ایران کا کویت میں امریکی اڈے پر حملے کا دعویٰ، ڈرون ہینگرز اور فیول ڈپو تباہ
تہران، واشنگٹن (ویب ڈیسک) ایران کی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے کویت میں واقع امریکی علی السالم ایئر بیس پر حملہ کرکے دو ڈرون ہینگرز اور فوجی طیاروں و ہیلی کاپٹروں کے لیے استعمال ہونے والے فیول ڈپو کو تباہ کر دیا ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ایران کے خلاف مزید وسیع فضائی کارروائی کے آپشن پر غور کر رہی ہے۔
پاسداران انقلاب کا حملے کا دعویٰ
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں کہا کہ حملے امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے کیے گئے ہیں اور یہ کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک خطے سے امریکی افواج کا انخلا نہیں ہو جاتا۔
بیان میں کویت کے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا کہ ایران کا ہدف امریکی فوجی موجودگی ہے، نہ کہ خطے کے عوام۔
اردن کے امریکی اڈے کی سیٹلائٹ تصاویر جاری
ایران نے اردن کے موفق السلطي ایئر بیس کی سیٹلائٹ تصاویر بھی جاری کیں، جن میں ان ہینگرز کو دکھایا گیا ہے جہاں امریکی ایف-35 لڑاکا طیارے موجود تھے۔
ایرانی حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ ہینگر ایران کے جوابی حملوں میں تباہ ہوئے، تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں عالمی میڈیا سے مطالبہ کیا کہ سنسر شپ ختم کر کے دنیا کو درست معلومات فراہم کی جائیں۔
ایران کی امریکی کارروائیوں پر شدید تنقید
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکہ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بے گناہ ایرانی شہریوں کے خون کا حساب لیا جائے گا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ امریکہ میدان جنگ میں دباؤ بڑھنے پر رہائشی علاقوں کو نشانہ بنا رہا ہے اور کہا کہ ایران اس کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
امریکہ وسیع فضائی مہم پر غور کر رہا ہے
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ایران کے خلاف 10 سے 14 روز تک جاری رہنے والی وسیع فضائی مہم کے منصوبے پر غور کر رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے ایسا منصوبہ تیار کیا ہے جس کے تحت پاسداران انقلاب کے کمانڈ سینٹرز، میزائل تنصیبات اور ڈرون مراکز کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد ایران کی میزائل صلاحیت کو نمایاں حد تک کم کرنا اور خطے میں امریکی مفادات کو لاحق خطرات کو محدود کرنا ہے۔
ٹرمپ کا حتمی فیصلہ تاحال نہیں ہوا
اطلاعات کے مطابق صدر ٹرمپ نے ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔ ان کے سامنے دو آپشن زیر غور ہیں:
- 10 سے 14 روز پر مشتمل وسیع فضائی مہم کا آغاز۔
- محدود فوجی کارروائی کے ساتھ سفارتی مذاکرات کا راستہ برقرار رکھنا۔
ٹرمپ کا ایران کی عسکری صلاحیت پر دعویٰ
کیمپ ڈیوڈ میں کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی فضائی اور بحری طاقت کو شدید نقصان پہنچ چکا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی میزائل، ڈرون اور اسلحہ سازی کی صلاحیت بھی نمایاں حد تک متاثر ہو چکی ہے، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔



