
’’پاکستان زندہ باد‘‘ کے یہ الفاظ سنے تو میں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ آنسو تھے کہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔ آج صبح فیس بک پر ایک ریل دیکھی، جس کے آخر میں ایک معصوم بچہ بار بار یہی الفاظ دہرا رہا تھا۔ شاید وہ بچہ ان لفظوں کی پوری گہرائی سے واقف نہ ہو، مگر اس کی آواز نے میرے اندر برسوں سے محفوظ ایک پوری تاریخ کو جگا دیا۔

14 اگست 1947ء صرف کیلنڈر کا ایک دن نہیں تھا۔ یہ وہ دن تھا جب مسلمانوں کو ایک آزاد ملک ملا، ایک ایسی سرزمین جہاں وہ اپنی مرضی سے، اپنے عقیدے اور اپنی شناخت کے ساتھ آزاد اور خودمختار زندگی گزار سکیں۔ اس آزادی کے پیچھے ایک طویل جدوجہد، بے شمار قربانیاں اور خون سے لکھی ہوئی ایک تاریخ تھی۔

تقسیم کے وقت ہندو اور انگریز اقتدار کے سائے میں ظلم کا ایک ایسا طوفان اٹھا جس نے لاکھوں خاندانوں کو اجاڑ دیا۔ گھروں کو آگ لگائی گئی، قتل عام ہوا، قافلے لٹے، عورتیں بے آبرو ہوئیں اور بہت سے لوگ پاکستان پہنچنے سے پہلے ہی شہید کر دیے گئے۔ کتنے ہی لوگ اپنے پیاروں کی لاشیں راستوں میں چھوڑ کر اس امید کے ساتھ آگے بڑھے کہ شاید پاکستان پہنچ کر ایک نئی زندگی شروع ہو سکے گی۔
ہمیں ایک ایسی پاک سرزمین ملی جس کے بارے میں ہمارے بزرگوں نے بتایا کہ یہاں آزادی کا احساس ہر سانس میں شامل تھا۔ مسجدوں سے اذان کی آوازیں گونجتی تھیں، لوگوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے محبت تھی اور ہر طرف ایک نئی صبح کا احساس تھا۔
میری والدہ اس وقت صرف چھ یا سات برس کی تھیں۔ وہ امرتسر میں اپنے گھر کی چھت پر اپنے چھوٹے بھائی کے ساتھ کھڑی ہوئیں اور مسلم لیگ کا جھنڈا لگایا۔ اس ننھی عمر میں بھی انہیں معلوم تھا کہ وہ مسلمان ہیں، ان کی ایک الگ شناخت ہے اور انہیں ایک آزاد وطن چاہیے۔ وہ اعلان کرتی تھیں کہ ہم مسلمان ہیں، ہماری ایک الگ پہچان ہے، ہمیں کوئی نہیں جھکا سکتا۔

سوچتی ہوں تو حیرت ہوتی ہے کہ اُس وقت کے بچوں کے دلوں میں بھی آزادی کا کتنا بڑا جذبہ تھا۔ ان کے لیے پاکستان صرف نقشے پر بننے والا ایک ملک نہیں تھا، بلکہ ایک خواب تھا۔ ایک ایسا خواب جس کے لیے ان کے بڑوں نے قربانیاں دیں اور جسے آنے والی نسلوں کے حوالے کیا۔
مگر آج جب ’’پاکستان زندہ باد‘‘ سنتی ہوں تو دل خوش ہونے کے ساتھ ساتھ اداس بھی ہو جاتا ہے۔
ہم نے آخر اس ملک کے ساتھ کیا کیا؟
ایک وقت تھا جب لوگ ایک دوسرے کے عقیدے کو بنیاد بنا کر انسان کو نہیں پرکھتے تھے۔ پھر رفتہ رفتہ نفرتیں پیدا ہونے لگیں۔ ایک ہی مذہب کے ماننے والے مختلف فرقوں میں بٹ گئے اور ایک دوسرے کو کافر قرار دینے لگے۔ اختلافِ رائے دشمنی میں بدل گیا اور برداشت جیسے ہماری زندگیوں سے رخصت ہوتی چلی گئی۔

پھر چوری، رہزنی، قتل، جائیداد کے تنازعات اور لالچ نے معاشرے کو اپنی گرفت میں لینا شروع کر دیا۔ جن جائیدادوں کو ہمارے بزرگوں نے محنت سے بنایا تھا، آج بعض لوگ انہی کے حصول کے لیے ایک دوسرے کا خون بہانے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔
رشتوں کا تقدس پامال ہو رہا ہے۔ عورتیں اور بچے ہوس کا نشانہ بن رہے ہیں۔ آئے روز ایسے واقعات سامنے آتے ہیں جنہیں پڑھ کر انسان کا دل دہل جاتا ہے۔ نوجوان لڑکیاں، نوعمر بچیاں اور یہاں تک کہ اٹھارہ ماہ کی معصوم بچی بھی درندگی کا شکار ہو کر موت کی وادی میں چلی جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم کہاں پہنچ گئے ہیں؟
وہ ملک جس کے قیام کے لیے ہمارے بزرگوں نے ہجرت کے راستوں میں بے شمار مصیبتیں برداشت کیں، آج اسی ملک میں عورت اور بچی خود کو محفوظ سمجھنے سے خوفزدہ ہے۔
دوسری طرف سیاسی لوٹ کھسوٹ، اقتدار کی جنگ، مہنگائی، ملاوٹ اور ذخیرہ اندوزی جیسے مسائل نے عام آدمی کی زندگی مشکل بنا دی ہے۔ دنیا کے دوسرے ممالک نے جدید ٹیکنالوجی، تعلیم اور تحقیق کو ترقی کا ذریعہ بنایا، مگر ہمارے ہاں سوشل میڈیا کی طاقت کا بڑا حصہ بعض اوقات صرف شہرت اور چند لمحوں کی مقبولیت حاصل کرنے میں صرف ہو رہا ہے۔
ہماری نوجوان نسل کا ایک حصہ تعلیم چھوڑ کر پیسہ کمانے کے شارٹ کٹ تلاش کر رہا ہے۔ یوٹیوب چینل بنا کر فوری آمدنی حاصل کرنا، چند لمحوں کی شہرت کے لیے اپنی نجی زندگی کو نمائش بنا دینا اور ہر قیمت پر وائرل ہونے کی خواہش کہیں نہ کہیں اس بات کی علامت ہے کہ ہم نے کامیابی کے اصل معنی بھلا دیے ہیں۔
یہ نہیں کہ ٹیکنالوجی یا سوشل میڈیا برے ہیں۔ دنیا انہیں علم، کاروبار، تحقیق، تعلیم اور ترقی کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ مسئلہ ہمارے استعمال کا ہے۔ ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ٹیکنالوجی ہمیں آگے لے جائے گی یا ہم اسے اپنی کمزوریوں کا ذریعہ بنا دیں گے۔
آج ہمارا ملک کئی مشکلات میں گھرا ہوا ہے۔ سب سے بڑا خطرہ شاید صرف غربت یا مہنگائی نہیں، بلکہ جہالت، عدم برداشت، قانون سے بے خوفی اور اخلاقی زوال ہے۔ اگر ایک قوم تعلیم یافتہ ہو مگر انسانیت سے خالی ہو جائے تو ترقی ادھوری رہ جاتی ہے۔
بعض لوگ آج یہ بھی کہتے ہیں کہ پاکستان نہیں بننا چاہیے تھا، ہندوستان اور پاکستان ایک ہی رہتے تو بہتر ہوتا۔ شاید وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ پاکستان کے قیام کا خواب ایک تاریخی پس منظر، ایک سیاسی جدوجہد اور لاکھوں انسانوں کی قربانیوں سے جڑا ہوا تھا۔ کسی بھی ملک کے مسائل کو دیکھ کر اس کے وجود ہی کو غلط قرار دینا مسئلے کا حل نہیں۔ ہر ملک اپنے مسائل سے گزرتا ہے اور ہر قوم کے پاس اپنے حالات بدلنے کا اختیار ہوتا ہے۔
ہمیں بھی اپنے ملک کو بدلنا ہوگا۔
ہمیں اپنے بچوں کو صرف یہ نہیں سکھانا کہ پاکستان زندہ باد کا نعرہ کیسے لگانا ہے، بلکہ یہ بھی سکھانا ہے کہ پاکستان کو زندہ رکھنے کے لیے کیا کرنا ہے۔
پاکستان زندہ باد کا مطلب ہے کہ ہم قانون کا احترام کریں۔
پاکستان زندہ باد کا مطلب ہے کہ ہم کسی معصوم بچے کی حفاظت کریں۔
پاکستان زندہ باد کا مطلب ہے کہ ہم عورت کی عزت کریں۔
پاکستان زندہ باد کا مطلب ہے کہ ہم فرقہ واریت اور نفرت سے انکار کریں۔
پاکستان زندہ باد کا مطلب ہے کہ ہم رشوت، ملاوٹ، ذخیرہ اندوزی اور بدعنوانی کو معمول نہ سمجھیں۔
پاکستان زندہ باد کا مطلب ہے کہ ہماری نوجوان نسل تعلیم، ہنر، تحقیق اور محنت کو شارٹ کٹ پر ترجیح دے۔
آج بھی وقت ہاتھ سے نکلا نہیں۔ جس قوم کے بزرگ اتنی قربانیاں دے کر ایک ملک بنا سکتے ہیں، ان کی اولاد اسے سنوار بھی سکتی ہے
بس ضرورت اس بات کی ہے کہ ’’پاکستان زندہ باد‘‘ صرف 14 اگست کی تقریب کا نعرہ نہ رہے، بلکہ ہمارے کردار کا حصہ بن جائے
اے اللہ! ہمارے پاکستان کو امن، ترقی، خوشحالی اور استحکام عطا فرما۔ ہماری نوجوان نسل کو آزادی کی قدر سمجھا۔ انہیں علم، شعور اور صحیح راستہ عطا کر۔ ہمارے دلوں سے نفرتیں نکال دے اور ہمیں ایک دوسرے کا احترام کرنے والا معاشرہ عطا فرما۔
اور ہمیں ایسا پاکستان دے جہاں کسی ماں کو اپنی بیٹی کے لیے خوفزدہ نہ ہونا پڑے، کسی بچے کا بچپن جرائم کی نذر نہ ہو، کسی شخص کو اپنے عقیدے کی وجہ سے خطرہ محسوس نہ ہو اور جہاں ’’پاکستان زندہ باد‘‘ کے الفاظ سن کر آنکھوں میں آنسو ضرور آئیں، مگر وہ آنسو صرف غم کے نہیں بلکہ فخر، امید اور خوشی کے ہوں۔
پاکستان زندہ باد۔



