عمران سے پھر ملاقات کی اجازت نہ ملی،بہنوں ،کارکنوں کا اڈیالہ جیل کے قریب دھرنا،پولیس آپریشن کی تیاریاں
اڈیالہ:(ویب ڈیسک)اڈیالہ جیل کے قریب علیمہ خان کا دھرنا جاری ہے جبکہ پولیس نے کارروائی کے ممکنہ آپریشن کے لیے تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔
صورتحال کشیدہ ہونے کے پیشِ نظر فیکٹری ناکے پر اضافی پولیس نفری طلب کرلی گئی ہے اور خواتین اہلکاروں کو بھی دھرنے کے مقام پر پہنچنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔
دھرنے کے مقام پر اڈیالہ روڈ کی لائٹس بند کر دی گئی ہیں جبکہ کسی بھی ممکنہ آپریشن کے پیش نظر پریزن وینز اور پانی چھڑکنے والی گاڑیاں بھی طلب کرلی گئی ہیں۔ پولیس حکام صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور دھرنے کے شرکا کو منتشر کرنے کے حوالے سے مختلف آپشنز پر غور کیا جارہا ہے۔
ادھر علیمہ خان اپنے مؤقف پر ڈٹی ہوئی ہیں اور دھرنے کے شرکا کی تعداد میں بھی اضافہ دیکھا جارہا ہے۔ انتظامیہ نے کہا ہے کہ امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔
واضح رہے کہ پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر اور عمران خان کی بہنوں کو آج ملاقات کی اجازت نہ ملی جس پر انہوں نے جیل کے قریب فیکٹری ناکے پر دھرنا دیدیا۔
اڈیالہ جیل کے قریب جاری دھرنے میں کے پی کے کی 13سرکاری گاڑیاں پولیس نے اپنے قبضے میں لے لی ہیں اور قبضے میں لی گئیں گاڑیوں کو چوکی منتقل کر دیا۔
سینئر پارٹی رہنما بشمول سیکریٹری جنرل پی ٹی آئی سلمان اکرم راجا اور پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے صوبائی صدر جنید اکبر خان نے بھی دھرنے میں شرکت کی۔
یاد رہے کہ پی ٹی آئی نے پارٹی بانی سے ملاقات کی کئی کوششیں کیں، مگر جیل حکام نے عدالتی حکم کے باوجود ملاقات کی اجازت نہیں دی، جس میں منگل اور جمعرات کو ملاقات کی اجازت دی گئی تھی، تاہم گزشتہ ہفتے حکام نے عمران خان کی ایک اور بہن عظمیٰ خان کو ان سے ملاقات کی اجازت دی تھی، جس کے بعد انہوں نے بتایا تھا کہ عمران خان ’بالکل ٹھیک‘ ہیں۔
آج جیل کی طرف جاتے ہوئے جاری کردہ ویڈیو بیان میں علیمہ خان نے الزام عائد کیا کہ ریاست قانون کی خلاف ورزی کر رہی ہے جبکہ پی ٹی آئی نے کچھ غیرقانونی نہیں کیا۔
انہوں نے کہا کہ اگر وہ غیرقانونی کام کریں اور ہم قانون کے مطابق کام کریں، اور اگر وہ ٹھیک ہیں اور ہم غلط ہیں، تو یہ ہمارے نظام کی اصل حالت ظاہر کرتا ہے۔‘
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ عمران کو گزشتہ 14 ماہ سے اپنے ذاتی معالج سے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
انہوں نے سوال کیا کہ ایک ڈاکٹر کو عمران خان سے ملنے دینے میں کیا مسئلہ ہے؟
علمیہ خان کا مزید کہنا تھا کہ ‘جب نواز شریف جیل میں تھے تو ایک ڈاکٹر سارا دن ان کے ساتھ رہتے تھے، اور ان کے پلیٹ لیٹس گنتے رہتے تھے، یہ کیسا نظام ہے؟
بعدازاں علیمہ خان اپنی گاڑی سے اتریں اور پارٹی رہنماؤں و کارکنوں کی بڑی تعداد کے ہمراہ اڈیالہ جیل کی جانب پیدل بڑھنے لگیں، وہ اڈیالہ روڈ پر گورکھ پور مارکیٹ تک پہنچیں، جو جیل سے تقریباً ایک کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع ہے، جہاں انہیں پولیس اہلکاروں نے روک لیا۔
پولیس کی رکاوٹوں کے پاس بیٹھ کر علیمہ خان نے ایک اور ویڈیو بیان جاری کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’یہ غیرآئینی اور غیرقانونی ہے، عمران خان کو تنہا اور اذیت میں کیوں رکھا جا رہا ہے؟
‘
ان کا کہنا تھا کہ ’یہ لوگ آئین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں اور قانون توڑ رہے ہیں، علیمہ خان نے مزید کہا کہ ’ہم یہاں سے نہیں جائیں گے، چاہے ہمیں ڈنڈے ماریں یا گولیاں چلائیں، جو کرنا ہے کر لیں۔‘
اسی دوران، پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حکام پر زور دیا کہ عمران خان سے ملاقاتوں کی اجازت دی جائے، جس سے ’صورتحال بہتر ہوگی‘۔
انہوں نے کہا کہ ’ہمیں یہاں آنے کا حق ہے اور عدالت کا حکم بھی موجود ہے۔‘
چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ ’ہم بہت کچھ کرنا چاہتے ہیں، مگر وہ ہمارے اختیار میں نہیں ہے، لیکن اگر ملاقات کی اجازت دے دی جائے، اگر انہیں اپنی اہلیہ سے ملنے دیا جائے، تو صورتحال بہتر ہو جائے گی۔‘
گوہر علی خان نے کہا کہ ملک میں تقسیم نہیں ہونی چاہیے، سیاست میں اختلاف ہوسکتا ہے لیکن دشمنی نہیں ہونی چاہیے۔
وہ پی ٹی آئی کے بانی سے ملاقات کیے بغیر روانہ ہوگئے۔



