں اسپین میں رہائش اختیار کر لی جہاں ایک کیتھولک پادری ایناکی مارڈونیس نے اس خاندان کی بھرپور مدد کی۔ انہی کے احترام میں بڑے بیٹے کا نام ایناکی رکھا گیا۔

کئی برس کی محنت اور مشکلات کے بعد خاندان نے نئی زندگی شروع کی اور آج دونوں بھائی عالمی فٹبال کے نمایاں ستاروں میں شمار ہوتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ایناکی ولیمز گھانا کی قومی ٹیم کی نمائندگی کرتے ہیں تاکہ اپنے آبائی وطن سے تعلق برقرار رکھ سکیں جبکہ نیکو ولیمز اسپین کی قومی ٹیم کے لیے کھیلتے ہیں جہاں وہ پیدا ہوئے اور پروان چڑھے۔

ورلڈ کپ فائنل کے بعد اپنی والدہ کے گلے میں میڈل ڈالنے کا نیکو ولیمز کا اقدام محض ایک جذباتی لمحہ نہیں تھا بلکہ ان تمام قربانیوں کا اعتراف تھا جن کی بدولت وہ دنیا کے سب سے بڑے فٹبال اسٹیج پر عالمی چیمپئن بننے کا خواب پورا کرنے میں کامیاب ہوئے۔

 

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button