مشرقِ وسطیٰ سے امریکی اڈے بند کیے جائیں: نئے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا ٹرمپ کو سخت پیغام
تہران، بیروت، تل ابیب، واشنگٹن ( ویب ڈیسک) ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے شہدا کے خون کا بدلہ لینے کا اعلان کر دیا اور کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈے بند کریں، ورنہ حملوں کیلئے تیار رہیں۔ اپنے آڈیو پیغام میں ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ ہم اپنے شہدا خصوصاً مناب سکول کے شہدا کا بدلہ لئے بغیر نہیں رہیں گے، دشمن کو ہر ایرانی کے خون کا حساب دینا پڑے گا۔ مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو بند رکھا جائے گا، دشمن پر دبائو ڈالنے کیلئی آبنائے ہرمز کو بند رکھنا چاہئے، ایرانی رہنمائوں اور عوام کے درمیان رابطہ ہمیشہ قائم رہے گا۔ ایرانی سپریم لیڈر نے کہا کہ میرا عہدہ مجھ سے کئی چیزوں کا تقاضا کر رہا ہے، دشمن ایرانی عوام کو نشانہ بنا رہے ہیں، عوامی یکجہتی کے ساتھ دشمن کو شکست دیں گے۔ مجتبیٰ خامنہ ای کا کہنا تھا کہ عوام کی حمایت کے بغیر میری کوئی اہمیت نہیں، ایرانی عوام کا اتحاد ہمیشہ قائم رہے گا، ہمیں اپنے دشمن کو شکست دینی ہے۔
ایرانی سپریم لیڈر نے کہا کہ عوام نے دنیا کو دکھایا ایرانی عظیم قوم ہے، مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈے بند کئے جائیں، امریکی اڈے بند نہ ہوئے تو حملے جاری رہیں گے۔ مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ ہم پڑوسیوں سے دوستانہ روابط پر یقین رکھتے ہیں، ہم صرف فوجی اڈوں کو نشانہ بنا رہے ہیں اور یہ ناگزیر طور پر جاری رکھیں گے، اللہ تعالیٰ قوم کی رہنمائی کرنے میں میری مدد فرمائے۔ ایرانی سپریم لیڈر نے کہا کہ ایرانی فورسز نے دشمن کو حاوی نہیں ہونے دیا، دشمن جھوٹ کا سہارا لے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای کو 10رمضان کو قرآن پڑھتے ہوئے شہید کیا گیا، مشکل وقت میں ایرانی عوام نے ہمیشہ بہتر فیصلے کئے، ایرانی فورسز نے دشمن کو دندان شکن جواب دیا۔ مزید برآں ایران نے امریکہ اور اسرائیل کو مکمل سزا دینے تک جنگ جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
ایرانی میڈیارپورٹس کے مطابق ایران کی مشترکہ فوجی کمانڈ خاتم الانبیا ہیڈکوارٹر کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری کا کہنا ہے کہ ایران اب جوابی حملوں کی پالیسی ختم کرکے امریکہ، اسرائیل کو سزا دینے کے لیے مسلسل حملوں کی پالیسی اختیار کرنے جا رہا ہے۔ جبکہ ایرانی نیول چیف نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہاز ایران سے اجازت نامہ لیں، جہازوں کو محفوظ راستہ دینے کے کھوکھلے بیانات کو سچ نہ سمجھا جائے، 2جہازوں نے دعوے سچ مانے لیکن دھر لیے گئے۔ دوسری جانب ایرانی جنرل فدوی نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کئی روز سے کوشش میں ہیں کہ جنگ بندی کا اعلان ہو۔ ایرانی میڈیا کی جانب سے جاری انٹرویو میں جنرل فدوی نے کہا کہ دشمن نے جنگ جیتی ہوتی تو دنیا کو ثالثی کیلئے جمع نہ کرتا۔ مزید برآں ایران نے واضح اعلان کیا ہے کہ ہماری سرزمین اور قیادت کے خلاف جارحیت میں حصہ لینے والے ممالک کے تجارتی جہازوں کو آبنائے ہرمز میں محفوظ راستہ نہیں دیا جائے گا۔
اس بات کا اعلان ایران کے نائب وزیر خارجہ مجید تخت روانچی نے فرانسیسی خبر رساں ادارے کو انٹرویو میں کیا۔ انہوں نے بتایا کہ کئی ممالک نے ایران سے رابطہ کر کے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی درخواست کی تھی، جس پر ایران نے ان کے ساتھ تعاون کیا ہے اور راستہ فراہم کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا بلکہ ایسا نظام چاہتے ہیں جس سے یہ یقینی بنایا جا سکے کہ آئندہ کسی بھی وقت ایران پر دوبارہ جنگ مسلط نہ کی جائے اور خطے میں استحکام برقرار رہے۔ ادھر مشرق وسطی میں آئل بردار جہازوں پر حملوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔ عراق کے قریب سمندر میں دو غیر ملکی آئل ٹینکر پر حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی۔ عملے کا ایک رکن ہلاک ہوگیا، جبکہ 38کو بچالیا گیا۔ عراق نے آئل ٹینکرز پر حملے کے بعد بندرگاہ پر آپریشن بند کر دیا۔ عرب میڈیا کے مطابق متحدہ عرب امارات کے قریب سمندر میں کارگو جہاز پر حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی، بحرین میں آئل تنصیب پر حملے میں ٹینکروں میں آگ لگ گئی۔ کویت میں رہائشی عمارت پر ڈرون حملہ دو افراد زخمی ہوگئے۔ ادھر عمان کی سلالہ پورٹ پر ایرانی حملے سے تیل کے ذخیرے میں آگ لگ گئی۔ دوسری جانب بحیرہ احمر میں آپریشن ایپک فیوری کے تحت تعینات امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ پر بھی آگ لگ گئی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے بڑے حصے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ آگ میں دو اہلکار بری طرح جھلس کر زخمی ہوگئے۔ آگ جہاز کے مرکزی لانڈری کے حصے میں لگی اور پھر تیزی سے پھیلتی گئی۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ آگ لگنے کی وجوہات کا تعین ابھی کیا جا رہا ہے۔ واقعے کی مزید تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ آگ بیرونی حملے کے باعث نہیں لگی نہ دہشتگردی کے عنصر کے شواہد ملے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ جہاز بدستور مکمل طور پر فعال ہے اور جہاز کے انجن یا پروپلشن نظام کو کوئی نقصان نہیں پہنچا اور طیارہ بردار جہاز اپنی معمول کی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ جبکہ امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے ردعمل میں ایران کے جوابی وار میں 24گھنٹے کے دوران 179اسرائیلی زخمی ہوئے ہیں۔ اسرائیلی وزارتِ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک مجموعی طور پر 2745اسرائیلی زخمی ہو چکے ہیں۔ ادھر اسرائیل میں موجود بھارتی خاتون اینکر نے ایرانی میزائلوں سے ہونے والی تباہی کے مناظر دکھائے ہیں۔ بھارتی رپورٹر گزشتہ دنوں بیت شمیش میں ایک بم شیلٹر ( بنکر) پر گرنے والی ایرانی میزائل کے مقام پر پہنچی اور مناظر دکھائے، جس میں ہر طرف ملبہ بکھرا پڑا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ بنکر ایرانی میزائلوں سے حفاظت کرنے کے لیے بنایا گیا تھا تاہم 500 کلوگرام وار ہیڈ کا میزائل گرنے پر بنکر تباہ ہوگیا۔ رپورٹر کے مطابق میزائل حملے میں 9اسرائیلی مارے گئے اور 50سے زائد اسرائیلی زخمی ہوئے۔
دوسری جانب اسرائیل نے رات گئے لبنان پر حملے کیے، جس کی وجہ سے 6افراد جاں بحق ہوگئے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیل نے لبنان پر شدید حملے کیے، جس کے نتیجے میں آگ لگنے کے بعد دھواں اٹھتا دکھائی دیا ، دوسری طرف لبنان کی تنظیم حزب اللہ نے العصف المکول کے نام سے فوجی آپریشن شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اسرائیلی ذرائع کے مطابق لبنان سے اسرائیل پر موجودہ حملے میں تقریبا 100راکٹ فائر کئے گئے ہیں جن میں سے بعض کو اسرائیلی دفاعی نظام نے روک لیا۔ رپورٹس کے مطابق ایران اور جنوبی لبنان سے اسرائیل پر بیک وقت راکٹ حملے کئے گئے جس کے بعد اسرائیلی ہوم فرنٹ کمانڈ نے شمالی علاقوں کے رہائشیوں کو محفوظ پناہ گاہوں کے قریب رہنے کی ہدایت جاری کی۔ عبرانی میڈیا کے مطابق شمالی اسرائیل کے ایک علاقے میں ایک عمارت کو نقصان پہنچا ہے جبکہ کریات شمونہ، حیفہ اور مقبوضہ بیت المقدس میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، اسی دوران شمالی اور وسطی اسرائیل میں بار بار خطرے کے سائرن بھی بجتے رہے۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آیت اللہ سید مجتبی حسینی خامنہ ای کے خلاف سخت موقف اختیار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے امریکی مطالبات تسلیم نہ کیے تو وہ ایران کے نئے سپریم لیڈر کے خلاف کارروائی کی حمایت کر سکتے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران ایران کی نئی قیادت پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں مجتبیٰ خامنہ ای کے انتخاب سے خوش نہیں اور میرے مطابق ایران کا نیا رہنما پرسکون زندگی نہیں گزار سکے گا۔ مزید برآں ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کو کبھی ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے نہیں دوں گا۔ سوشل میڈیا پر جاری بیان میں امریکی صدر نے ایران کو بدی کی سلطنت بھی قرار دیا۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکہ دنیا بھر میں تیل پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے، جب بھی تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں امریکہ بہت پیسے بناتا ہے، لیکن صدر کی حیثیت سے میرے لیے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ایران کو مشرقِ وسطیٰ اور دنیا کو تباہ کرنے سے روکا جائے۔ امریکی جریدے کے مطابق صدر ٹرمپ کا ایران سے جنگ اگلے تین چار ہفتے جاری رکھنے کا ارادہ ہے جس کے بعد وہ اگلے اقدامات کا کوئی فیصلہ کریں گے۔



