لاہور (بیورو چیف) ٹرانسپورٹرز نے 8دسمبر سے صوبہ بھر میں پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کر دیا۔ صدر پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن نبیل طارق نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ مطالبات کی منظوری کے لئے حکومت کو 4 روز کا وقت دے رہے ہیں، مطالبات نہ مانے گئے تو سڑکوں پر نکلیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ٹریفک آرڈیننس2025ہم پر مسلط کیا گیا، کسی ٹرانسپورٹر سے بھی مشاورت نہیں کی گئی، ڈرائیورز کی تذلیل کی جا رہی ہے، گاڑیاں بند کی جا رہی ہیں، اتنے بھاری جرمانے ہیں کہ ہمارا 80فیصد کام رک چکا ہے۔
نبیل طارق نے کہا کہ ہمارا سامان ہمارے گوداموں میں پڑا ہے، کوئی ڈرائیور لے کر جانے کو تیار نہیں، ٹریفک آرڈیننس کو فوری واپس لیا جائے، تمام ٹرانسپورٹر خوف کے عالم میں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے کاروبار تباہ ہو رہے ہیں، ہم کیسے اس نظام کے ساتھ چلیں، ٹریفک پولیس پٹرولنگ اور تھانہ پولیس کی جانب سے چالان ٹارگٹ کو ختم کیا جائے، لاہور میں پیرا فورس اور کارپوریشن کی جانب سے ناجائز جرمانوں کو ختم کیا جائے۔
انہوں نے پریس کانفرنس کے دوران مزید کہا کہ سیکرٹری آر ٹی اے اور محکمہ ماحولیات کی جانب سے ناجائز جرمانے بند کیے جائیں، پاسنگ کی سہولت تمام سرکاری اڈوں پر مہیا کی جائے، لاہور میں نئے ٹرک سٹینڈز کے لیے جگہ مہیا کی جائے، منی مزدا کے لیے پورے پنجاب کیں کوئی سٹینڈ نہیں ان کے لیے بھی جگہ دی جائے، ہمارے منسوخ شدہ 7500مزدوں کو بحال کیا کائے۔
نبیل طارق نے مزید کہا کہ روٹ پرمٹ جاری کرنے کا ایک خاص ٹائم فرید مقرر کیا جائے، روٹ پرمٹ کی مدت تین سال کی جائے، موٹر وے پر بھی ٹارگٹ چالان بند کیے جائیں، ٹول میں اضافہ واپس لیا جائے، موٹر وے پر بڑھتی ہوئی ڈکیتوں کو روکا جائے، ایکسل لوڈ کے نظام کو پورے ملک میں یکساں کیا جائے، کچے کے علاقے کے قریب ڈکیتیوں کو روکا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہائی ویز اور جی ٹی روڈ پر غیر ضروری ٹول پلازے ختم کیے جائیں۔
کسٹمز کی ناجائز چیکنگ بند کی جائے۔ آل پاکستان پبلک ٹرانسپورٹ اونرز ایسوسی کے صدر عصمت اللہ نیازی نے کہا کہ ہم پنجاب بھر میں آٹھ دسمبر سے کاروبار بند کر دیں گے، حکومت کو مطالبات کی منظوری کے لیے چار روز کا ٹائم دے رہے ہیں، ہماری ہڑتال تب تک جاری رہے گی جب تک ہمارے مطالبات تسلیم نہ ہوئے۔
عصمت اللہ نیازی نے کہا کہ ہمیں جیلوں میں جانا پڑا تو جائیں گے، ہم نے ابھی پنجاب میں ہڑتال کی بات کی ہے، اگر مطالبات تسلیم نہ ہوئے تو پورے پاکستان میں ٹرانسپورٹ بند کریں گے۔



