امریکا اور اسرائیل نے ایران کو زیر کرنے کی جو منصوبہ بندی کی تھی اور اس حوالے سے جو اندازے لگائے گئے تھے وہ سب یکسر غلط ثابت ہوچکے ہیں ۔ایران نے بھر پور جوابی حملوں کے ذریعے دشمنوں پر یہ بات واضح کردی کہ ایران تر نوالہ نہیں۔ جس شدت سے ایران مزاحمت کر رہا ہے، امریکا اور اسرائیل کو اس کو اندازہ تک نہیں تھا۔ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حالیہ حملوں نے مشرق وسطیٰ کو ایک ایسے بھنور میں دھکیل دیا ہے جہاں طاقت اور غرور کو شکست ہورہی ہے،عالمی دہشت گرد امریکا اور اسرائیل پریشان ہیں لیکن امت مسلمہ بھی کشمکش میں ہے۔
ایران پر حملے سے قبل ابتدا میں یہ تاثر دیا گیا کہ یہ کارروائی محض ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے لیے ہے، مگر چند ہی ہفتوں میں یہ واضح ہو گیا کہ یہ جنگ محدود نہیں رہی اور نہ یک طرفہ، بلکہ بڑی مستقل لڑائی میں تبدیل ہو چکی ہے اور اب امریکی خوہش کے مطابق سب کچھ نہیں ہے۔ دنیا بھی تقسیم ہوگئی ہے امریکی اتحادی بھی پریشان ہیں کیونکہ اس جنگ نے نہ صرف خطے کے توازن کو ہلا کر رکھ دیا ہے بلکہ خود امریکا اور اسرائیل کو بھی ایک نئی پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔
مشرق وسطیٰ کی جنگ کاسب سے زیادہ اہم پہلو اسرائیل کے دفاعی نظام کی ناکامی ہے۔ جس آئرن ڈوم کو ناقابل تسخیر سمجھا جاتا تھاوہ ان حملوں کو مکمل طور پر روکنے میں ناکام رہا۔ اسرائیلی حکام کا یہ اعتراف کہ انٹرسیپٹر میزائل اپنے ہدف کو نشانہ بنانے میں ناکام رہے، دراصل ایک بڑی اسٹرٹیجک کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔ اس ناکامی نے نہ صرف اسرائیلی عوام میں خوف و ہراس پیدا کیا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی اس کی عسکری برتری پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے جو ایران کی بڑی کامیابی ہے۔ جب ایک ریاست، جو اپنی سلامتی کو جدید ترین ٹیکنالوجی سے جوڑتی ہو، اپنے شہریوں کو مکمل تحفظ فراہم نہ کر سکے تو اس کے اثرات صرف جنگی میدان تک محدود نہیں رہتے بلکہ اس کی سیاسی اور معاشی بنیادیں بھی ہلنے لگتی ہیں۔ امریکا کے لیے بھی یہ جنگ ٹھیک فیصلہ ثابت نہیں ہو رہی۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو دیے گئے سخت الٹی میٹم اور دھمکیوں کے باوجود عملی طور پر امریکا ایک مشکل گمبھیر صورتحال کا شکار ہے۔ آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کا تقریباً 20 فی صد تیل گزرتا ہے، اس تنازع کا مرکزی نقطہ بن چکی ہے۔ ایران کی جانب سے اس اہم بحری راستے کو بند کرنے کی دھمکی نے عالمی معیشت کو غیر یقینی کی کیفیت میں مبتلا کر دیا ہے۔ اگر یہ راستہ بند ہوتا ہے تو تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ناگزیر ہو گا، جس کے اثرات یورپ، ایشیا اور ترقی پذیر ممالک پر شدید ہوں گے۔
یوں امریکا کے لیے یہ جنگ محض ایک عسکری مہم نہیں رہی بلکہ ایک معاشی چیلنج بن چکی ہے۔ ایران کی حکمت عملی اس تمام صورتحال میں خاصی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ بظاہر کمزور دکھائی دینے کے باوجود ایران نے جو ردعمل دیا ہے، اس نے طاقت کے توازن کو کسی حد تک برابر کر دیا ہے۔ ایران یہ واضح کرنا چاہتا ہے کہ وہ نہ صرف دفاع کر سکتا ہے بلکہ جارحانہ ردعمل دینے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے ایسے اہداف کو نشانہ بنایا جو اسرائیل کے لیے انتہائی حساس سمجھے جاتے ہیں، جیسے ڈیمونا کا علاقہ جہاں اس کا جوہری پروگرام مرکوز ہے۔ اس حکمت عملی کا مقصد صرف بدلہ لینا نہیں بلکہ مستقبل میں ایسے حملوں کو روکا جا سکے۔
ایران نے اس وقت صاف کہہ دیا ہے کہ دشمن کے مکمل سرنڈر تک جنگ پوری شدت اور طاقت کے ساتھ جاری رکھی جائے گی۔ اور یہ پیش رفت ایرانی قوم، جنگجوﺅں اور مزاحمتی محاذ کی مکمل فتح تک جاری رہے گی۔ اس پوری صورتحال میں سب سے زیادہ افسوسناک پہلو امت مسلمہ کی غیر موجودگی ہے۔ ایک طرف مسلم دنیا کے اہم ممالک خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں، بلکہ کئی امریکی چاپلوسی میں لگے ہیں تو دوسری طرف ان کے درمیان سیاسی اختلافات اس قدر گہرے ہیں کہ وہ کسی مشترکہ موقف تک بھی نہیں پہنچ پا رہے۔
اگر آج مسلم ممالک ایک پلیٹ فارم پر متحد ہوتے، تو نہ صرف اس جنگ کی نوعیت مختلف ہوتی بلکہ عالمی طاقتوں کو بھی اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنا پڑتی اور جس قسم کی کمزوری مغرب کی سامنے آئی ہے امت ایک ہو کو سامنے آئے تو ایک بڑی جنگ کے بعد دنیا پر امن ہوسکتی ہے۔ تیل کی دولت، جغرافیائی اہمیت اور انسانی وسائل کے باوجود مسلم دنیا کا منتشر ہونا ایک ایسا المیہ ہے جس نے اسے عالمی لڑائی و سیاست میں غیر مو¿ثر بنا دیا ہے۔ یہ تصور کرنا مشکل نہیں کہ اگر امت مسلمہ متحد ہوتی تو حالات کس قدر مختلف ہوتے۔ ایک مشترکہ دفاعی حکمت عملی، مربوط سفارت کاری اور معاشی تعاون کے ذریعے نہ صرف اپنے مفادات کا تحفظ کیا جا سکتا تھا بلکہ عالمی سطح پر ایک مضبوط موقف بھی اپنایا جا سکتا تھا۔ مگر بدقسمتی سے ایسا نہیں ہے، اور یہی وجہ ہے کہ آج کے اس نازک وقت میں مسلم دنیا کا کردار محض بیانات اور مذمتی قراردادوں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کی جغرافیائی اور سیاسی حقیقت یہ ہے کہ یہاں کسی بھی جنگ کو محدود رکھنا آسان نہیں ہوتا۔ لبنان میں حزب اللہ، عراق میں مختلف مسلح گروہ، شام میں جاری تنازعات اور خلیجی ممالک کی سیاسی صف بندی اس جنگ کو ایک وسیع علاقائی تصادم میں تبدیل کرسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی طاقتیں اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اگر یہ تنازع بڑی طاقتوں کے درمیان پراکسی جنگ کی شکل اختیار کر لیتا ہے تو اس کے نتائج بھی انتہائی خطرناک ہوسکتے ہیں۔
جنگ کے پھیلاﺅکا خطرہ مسلسل بڑھ رہا ہے اور خدشہ ہے کہ یہ لڑائی دیگر ممالک کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ ایک وسیع علاقائی جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے جس کے نتائج نہایت تباہ کن ہوں گے۔ پھر جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے باعث ایک ایٹمی بحران کا خدشہ بھی پیدا ہو چکا ہے، جو پوری دنیا کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔



