بلاگپاکستانتازہ ترینفن اور فنکارکالم
الحمراء صوفی فیسٹیول ۔۔۔صوفیانہ عظمتوں کی آواز بن گیا!
وزیرِ اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز اوروزیرِ اطلاعات و ثقافت محترمہ عظمی بخاری کے شکر گزار ہیں جن کی ذاتی دلچسپی اور رہنمائی نے اس فیسٹیول کو مزید مؤثر اور باوقار بنایا
ایگزیکٹو ڈائریکٹر محمد محبوب عالم چوہدری نے کہا کہ میں محکمہ اطلاعات و ثقافت پنجاب کی صوبائی وزیر اطلاعات و ثقافت محترمہ عظمی بخاری کا شکر گزار ہوں، سیکریٹری اطلاعات و ثقافت پنجاب سید طاہر رضا ہمدانی کا ممنون ہوں، چیئرمین الحمرا رضی احمد کا بھی مشکور ہوں، اور اس کے ساتھ ساتھ تمام مدعو شعرا، اسکالرز، پنجابی صوفیہ کرام اور شریکانِ فیسٹیول کا تہِ دل سے شکر گزار ہوں جن کے بھرپور تعاون سے یہ فیسٹیول کامیابی کے ساتھ ہمکنار ہوا۔
پنجاب کی سرزمین ازل سے صوفی درویشوں کی نسبتوں اور روحانی حسن سے منور رہی ہے، یہاں کے صوفیانہ رنگ، محبت، رواداری اور انسان دوستی کی وہ روایت ہیں جنہوں نے نسلوں کے باطن کو روشن رکھا۔ اسی سلسلے کی تجدیدِ نو کے لیے وقت کو ایک ایسے صوفی فیسٹیول کی ضرورت تھی جو نہ صرف تہذیبی ورثے کو اجاگر کرے بلکہ آج کے بے چین معاشرے کو فکر و محبت کا نیا مرکز بھی دے۔ لاہور آرٹس کونسل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر محمد محبوب عالم چوہدری نے اس ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے صوفی فیسٹیول نہ صر ف خواب دیکھا بلکہ اس کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے شب و روز ایک کر دیے،پھر بالآخر یہ ایسا تاریخ ساز فیسٹیول تاریخ کے دھارے پر رقم ہوا جس کو دیکھنے والے مدتوں یاد رکھیں گے۔

اپنی صدارتی گفتگو میں محمد محبوب عالم چوہدری نے کہا کہ میں محکمہ اطلاعات و ثقافت پنجاب کی صوبائی وزیر اطلاعات و ثقافت محترمہ عظمی بخاری کا شکر گزار ہوں، سیکریٹری اطلاعات و ثقافت پنجاب سید طاہر رضا ہمدانی کا ممنون ہوں، چیئرمین الحمرا رضی احمد کا بھی مشکور ہوں، اور اس کے ساتھ ساتھ تمام مدعو شعرا، اسکالرز، پنجابی صوفیہ کرام اور شریکانِ فیسٹیول کا تہِ دل سے شکر گزار ہوں جن کے بھرپور تعاون سے یہ فیسٹیول کامیابی کے ساتھ ہمکنار ہوا۔
الحمراء صوفی فیسٹیول کے پہلے روز گفتگو کے سیشن ہوئے، قوالی پیش کی گئی، نمائش لگائی گئی،کھیل’’مقصود کل میں ہوں ٗ‘پیش کیا گیا۔ایگزیکٹوڈائریکٹر الحمراء محمدمحبوب عالم چوہدری نے اپنے صدارتی خطبہ میں کہا کہ یہ دھرتی صوفیاء کرام کی سرزمین ہے، ہمیں اپنے صوفیاء کرام کی تعلیمات کی پیروی میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھنی چاہیے، فیسٹیول میں نوجوانوں کی اتنی بڑی تعداد دیکھ کر خوشی ہوئی، میں اپنے نوجوان سے پُرامید ہوں۔ محمد محبوب عالم چوہدری نے ’’نوجوانوں کے فکری مسائل اور واصف علی واصف ؒ‘‘ کے سیشن سے تمام پینلسٹ کو سوونیئر دیئے۔اس سیشن میں تحت اللفظ کو عمران جعفری نے پیش کیا۔ سیشن کو محمد نور الحسن نے ماڈریٹ کیا۔ صاحبزادہ کاشف محمود، ڈاکٹر وسیم اللہ شاہین، افتخار احمد عثمانی، ڈاکٹر عفا ن قیصر نے بطور مندوب شرکت کی اور اظہار خیال کیا۔ کھیل ’’مقصود کل میں ہوں!‘‘ میں نوجوان اداکاروں کی پرفارمنس دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی۔نمائش،کتب میلہ میں عوامی شرکت خوش آئند تھی۔نامور ماہر ابلاغ قاسم علی شاہ کا اہم فکری نشست میں اظہار خیال نوجوانوں کے لئے کامیابیوں کو سمیٹنے کا ذریعہ ثابت ہوا۔ الحمراء ہال نمبر میں منعقد یہ سیشن نوجوانوں سے بھرا ہوا تھا۔ الحمراء ہال نمبر دو کے پوڈیم پر نامور قوال ندیم جمیل ٗ کی ساتھیوں کے ہمراہ پرفارمنس نے سما باندھ لیا۔الحمراء صوفی فیسٹیول کے موقع پر الحمراء کو خوبصورت صوفی رنگوں سے سجایا گیا ہے۔ فیسٹیول کے پہلے روز ہزارو ں کی تعداد میں عوام کی شرکت نے الحمراء انتظامیہ کے دل جیت لیے۔ الحمراء صوفی فیسٹیول اسی آب وتاب سے تین روز تک جاری رہے گا۔

۔الحمراء میں تاریخ ساز تعداد میں شرکاء ٗ الحمراء صوفی فیسٹول دیکھنے آ ئے۔فیسٹول کے دوسرے روز کا آغاز ایک اہم فکری نشست بعنوان’’پنجابی صوفی شاعری میں نوجوانوں کے لئے پیغام ‘‘ کا انعقاد کیا گیا ۔جس میں نامور سکالرز ،پنجابی دان نین سکھ، ڈاکٹر صغری صدف ، ڈاکٹر امداد حسین، یوسف پنجابی نے اظہار خیال کیا۔سیشن کو افضل ساحر نے مارڈیٹ کیا۔ایگزیکٹو ڈائریکٹر محمد محبوب عالم چوہدری نے اپنے خطاب میں کہا کہ تصوف ٗ اسلام کا ثقافتی اظہار ہے،خود شناسی ٗ تصوف کی ابتدائی منزل ہے،یہ معاشرہ میں پیار و محبت ، بھائی چارے کا ضامن ہے۔انھوں نے سیشن میں شامل پینلسٹ کو سوونیئر دیئے۔ الحمراء ہال نمبر دو میں حاضرین کی بہت بڑی تعداد نے گفتگو کے اس سیشن میں شرکت اور سوال و جواب بھی کئے۔ صوفی فیسٹیول میں نامور صوفی گائیک تحسین سکینہ نے ساتھیوں کے ہمراہ صوفیانہ کلام پیش کئے اور الحمراء ہال نمبر میں عوام کی تاریخ ساز تعداد نے انکو داد دی جس سے ان کے حوصلے میں اضافہ ہوتا وہ بھرپور انداز میں تازہ دم ہوکر شاندار پرفارمنس پیش کرتی رہیں۔ واضح رہے الحمراء صوفی فیسٹول ٗ وقت کی آواز بن کر سامنے آیا ہے جس میں نوجوان نسل نے شرکت کرکے اسے لازوال بنا دیا ہے۔

فیسٹیول کے تیسرے روز بھی بامعنی سرگرمیاں اپنے عروج پر رہیں۔اہم فکری سیشن’’تصوف کے معاشرے پر اثرات اور لمحہ موجود میں نسل نو کے لئے اہمیت ‘‘منعقد ہوا جس میں ڈاکٹر معین نظامی، ڈاکٹر وقار عظیمی، ڈاکٹر طارق شریف زادہ، صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی،ڈاکٹر فہد علی کاظمی نے گفتگو کی اور نشست کو ڈاکٹر فاطمہ فیاض نے ماڈریٹ کیا۔تحت الالفظ عمران جعفری نے پڑھے۔ایگزیکٹوڈائریکٹر الحمراء محمد محبوب عالم چوہدری نے تمام مندوبین کو سوونیئر دیئے۔رقص دوریش پیش کیا گیا۔نامور قوال شیر میاندار ، ریاض علی قادری ،غلام علی قادری کی صوفیانہ پرفارمنس بھی تیسرے دن کی تقریبات کا حصہ تھیں۔

صوفی فیسٹیول میں برصغیر کے عظیم صوفیاء کرام حضرت علی ہجویری داتا گنج بخشؒ، حضرت بابا فریدالدین گنج شکرؒ، حضرت سلطان باہوؒ، حضرت شاہ حسینؒ، حضرت بلھے شاہؒ، میاں محمد بخشؒ، وارث شاہؒ، پیر مہر علی شاہؒ اور صوفی شاعری کے دیگر درجنوں روشن چراغوںکی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ ان کی تعلیمات کے حسن، ان کے پیغامِ محبت، ان کے کلام کے کرکس اور اصل معانی کو نہایت احترام اور نہایت ذمہ داری کے ساتھ نئی نسل تک پہنچایا گیا۔ نوجوان بڑی محبت، عقیدت اور فکری دلچسپی کے ساتھ نہ صرف ہال کے اندر موجود ہوتے بلکہ ہال کے باہر بھی اُن کی بڑی تعداد مسلسل جمع رہتی، سیشنز کو سنتی، کتب میلے میں کتابیں دیکھتی، فنِ خطاطی کی نمائش میں صوفیانہ جمال کو محسوس کرتی اور روحانی خوشبو سے اپنے اندر ایک نیا شعور پیدا کرتی دکھائی دی۔
صوفی فیسٹیول کی یہ تین روزہ سرگرمیاں محض تقریبات کا سلسلہ نہیں تھیں بلکہ صوفی فکر کی تجدیدِ نو کا ایک بھرپور عمل تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ فیصلہ کیا گیا کہ اس فیسٹیول کو آئندہ برسوں میں بھی اسی شان و شوکت سے جاری رکھا جائے تاکہ صوفیانہ رنگ، جو پنجاب کی تہذیب کی جڑوں میں رچا بسا ہے، مزید مضبوط ہو سکے اور نئی نسل اس روایتِ حسن کو آگے بڑھا سکے۔ آج کے دور میں صوفیاء کرام کے پیغامِ محبت و انسانیت کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ محسوس ہوتی ہے، اور یہی مقصد لے کر لاہور آرٹس کونسل (الحمرا) کی پوری ٹیم نے ایگزیکٹو ڈائریکٹر محمد محبوب عالم چوہدری کی بصیرت افروز قیادت میں رات دن محنت کی۔ پروگرامنگ، سوشل میڈیا، سکیورٹی، صفائی، پروڈکشن، لائٹنگ، ٹیکنیکل اور انتظامی تمام شعبوں نے بھرپور لگن کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیے اور ہر گوشہ اس امر کا گواہ رہا کہ اس ٹیم نے کسی بھی قسم کی کمی یا کوتاہی کی گنجائش باقی نہیں رہنے دی۔خصوصاً سوشل میڈیا ٹیم نے جدید ترین ڈیجیٹل حکمتِ عملی اور بلاگنگ اسٹیٹریجی کے ذریعے صوفیہ کرام کی تعلیمات، کلام، شاعری، تصوف اور فلسفہ کو پوری دنیا تک پہنچایا، جسے اندرون و بیرونِ ملک سے حیرت انگیز حد تک مثبت ردِعمل ملا۔ یہی وہ اجتماعی کامیابی ہے جو نہ صرف حکومت پنجاب، محکمہ اطلاعات و ثقافت پنجاب اور لاہور آرٹس کونسل کے لیے باعثِ فخر ہے، بلکہ نوجوان نسل کو وہ اعتماد بھی دے رہی ہے کہ اگر وہ چاہیں تو صوفیانہ پیغام کو عالمی سطح تک لے جانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس فیسٹیول کی کامیابی کو نوجوانوں کے نام نہ کرنا یقیناً زیادتی ہو گی، کیونکہ اس روحانی کارواں میں انہوں نے جس جوش، محبت اور فکری وابستگی کا مظاہرہ کیا، وہ قابلِ تحسین ہے۔

حکومتِ پنجاب کی سرپرستی میں منعقد ہونے والا سہ روزہ صوفی فیسٹیول ایک تاریخی کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا، اور سب سے پہلے ہم دل کی گہرائیوں سے وزیرِ اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف کا شکریہ ادا کرتے ہیں جن کے وژن اور رہنمائی نے ادب، ثقافت اور صوفیہ کی عظیم وراثت کو نئی نسل تک منتقل کرنے کے مشن کو نئی جہت دی۔ ہم وزیرِ اطلاعات و ثقافت پنجاب محترمہ عظمی بخاری کے بھی شکر گزار ہیں جن کی دلچسپی اور رہنمائی نے اس فیسٹیول کو مزید مؤثر اور باوقار بنایا۔ خصوصی شکریہ سیکریٹری اطلاعات پنجاب جناب طاہر رضا ہمدانی کا جنہوں نے انتظامی و تکنیکی سطح پر بھرپور تعاون فراہم کیا۔ ہم چیئرمین الحمر ارضی احمد، لاہور آرٹس کونسل کی قیادت اور تمام معزز بورڈ ممبران کے بھی ممنون ہیں جن کی مشاورت اور محنت نے اس فیسٹیول کو حقیقی معنوں میں کامیابی سے ہمکنار کیا۔ جدید میڈیا کے مؤثر استعمال نے اس فیسٹیول کی آواز دنیا کے کونے کونے تک پہنچا یا اور دنیا بھر سے اس فیسٹیول کو غیر معمولی پذیرائی حاصل ہوئی۔ اس کے ذریعے ہمارا قومی بیانیہ ۔۔۔ صوفیاء کرام کی حکمت، اور ہماری روحانی وراثت ۔۔۔نئے وقار، نئی تابندگی اور دوبارہ سے روشن کی گئی شناخت کے ساتھ اُجاگر ہوا۔ ہم ایک پُرامن، باوقار اور عظیم قوم کے طور پر اس سفرِ تہذیب و روحانیت کو آگے بڑھانے میں کامیاب رہے، اور یہی ہمارے روشن مستقبل کی بنیاد ہے۔ آخر میں ہم اپنے تمام مندوبین، شرکائے محفل، زندہ دلانِ لاہور، میڈیا ہاؤسز، ٹی وی چینلز، اخبارات، سوشل میڈیا ٹیموں، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، انفلوئنسرز اور وی لاگرز کے بھی تہہ دل سے شکر گزار ہیں کہ آپ سب الحمدللہ کی مستقل کمیونٹی اور مضبوط اسٹیک ہولڈر ہیں۔ ان شائاللہ آئندہ بھی ہم اسی محبت اور تعاون کے سفر کو آپ کے ساتھ جاری رکھیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



