انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینکالم

پیغام پاکستان ، اتحاد، امن اور استحکام کا راستہ

شاہد جاوید ڈسکوی / دستک

پاکستان محض ایک ریاست نہیں بلکہ ایک نظریہ، ایک ذمہ داری اور ایک تاریخی امانت ہے، جس کی ایٹمی قوت، جغرافیائی اہمیت اور اسلامی تشخص نے اسے عالمِ اسلام کی امیدوں کا مرکز بنا دیا ہے۔ یہی مقام جہاں اسے وقار دیتا ہے وہیں اسے داخلی و خارجی چیلنجز سے بھی دوچار کرتا ہے، خصوصاً دہشت گردی اور انتہاپسندی جیسے خطرات سے، جنہوں نے ریاستی رٹ اور سماجی ہم آہنگی کو متاثر کیا۔

سانحہ آرمی پبلک سکول پشاور کے بعد یہ احساس مزید گہرا ہوا کہ یہ جنگ صرف ہتھیاروں کی نہیں بلکہ فکر و شعور کی بھی ہے، جس کے نتیجے میں "پیغامِ پاکستان” جیسا متفقہ قومی بیانیہ سامنے آیا، جو دین کے نام پر فساد کا علمی رد کرتے ہوئے ریاستی اختیار، آئینی بالادستی اور معاشرتی امن کو واضح بنیاد فراہم کرتا ہے۔یہ بیانیہ سب سے پہلے اس بنیادی حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ جہاد کوئی انفرادی یا گروہی اقدام نہیں بلکہ ایک منظم ریاستی اختیار ہے۔ اسلامی فقہ کی صدیوں پر محیط روایت اس امر پر متفق ہے کہ جہاد کا اعلان صرف حاکمِ وقت یا ریاست کر سکتی ہے تاکہ معاشرہ انتشار، فتنہ اور فساد فی الارض سے محفوظ رہے۔

یہی اصول آئینِ پاکستان میں بھی پوری وضاحت کے ساتھ موجود ہے، جہاں دفاع اور طاقت کے استعمال کا اختیار صرف ریاست کے پاس ہے۔ گویاپیغامِ پاکستان شریعت، آئین اور عالمی قوانین کے درمیان ایک مضبوط پل قائم کرتا ہے، جو یہ واضح پیغام دیتا ہے کہ مذہب کے نام پر کسی بھی نجی عسکریت کی کوئی گنجائش نہیں۔اسی طرح اس بیانیے کی سب سے طاقتور جہت دہشت گردی اور خودکش حملوں کے خلاف اس کا غیر مبہم اور دوٹوک موقف ہے۔ اسلام جو ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل کے مترادف قرار دیتا ہے، کسی بھی صورت میں بے گناہوں کے خون کو جائز قرار نہیں دے سکتا۔پیغامِ پاکستان اسی قرآنی اصول کو بنیاد بنا کر یہ اعلان کرتا ہے کہ دہشت گردی نہ صرف غیر اسلامی ہے بلکہ انسانیت کے خلاف ایک سنگین جرم بھی ہے۔ یہ بیانیہ دراصل اس فکری گمراہی کا خاتمہ کرتا ہے جس کے ذریعے کچھ عناصر دین کے نام پر تشدد کو جواز دینے کی کوشش کرتے ہیں۔فرقہ واریت کے خلاف اس کا مؤقف بھی نہایت واضح اور دور اندیشی پر مبنی ہے۔

پاکستان ایک کثیر المسالک معاشرہ ہے، جہاں اختلافات فطری ہیں مگر ان اختلافات کو نفرت، تکفیر اور تشدد میں بدل دینا ایک سنگین جرم ہے۔ پیغامِ پاکستان اس حساس معاملے میں یہ اصول طے کرتا ہے کہ کسی کو کافر قرار دینا نہ کسی فرد کا اختیار ہے اور نہ کسی گروہ کا۔ یہ ایک ایسا نازک معاملہ ہے جس میں انتہائی احتیاط، علمی دیانت اور اجتماعی دانش درکار ہوتی ہے۔ اس طرح یہ بیانیہ نہ صرف مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دیتا ہے بلکہ قومی یکجہتی کی بنیاد بھی مضبوط کرتا ہے۔آئینِ پاکستان کی بالادستی کو اس بیانیے میں مرکزی حیثیت حاصل ہے۔

آئین محض ایک قانونی دستاویز نہیں بلکہ ریاست اور عوام کے درمیان ایک مقدس معاہدہ ہے، جو حقوق اور فرائض کا تعین کرتا ہے۔پیغامِ پاکستان اسی آئینی شعور کو اجاگر کرتے ہوئے یہ واضح کرتا ہے کہ ریاستی نظم سے انحراف، خود ساختہ تشریحات اور انارکی دراصل قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔ قانون کی حکمرانی ہی وہ واحد راستہ ہے جو ایک مضبوط، مستحکم اور منصفانہ معاشرے کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔یہ بیانیہ صرف داخلی سطح تک محدود نہیں بلکہ عالمی تناظر میں بھی پاکستان کے مثبت تشخص کو اجاگر کرتا ہے۔ امن، رواداری اور بین المذاہب ہم آہنگی کا فروغ اس کا بنیادی پیغام ہے، جو دنیا کو یہ باور کراتا ہے کہ پاکستان ایک ذمہ دار اور پرامن ریاست ہے۔

اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ اور مذہبی آزادی کا احترام اس قومی بیانیے کا اہم حصہ ہے، جو اسلام کی حقیقی روح کی عکاسی کرتا ہے۔اہم بات یہ ہے کہ پیغامِ پاکستان محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک عملی فریم ورک ہے، جسے نیشنل ایکشن پلان اور ریاستی پالیسیوں کے ساتھ ہم آہنگ کیا گیا ہے۔ اس کے اثرات عدالتی فیصلوں، قانون سازی اور قومی حکمت عملی میں بھی واضح طور پر نظر آتے ہیں تاہم اس کے مؤثر نفاذ کے لیے ضروری ہے کہ اسے تعلیمی نصاب، میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے عام کیا جائے، تاکہ نوجوان نسل کو انتہا پسندی کے زہر سے محفوظ رکھا جا سکے۔یہ امر خوش آئند ہے کہ اس مقصد کیلئے حکومتِ پاکستان نے قومی سطح پر ایک اہم اقدام اٹھاتے ہوئے "قومی پیغامِ امن کمیٹی” قائم کر دی ہے، جس میں تمام مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے جید علماء کو شامل کیا گیا ہے۔

کمیٹی کے کوآرڈینیٹر حافظ محمد طاہر محمود اشرفی ہیں، جو پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین بھی ہیں اورقومی و بین الاقوامی سطح پر شدت پسندی کے خلاف ایک مضبوط اور توانا آواز کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ جبکہ اس کمیٹی کے سرپرست مفتی عبدالرحیم ہیں، جو جامعۃ الرشید کے مہتمم ہیں اور دینی و فکری حلقوں میں ایک معتبر نام رکھتے ہیں۔یہ کمیٹی مختلف مکاتبِ فکر کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دینے، مذہبی بیانیے کو اعتدال کی طرف لانے اور ریاستی سطح پر امن کے پیغام کو مؤثر انداز میں عام کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔اس کمیٹی میں شامل ملک بھر کے تمام مکاتب فکر کے جید علماء کرام پیغام پاکستان ملک کے کونے کونے تک پہنچانے کیلئے اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔ہر جگہ ان کا ایک ہی پیغام ہے کہ یہ متفقہ بیانیہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ پاکستان کی اصل طاقت اس کی وحدت، اس کا آئین اور اس کا نظریہ ہے۔

اگر ہم اس اجتماعی شعور کو برقرار رکھیں تو نہ صرف داخلی امن کو یقینی بنا سکتے ہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک باوقار اور مضبوط قوم کے طور پر اپنا مقام مستحکم کر سکتے ہیں۔یہی پیغامِ پاکستان ہے۔ایک آواز، ایک عزم اور ایک روشن راستہ… جو ہمیں انتشار سے نکال کر اتحاد، امن اور استحکام کی منزل کی طرف لے جاتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button