انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینکالم

حج کے بعد پھر مذاکرات

شاہد جاوید ڈسکوی /دستک

بین الاقوامی جغرافیائی سیاست کا موجودہ منظرنامہ ایک ایسے تزویراتی اور غیر متوقع موڑ پر داخل ہو چکا ہے جس کے گہرے اثرات واشنگٹن سے تہران اور اسلام آباد تک یکساں محسوس کیے جا رہے ہیں۔ معتبر عرب ذرائع ابلاغ کی جانب سے افشا ہونے والی رپورٹس نے عالمی سفارتی حلقوں اور پالیسی سازوں میں ایک سنسنی خیز ارتعاش پیدا کر دیا ہے۔ ان رپورٹس کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے مابین دہائیوں پر محیط معاندانہ تعلقات کو ایک نئے تعمیری رخ پر لانے کے لیے ایک تاریخی اور جامع معاہدے کے مسودے کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔یہ پیش رفت محض دو روایتی حریفوں کے مابین جمی برف پگھلنے کا عارضی واقعہ نہیں ہے بلکہ یہ خطے میں پائیدار استحکام اور عالمی امن کی ضمانت کے لیے پاکستان کی اس مخلصانہ، پسِ پردہ اور انتھک سفارت کاری کا بین ثبوت ہے جس نے بین الاقوامی مبصرین کو ششدر کر دیا ہے۔موجودہ جیو پولیٹیکل تناظر میں، پاکستان کا کردار محض ایک روایتی سہولت کار یا رابطہ کار تک محدود نہیں رہا بلکہ اسلام آباد تہران اور واشنگٹن کے مابین ایک مضبوط، غیر جانبدار اور انتہائی قابلِ اعتمادسٹریٹجک برج کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔ پاکستان کی اس مصالحت کارانہ صلاحیت اور سفارتی ساکھ کا اعتراف اب عالمی طاقتوں اور مقتدر حلقوں کی جانب سے بھی کھل کر کیا جا رہا ہے جو اس امر کی تصدیق ہے کہ خطے میں کسی بھی پائیدار سکیورٹی آرکیٹیکچر کی تشکیل میں پاکستان کا کلیدی کردار ناگزیر ہے۔
اس تمام تر پسِ پردہ مہم جوئی میں پاکستان کی سفارتی کاؤشوں کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران تہران کے ہنگامی اور انتہائی حساس دورے کیے۔ ان دوروں میں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور وہاں کی اعلیٰ ترین قیادت سے اہم ملاقاتیں کیں، جن کا مقصد دونوں ممالک کے تحفظات کو دور کر کے ایک مشترکہ بیانیے پر متفق کرنا تھا۔ تہران کی ان اہم ملاقاتوں کے فوراً بعد، ملکی سلامتی اور خارجہ امور کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے وزیرِ داخلہ نے بلوچستان میں وزیراعظم محمد شہباز شریف اور سپہ سالار جنرل حافظ سید عاصم منیر سے طویل مشاورت کی جو اس بات کی غماز ہے کہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت اس معاملے پر مکمل طور پر ایک پیج پر ہے اور خطے کے وسیع تر مفاد میں انتہائی سنجیدہ اقدامات اٹھا رہی ہے۔
اس پوری سفارتی پیش رفت کا سب سے اہم اور پُرکشش پہلو اس مہم جوئی پر عالمی سطح کی قبولیت اور بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا پاکستان کی قیادت پر غیر متزلزل اعتماد ہے۔ صدر ٹرمپ جو اپنی غیر روایتی اور کڑک سفارت کاری کے لیے جانے جاتے ہیں ان کا پاکستان کے اس ثالثی کردار کو تسلیم کرنا اور اسلام آباد کی نیت پر بھروسہ کرنا ایک بہت بڑی سفارتی پیش رفت ہے۔ یہ اعتماد ظاہر کرتا ہے کہ واشنگٹن اب مشرقِ وسطیٰ میں مستقل امن کے لیے پاکستان کو ایک ناگزیر شراکت دار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے ملنے والی اس پذیرائی نے پاکستان کے بین الاقوامی وقار کو نئی جلا بخشی ہے اور اس تاثر کو یکسر مسترد کر دیا ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہےتا دم تحریر اطلاعات کی مطابق اس عظیم سفارتی مشن کے تحت دونوں ممالک کے مابین مذاکرات کا اگلا اور حتمی دور حج سیزن کے بعد اسلام آباد میں منعقد ہونے جا رہا ہے۔ اگر یہ معرکہ سر ہو جاتا ہے تو یہ بلاشبہ پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی خارجہ کامیابی ہوگی۔ تہران اور واشنگٹن کے درمیان کسی بھی ممکنہ معاہدے کے براہِ راست مثبت اثرات پاکستان کے اپنے امن و امان، بالخصوص بلوچستان کی صورتحال اور پاک ایران اقتصادی روابط پر پڑیں گے۔
اس ساری صورتحال میں یہ بات بھی مد نظر رکھنی چاہئے کہ یہ سفارتی مشن جس قدر نازک ہے، اس کے ممکنہ مضمرات بھی اتنے ہی سنگین ہیں۔ اگر خدانخواستہ دونوں ممالک کے مابین یہ مذاکراتی عمل کسی تعطل یا ناکامی کا شکار ہوتا ہے تو خطے میں ایک ایسی ہولناک اور وسیع پیمانے کی جنگ کا خطرہ پیدا ہو جائے گا جس کے بھیانک اثرات صرف ایران اور امریکہ تک محدود نہیں رہیں گے۔ اس چنگاری کی زد میں سب سے پہلے پورا مڈل ایسٹ آئے گا جہاں معاشی طور پر مستحکم خلیجی ممالک کی تیل کی تنصیبات اور تجارتی گزرگاہیں براہِ راست جنگی تھیٹر بن سکتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی بحیرہ عرب اور خلیجِ فارس میں تجارتی جہاز رانی مفلوج ہونے سے عالمی سطح پر توانائی کا شدید بحران پیدا ہوگا جس کا خمیازہ چین، جاپان اور یورپی ممالک کو معاشی تباہی کی صورت میں بھگتنا پڑے گا۔ خود پاکستان جو اس وقت امن کا سفیر بنا ہوا ہے ہمسایہ ملک ہونے کے ناطے ایک نئے پناہ گزینوں کے سیلاب سرحدی عدم استحکام اور بدترین اقتصادی دباؤ کا شکار ہو سکتا ہے۔ یہ ممکنہ جنگ ایک ایسا بین الاقوامی بلیک ہول ثابت ہوگی جو مشرقِ وسطیٰ سے لے کر جنوبی ایشیا تک کئی ترقی پذیر معیشتوں کو ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کر سکتی ہے، یہی وجہ ہے کہ عالمی امن کے علمبردار اس وقت اسلام آباد کی طرف بڑی امید سے دیکھ رہے ہیںاورپاکستان کی کوششوں سے دنیا مطمئن دکھائی د ے رہی ہے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حج کے بعد اسلام آباد کی میزبانی میں ہونے والا یہ تاریخی دور عالمی سیاست کا رخ کس طرح متعین کرتا ہے لیکن ایک بات طے ہے کہ اس پورے عمل نے پاکستان کو عالمی امن کے مرکز کے طور پر دنیا کے سامنے لا کھڑا کیا ہےجس کا سہرا بلاشبہ وزیر اعظم محمد شہباز شریف اورسپہ سالار قوم جنرل حافظ سید عاصم منیر کےسر سجتا ہے ۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button