غزہ پر اسرائیل کی قیامت خیز بمباری، 46بچوں سمیت 104فلسطینی شہید
جنگ بندی برقرار ہے، امریکی نائب صدر کا دعویٰ: عالمی برادری قابض اسرائیلی افواج کی جارحیت روکنے کیلئے فوری اور موثر کردار ادا کرے، پاکستان کی امن معاہدے کی خلاف ورزیوں کی شدید مذمت
غزہ، واشنگٹن، اسلام آباد (ویب ڈیسک) اسرائیلی طیاروں کی غزہ شہر پر وحشیانہ بمباری سے104فلسطینی شہید ہوگئے۔ گزشتہ روز اسرائیلی وزیر اعظم نے اسرائیلی فوج کو غزہ میں فوری اور شدید حملوں کا حکم دیا تھا۔ غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق گزشتہ رات سے جاری اسرائیلی حملوں میں کم از کم 104فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں 46بچے شامل ہیں، جبکہ 253افراد زخمی ہوئے ہیں۔
حملوں میں شہید ہونے والوں میں فلسطینی صحافی محمد المنیراوی اور ان کی اہلیہ بھی ہیں، جو غزہ کے علاقے النصیرات میں ایک خیمے میں پناہ لیے ہوئے تھے۔ دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی برقرار ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ غزہ میں حماس یا کسی اور نے ایک اسرائیلی فوجی پر حملہ کیا تھا، اسرائیل سے جواب کی توقع تھی۔ دوسری جانب پاکستان نے غزہ میں اسرائیل کے تازہ حملوں کی شدید مذمت کی ہے، وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی یہ کارروائیاں بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی اور حال ہی میں طے پانے والے امن معاہدے کی صریحا خلاف ورزی ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی افواج کے ایسے جارحانہ اقدامات خطے میں پائیدار امن و استحکام کے لیے جاری عالمی کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ پاکستان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیلی قابض افواج کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں کو فوری طور پر رکوانے کے لیے موثر کردار ادا کرے۔
دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان اپنے اصولی موقف کا اعادہ کرتا ہے کہ فلسطین کو 1967ء سے قبل کی سرحدوں کے مطابق ایک آزاد، خودمختار اور مستحکم ریاست کے طور پر قائم کیا جائے، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔ ادھر قطر کے وزیراعظم اور وزیرخارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان بن جاسم الثانی نے بھی غزہ پر جنگ بندی معاہدے کے باوجود اسرائیلی حملوں کو انتہائی مایوس کن اور دلخراش قرار دیتے ہوءے کہا ہے کہ خطے میں تمام سرخ لکیریں عبور ہوچکی ہیں۔
نیویارک میں کونسل آن فارن ریلیشنز کی تقریب میں خطاب کرتے ہوئے قطر کے وزیراعظم نے کہا کہ اسرائیلی حملے نے قطر سمیت پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے، غزہ پر اسرائیلی حملوں میں رہائشی علاقوں، سکولوں اور سفارتخانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حملے نے امریکہ کو یہ ثابت کر دیا کہ خطے کی تمام سرخ لکیریں عبور ہوچکی ہیں جبکہ حماس نے واضح کیا ہے کہ وہ غزہ میں حکومت چھوڑنے پر آمادہ ہیں۔
شیخ محمد بن عبدالرحمان نے کہا کہ اسرائیلی فوج کا غزہ پر حملہ جنگ بندی کی خلاف ورزی تھی، غزہ میں پیش آنے والے واقعات ہمارے لیے انتہائی مایوس اور حیران کن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قطر اور دیگر ثالث غزہ جنگ بندی برقرار رکھنے کے لیے انتہائی مصروف عمل ہیں اور دونوں فریقین آمادہ ہیں کہ جنگ بندی برقرار رہنی چاہیے اور انہیں معاہدے پر پابند رہنا چاہیے۔
قطری وزیراعظم نے کہا کہ ہم بدستور توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں تاکہ یقینی بنایا جائے کہ جنگ بندی از خود برقرار رہے۔ اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی پر دیگر ممالک کی جانب سے بھی مایوس کن قرار دیا گیا ہے۔ جرمنی کے وزیر خارجہ جوہین ویڈیفل نے غزہ پر اسرائیلی حملوں پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ہم اسرائیل سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ تحمل کا مظاہر کریں اور مزید خون ریزی سے رک جائیں۔ ادھر اسرائیل نے 104 فلسطینیوں کو شہید کرنے کے بعد اعلان کیا ہے کہ وہ جنگ بندی معاہدے پر عملدرآمد کرے گا۔
غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی فوج نے بیان میں کہا کہ وہ جنگ بندی معاہدے پر عملدرآمد کریں گے تاہم کسی قسم کی خلاف ورزی کی صورت میں بھرپور جواب دیا جائے گا۔



