گلگت بلتستان الیکشن متنازع بنایا جا رہا، بہترہے سلیکشن کرلیں:پی ٹی آئی
الیکشن پرپیسہ خرچ نہ کریں،فارم47پکڑا دیں، وزیراعظم کی آفرقبول کی لیکن وہ غائب ہیں : اسد قیصر،مصطفی نوازکھوکھر ودیگرکی پریس کانفرنس

اسلام آباد:(سپیشل رپورٹر) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی ایک سکے کے دو رخ ہیں، حکومت گلگت بلتستان کے الیکشن کومتنازع بنا رہی ہے۔
گلگت بلتستان کے انتخابات سے قبل پی ٹی آئی رہنمائوں کے خلاف کارروائیاں سیاسی مقاصد کے تحت کی جا رہی ہیں۔ اسلام آباد میں تحریک تحفظ آئین میں شامل جماعتوں کے سیاسی لیڈرز اسد قیصر، مصطفی نواز کھوکھر اور سینیٹر فوزیہ ارشد نے پریس کانفرنس کی۔
تحریکِ انصاف کے رہنما اسد قیصر نے کہا کہ میں گلگت بلتستان کے الیکشن کے لیے سکردو روانگی کے لیے ایئر پورٹ جا رہا تھا تو سڑک بند تھی، میں سمجھا سکیورٹی کی وجہ سے راستہ بند ہے، بعد میں مجھے پتہ چلا کہ سڑک میری وجہ سے بند تھا۔انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو گلگت بلتستان جا رہے ہیں، امیر مقام گلگت بلتستان میں ہیں اور دیگر پارٹیز کے لوگ الیکشن مہم کے لیے گلگت بلتستان جا رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ آپ گلگت بلتستان کے الیکشن کو متنازع بنا رہے ہیں، اس طرح الیکشن کرنا ہے تو پھر سلیکشن کر لیں، پیسہ الیکشن پر خرچ نہ کریں۔پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ ہماری حکومت آئی تو گلگت بلتستان کو سیاحتی مقام بنائیں گے۔مصطفی نواز کھوکھر نے کہا کہ امیدوار کو الیکشن مہم کا حق نہ ہو تو اس سے بہتر ہے آپ الیکشن نہ کرائیں، آپ الیکشن پر پیسہ نہ خرچ کریں بلکہ فارم 47 پکڑا دیں۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں سیاسی افہام و تفہیم اس صورتِحال سے نکلنے کا واحد راستہ ہے اور ایک نیا میثاق ہو جس پر سیاسی جماعتوں کا اتفاقِ رائے ہو۔مصطفی نواز کھوکر نے یہ بھی کہا کہ جب وزیرِاعظم نے مذاکرات کی آفر کی تو تحریکِ تحفظِ آئین نے اسے قبول کیا تھا، ان کا خیال تھا کہ اپوزیشن شرائط لگائے گی جبکہ ہم نے وزیرِاعظم کی آفر قبول کی، اب وزیرِ اعظم آفر کر کے 2 ماہ سے غائب ہیں۔
بعد ازاں پاکستان تحریک انصاف نے ملک میں سیاسی انتقام، جمہوری اقدار کی مبینہ پامالی اور انتخابی عمل میں مداخلت کے الزامات عائد کرتے ہوئے ان اقدامات کی شدید مذمت کی ہے۔ تحریک انصاف کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومتی حلقے عوامی حمایت کے دعوے کرتے ہیں، تاہم اپوزیشن رہنماوں کی گرفتاریوں اور انتخابی سرگرمیوں پر پابندیوں سے مختلف تاثر سامنے آتا ہے۔ گلگت بلتستان کے انتخابات سے قبل پی ٹی آئی رہنمائوں کے خلاف کارروائیاں سیاسی مقاصد کے تحت کی جا رہی ہیں۔
پی ٹی آئی نے جنید اکبر کی گرفتاری اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی انتخابی مہم میں مبینہ رکاوٹوں کا حوالہ دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ ایسے اقدامات انتخابی عمل کی شفافیت پر سوالات کھڑے کرتے ہیں۔ پارٹی کے مطابق یہ عمل پری پول رگنگ کے مترادف ہے۔
تحریک انصاف نے سابق وزیراعظم عمران خان کی قید، ملاقاتوں پر عائد پابندیوں اور انتخابی نشان سے متعلق معاملات کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہاکہ ان اقدامات کے باوجود عوامی حمایت کو کم نہیں کیا جا سکا۔پی ٹی آئی نے کہا کہ سیاسی دبائو اور انتظامی اقدامات کے ذریعے عوامی رائے کو متاثر نہیں کیا جا سکتا اور عوام جمہوری عمل کے ذریعے اپنے فیصلے کا اظہار کریں گے۔
تحریک انصاف نے اپنے مطالبات میں تمام سیاسی جماعتوں اور رہنماوں کو آزادانہ انتخابی مہم چلانے کی اجازت، سیاسی بنیادوں پر گرفتاریوں کے خاتمے اور شفاف و منصفانہ انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ مطابق وہ جمہوری حقوق، آئینی بالادستی اور عوام کے حقِ رائے دہی کے تحفظ کے لیے اپنی سیاسی جدوجہد جاری رکھے گی۔


