انٹر نیشنلپاکستانتازہ ترین

ایران امریکہ مذاکرات میں اہم پیش رفت، پاکستان اور قطر کی تصدیق، میزائل اور ڈرون پروگرام پر ایران کا دوٹوک انکار

دوحہ/تہران/منامہ/اسلام آباد/واشنگٹن (ویب ڈیسک) پاکستان اور قطر نے ایران اور امریکہ کے درمیان دوحہ میں جاری بالواسطہ مذاکرات میں اہم پیش رفت کی تصدیق کر دی ہے، جبکہ ایران نے واضح کیا ہے کہ اس کا میزائل اور ڈرون پروگرام قومی سلامتی کا بنیادی معاملہ ہے اور اس پر امریکہ سمیت کسی بھی ملک کے ساتھ مذاکرات نہیں کیے جائیں گے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کے مطابق دوحہ میں ہونے والے بالواسطہ مذاکرات میں دونوں ممالک کے درمیان مثبت پیش رفت ہوئی ہے اور فریقین نے آئندہ دنوں میں مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ پاکستانی اور قطری ثالثوں نے امریکی اور ایرانی مذاکرات کاروں سے الگ الگ ملاقاتیں کیں، جن میں مختلف امور پر پیش رفت ہوئی۔

بیان کے مطابق مذاکرات کا اگلا دور سابق ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے بعد طے کیا جائے گا۔

دوحہ مذاکرات میں مثبت پیش رفت

قطری حکام نے بھی تصدیق کی ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری بالواسطہ مذاکرات میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔ عرب میڈیا کے مطابق مذاکرات کا اگلا دور 18 جولائی کو متوقع ہے، اگرچہ اس حوالے سے باضابطہ اعلان ابھی سامنے نہیں آیا۔

سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک اختلافات کم کرنے اور خطے میں کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی رابطے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

آبنائے ہرمز پر 12 ممالک کا اہم اتفاق

دوسری جانب بحرین میں امریکی سینٹرل کمان (CENTCOM) کی قیادت میں مشرق وسطیٰ کے 12 ممالک کے اعلیٰ فوجی حکام کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں آبنائے ہرمز میں عالمی تجارت کو بلا رکاوٹ جاری رکھنے اور علاقائی سلامتی کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا۔

اجلاس میں امریکہ، سعودی عرب، قطر، عمان، بحرین، مصر، اردن، کویت، لبنان، شام، متحدہ عرب امارات اور یمن کے نمائندوں نے شرکت کی۔

امریکی سینٹرل کمان کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے کہا کہ امریکہ خطے میں اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر دنیا کا جدید ترین فضائی اور میزائل دفاعی نظام چلا رہا ہے اور علاقائی استحکام کے لیے تعاون جاری رکھا جائے گا۔

امریکہ کی ایران کو بڑی اقتصادی پیشکش

امریکی ویب سائٹ Axios کے مطابق دوحہ مذاکرات میں آبنائے ہرمز ایک اہم موضوع رہا۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکہ نے ایران کو تجویز دی کہ اگر وہ آبنائے ہرمز میں ٹول ٹیکس عائد نہ کرے تو جامع جوہری معاہدے اور اقتصادی پابندیوں کے خاتمے کے بعد اسے کہیں زیادہ معاشی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ایران نے اپنے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں کی، جبکہ امریکہ نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز سے متعلق کسی بھی نئے انتظام کے لیے خلیجی ممالک کی منظوری ضروری ہوگی۔

ایران کا سخت مؤقف

ایران کے قائم مقام وزیر دفاع نے واضح کیا کہ ملک کی دفاعی صلاحیت، میزائل پروگرام اور ڈرون ٹیکنالوجی ناقابلِ مذاکرات قومی سلامتی کے معاملات ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ سمیت کسی بھی ملک کے ساتھ ان معاملات پر کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔

جوہری تنصیبات تک رسائی کی خبروں کی تردید

ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کو ایران کی متاثرہ جوہری تنصیبات تک رسائی دینے کی خبروں کو غلط قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ صرف بوشہر پاور پلانٹ اور تہران ری ایکٹر تک محدود رسائی موجود ہے، جبکہ بمباری سے متاثرہ تنصیبات کا معائنہ کسی صورت قابل قبول نہیں ہوگا۔

اسرائیلی دھمکیوں پر اقوام متحدہ میں احتجاج

ایران نے اسرائیلی وزیر دفاع کی جانب سے ایرانی قیادت کے خلاف مبینہ دھمکیوں پر اقوام متحدہ میں باضابطہ احتجاج بھی ریکارڈ کرایا ہے۔

ایرانی مندوب امیر سعید ایروانی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل، سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کو بھیجے گئے خط میں ان دھمکیوں کو ریاستی دہشت گردی قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس کے خلاف مزید کسی بھی قسم کی جارحیت کی گئی تو وہ اپنے قومی مفادات اور خودمختاری کے دفاع کے لیے مناسب جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button