ٹرمپ کا حملوں پر سنجیدگی سے غور،ایران کا امریکی اوراسرائیلی اڈوں کوہدف بنانے کا انتباہ
امریکی صدر غلط اندازے نہ لگائیں، جوابی کارروائی تک محدود نہیں رہیں گے:قالیباف،امریکہ و اسرائیل مذموم مقاصد کیلئے فسادات کروا رہے،عوام دور رہیں:صدر پزشکیان
واشنگٹن ،تہران:(ویب ڈیسک)امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ کو ایران پر حملوں کے آپشنز سے متعلق بریفنگ دی گئی ہے، جس کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے ایران میں غیر فوجی اہداف پر حملوں سے متعلق سنجیدگی سے غور شروع کردیا ہے، اخبار نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا کہ صدر ٹرمپ نے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا تاہم وہ سنجیدگی سے فوجی کارروائی کی اجازت دینے پر غور کر رہے ہیں۔
ادھر اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ٹیلیفون پر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے بات چیت کی جس میں ایران میں امریکہ کی ممکنہ مداخلت پر تبادلہ خیال گیا، امریکی اہلکار نے کال کی تصدیق کی تاہم کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
ایران نے امریکی صدر کو خبردار کیا ہے کہ وہ کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دے گا اور اگر حملہ کیا گیا تو امریکی و اسرائیلی فوجی اڈے جائز اہداف ہوں گے،پارلیمنٹ میں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ اگر امریکہ ایران پر فوجی حملہ کرتا ہے تو اسرائیل اور امریکی فوجی مراکز جائز اہداف تصور کیے جائیں گے، ایران اپنی دفاعی حکمت عملی کو صرف جوابی کارروائی تک محدود نہیں رکھے گا بلکہ واضح اور عملی خطرات کی بنیاد پر پیشگی اقدام بھی کرے گا۔ یہ پیغام صدر ٹرمپ اور ان کے اتحادیوں کیلئے ہے کہ وہ غلط اندازے نہ لگائیں۔
دریں اثنا ایران میں سخت حکومتی کریک ڈاؤن کے باوجود مظاہروں میں شدت دیکھی جا رہی ہے، بعض تصدیق شدہ ویڈیوز اور عینی شاہدین کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اپنا ردعمل تیز کر رہی ہے۔قبل ازیں وزارت داخلہ نے کہا تھا کہ مظاہرے بتدریج کم ہو رہے ہیں۔
ایرانی نیوز ایجنسی تسنیم کے مطابق مظاہروں میں اب تک 114سرکاری اہلکار جاں بحق ہو چکے ہیں جن کا تعلق پولیس، پاسداران انقلاب اور بسیج فورس سے ہے، ایجنسی نے ان اہلکاروں کی فہرست بھی شائع کی ہے، اصفہان میں سب سے زیادہ 30اہلکار مارے گئے۔ناروے میں قائم تنظیم ’’ایران ہیومن رائٹس‘‘ کے مطابق اب تک 192 مظاہرین کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے تاہم انٹرنیٹ کی بندش اور رابطے منقطع ہونے سے معلومات کی کمی ہے، خدشہ ہے کہ اصل تعداد کہیں زیادہ اور شاید 2ہزار سے زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔
علاوہ ازیں ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ پرامن احتجاج عوام کا حق ہے مگر مسلح گروہوں سے سختی سے نمٹا جائے گا،ایک انٹرویو میں صدر نے اعتراف کیا کہ عوام میں معیشت کے حوالے سے شدید بے چینی پائی جاتی ہے اور 80 یاشاید 90 فیصد لوگوں کے تحفظات جائز ہیں، حکومت مسائل کے حل کیلئے کام کر رہی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ امریکہ اور اسرائیل اپنے مذموم مقاصد کیلئے ایران میں فسادات کروا رہے ہیں،عوام بالخصوص نوجوانوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ فسادیوں اور دہشت گردوں سے دور رہیں اور امن قائم رکھنے میں مدد کریں۔ان کا کہنا تھا کہ احتجاج عوام کا حق ہے اور ہمیں اسے سننا چاہیے، تاہم فسادات، عوامی املاک پر حملے، مساجد اور خدا کی کتاب کو جلانا امریکہ اور اسرائیل کے منصوبے کا حصہ ہیں،فسادیوں نے لوگوں کو مشین گنوں سے قتل کیا، کچھ کے سر قلم کیے اور کچھ کو آگ لگا دی۔
ایران کے پراسیکیوٹر جنرل محمد موحدی آزاد نے گرفتار کیے گئے مظاہرین کے خلاف مقدمات تیز رفتاری سے چلانے کیلئےخصوصی عدالتیں تشکیل دینے اور جرم ثابت ہونے پر سزائے موت دینے کی ہدایت کی ہے، ان کا کہنا تھا کہ یہ افراد فسادی ہیں، یہ خدا کے خلاف جنگ ہے اور اس کی سزا صرف موت ہے۔



