ثقافتی ورثہ غیر محفوظ، راجہ دھیان سنگھ حویلی 50سے 2کنال رہ گئی
بازار حسن کا نام دھیان سنگھ کے بیٹے ہیرا سنگھ کے نام پر رکھا گیا ،گورنمنٹ کالج لاہور،اورینٹل کالج حویلی دھیان سنگھ میں شروع ہوا
لاہور:(رپورٹ/زاہد شفیق طیب)ٹیکسالی گیٹ لاہور میں پیر نو گزہ دربار کے قریب گورنمنٹ سید مٹھا ہسپتال کے سامنے 50کنال پر مشتمل راجہ رنجیت سنگھ کے طویل عرصہ تک وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز رہنے والے وفادار ساتھی راجہ دھیان سنگھ (1761سے 1863 تک ) کے نام سے مشہور حویلی دھیان سنگھ 2کنال رہ گئی۔
حویلی دھیان سنگھ کی تعمیر میں خوشحال سنگھ (جمعدار) کا بھی حصہ ہے ،خوشحال سنگھ چوکیدار ہونے کے باوجود رنجیت سنگھ کا چیف چیمبرلین بھی تھا ،دھیان سنگھ حویلی میں کشمیری محلہ ،گجر ڈیرہ ،ہندوستان محلہ قابل ذکر ہیں،حویلی کو دیکھ کر عظمت رفتہ کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔

عالیشان حویلی کی تعمیر کے رقبے کے حصول کیلئے بے شمار غریبوں کی جھونپڑیاں مسمار کی گئیں ،درجنوں خوبصورت احاطے زمین بوس کئے گئے ،لیکن شو مئی قسمت اسی حویلی میں دھیان سنگھ کا بد قسمت بیٹا قتل ہوا ،جس کے نام پر بازار حسن کا نام تبدیل کر کے ہیرا منڈی رکھا گیا تھا،حویلی دھیان سنگھ کو برطانوی فوج کے افسر گرجا گھر کے طور پر استعمال کرتے تھے۔
1857 کی ناکام جنگ آزادی کے بعد انگریز سامراج نے 1958 میں پورے ہندوستان میں سکول بنائے ،1864میں حویلی کے دو کمرے گورنمنٹ کالج کو الاٹ کئے گئے ،گورنمنٹ کالج سے قبل یہاں اسسٹنٹ کمشنر کا دفتر تھا،گونمنٹ کالج کا یوم تاسیس یکم جنوری 1864،باقاعدہ تدریس کا عمل فروری 1864 میں شروع ہوا ، اوپر والی منزل کے دو کمرے بطور ہاسٹل استعمال ہوتے تھے ، ڈاکٹرجی ڈبلیولائٹنر پہلے پرنسپل ،تعلق جرمنی کی فر یبرگ یونیور سٹی سے تھا ،لاہور آنے سے قبل وہ کنگز کالج لندن میں عربی ، اسلامی فقہ کے پروفیسر تھے۔

گونمنٹ کالج لاہور کے قیام کے وقت کالج میں 3پروفیسر،9طالبعلم تھے۔پروفیسر ڈبلیو ایچ کرنیک (کرنیک یونیورسٹی لندن)کیمرج کے استاد ٹی ڈبلیو الیگزنڈر بھی اپنی خد مات سر انجام دیتے تھے ،نصاب میں ریا ضی ،علم الحیوان،طبیعات،جغرافیہ،علم النفس،برطانوی تاریخ ،انگریزی ،ہندی اور سنسکرت کے مضامین انگریز اساتذہ جبکہ ہندی سنسکرت مقامی اساتذہ پڑھاتے تھے،ضلع سکول کے ہیڈ ماسٹر بیدی شام کو طلبا کو خصوصی طور پر ریاضی پڑھاتے تھے۔
حویلی کی دیواریں 25فٹ،7دروازے،چوکورقطعوں میں گلاب موتیا کے پھولوں کی خوشبو کا اپنا ہی حسن تھا،اب دو طرفہ گوداموں ،دکانوں کی بھرمار محرا بیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ،کہیں کہیں مٹتے نقش و نگار ،حویلی کے مرکزی دروازہ کے سامنے سوا مرلہ مسجد،32سال پہلے مندر تھا،جسے 1992 میں بابری مسجد کی شہادت کے بعد مسجد میں تبدیل کیا گیا،1990 کی دہائی سے قبل یہ مندر گورنمنٹ مڈل سکول کی ہیڈ مسٹریس کے کمرے کے طور پر استعمال ہوتا تھا،لیکن ایک عرصہ سے سکول بند ہو چکا۔

حویلی دھیان سنگھ کی اوپر والی منزل پر ٹیچر محمد اصغر ان اساتذہ میں شامل تھے جنہوں نے بر صغیر کی تقسیم کے بعد سکول کو دوبارہ فعال کیا تھا،محمد اصغر مر حوم کے چھوٹے بیٹے خالد اصغر خاندان کے ساتھ حویلی دھیان سنگھ میں مقیم ہیں ،خالد اصغر کی عمر 75 سال،میٹرک کی تعلیم اسی سکول سے حاصل کی ،1950 میں سکول کی دو لیبارٹریاں بہت مشہور تھیں ،لوگ دور دور سے دیکھنے آتے ،خالد اصغر کے گھر کا راستہ اندر سے نہیں بلکہ حویلی کے باہر سے ہے،جہاں کبھی گونمنٹ کالج ، اوریئنٹل کالج کی کلاسیں ہوا کرتی تھیں ،1970 کی دہائی تک یہاں درجنوں ڈرامے ناٹک بنے،مشہور زمانہ فلم ”مولا جٹ“کی شوٹنگ حویلی دھیان سنگھ میں کی گئی۔
کمرے بطور اصطبل بھی استعمال ہوتے رہے ، ایک کمرے کا دروازہ300سال پرانا آج بھی اصل حالت میں موجود ،حویلی میں 3ہال۔1،دربار ہال جس میں دھیان سنگھ اپنا دربار لگاتا تھا،ساتھ ایک چھوٹا کمرہ جس کے بارے میں مشہور ہے کہ یہاں ایک ناگ ناگن کا جوڑا رہائش پذیر،کئی نسلوں نے سانپ کے جوڑے کو از خود دیکھا۔
خالد اصغرکے بقول یہاں مقیم خاندان نے بھارت ہجرت کی تو جاتے ہوئے حویلی دھیان سنگھ کو نذر آتش کر دیا لیکن ایک آدھ کمرے کو نقصان پہنچا،آگ پر جلد قابو پالیا گیا،حویلی میں بجلی کا نام و نشان تک نہیں،تاریخی ریکارڈ کے مطابق دھیان سنگھ کے دربار کے مقام پر ایک زیر زمین تھیٹر بھی بنایا گیا تھا اس تھیٹر کی جگہ کا راستہ حویلی دھیان سے شا ہی قلعہ لاہور تک ایک سرنگ کی شکل میں جاتا تھا،جسے بند کر دیا گیا۔
انگریز سامراج کے دور میں حویلی راجہ دھیان سنگھ پر مہا راجہ گلاب سنگھ کا قبضہ تھا،راجہ دھیان سنگھ راجہ کشور سنگھ کا دوسرا بیٹا تھا،جو22اگست 1788 کو پیدا ہوا،تیسرا بھائی سجیت سنگھ تھا،تینو ں بھائی مہاراجہ ہری سنگھ کے ملازم تھے۔مہا راجہ گلاب سنگھ 1788 میں جموں میں پیدا ہوا، خاندان پر برا وقت آیا تو میر پور آزاد کشمیر میں منگلا نامی قلعہ کے قلعہ دارکی فوج میں 3روپے ماہانہ کھاناکے معاہدے پر ملازم ہوا، گلاب سنگھ1811میں اپنے بھائی دھیان سنگھ کے ہمراہ گھوڑے خریدنے لاہور آیا تو گلاب سنگھ نے مہاراجہ کے دربار میں پیش کیا۔
مہاراجہ رنجیت سنگھ حسن پرست ،صاحب ذوق ، شوقین مزاج انسان تھا،دھیان سنگھ کے شائستہ اطوار، خوبصور ت ناک،نقشہ پر مر مٹا ،مہاراجہ نے 90روپءماہانہ تنخواہ پر اپنا مشیر خاص مقرر کر دیا،گلاب سنگھ 1846 سے 1858 تک 12 سال ریاست جموں و کشمیر کا حکمران رہا،راجہ رنجیت سنگھ نے 21جون 1839کو شہزادے کھڑک سنگھ کو جانشین بنانے کا اعلان کر کے دھیان سنگھ کو نائب السلطنت بنا دیا۔28جون 1839کو رنجیت سنگھ دنیا سے کوچ کر گیا۔
دھیان سنگھ نے خود کو رنجیت سنگھ کی چتا کے ساتھ جلانا چاہا تو درباریوں نے روک دیا۔ کھڑک سنگھ شراب اور افیون کا رسیا تھا،عقل و شعور انتظامی صلاحیتوں سے عاری اپنی اہلیہ کے رشتہ دار چیت سنگھ باجوہ کے قریب تھا جو وزیراعظم بننے کے خواب دیکھا کرتا تھا،سلطنت کے معاملات کی نسبت کھڑک سنگھ کو شراب و شباب سے گہری دلچسپی تھی،دھیان سنگھ نے کھڑک سنگھ کی اہلیہ مہارانی چاند کور کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ اگر کھڑک سنگھ اقتدار سے دستبردار ہو کر ذمہ داری شہزادے نو نہال سنگھ کو دے دیں تو زیادہ بہتر ہو گا،بات نہ بنی تو دھیان سنگھ نے ساتھیوں کے ہمراہ شاہی محل میں داخل ہو کر الارم بجانے والے کو قتل کر دیا(9اکتوبر 1938) پھر چیت سنگھ کے سینے میں خنجر پیوست کر دیا۔
کھڑک سنگھ منشیات کے اندھا دھند استعمال سے جلد ہی لحد میں اتر گیا، آخری رسومات شہزادے نو نہال سنگھ نے5نومبر 1840 کو ادا کیں،11 لونڈیاں،4رانیاں بھی ساتھ گئیں۔والد کی آخری رسومات سے واپسی پر روشنائی گیٹ سے گزرتے ہوئے چھت کا ایک ٹکڑا گرنے سے نو نہال سنگھ شدید زخمی ہو گیا،سر میں شدید چوٹیں آئیں ، جبکہ ان کے ساتھ راجہ گلاب سنگھ کا بیٹا ادھم سنگھ موقع پر ہی ہلاک ہو گیا،دھیان سنگھ نے زخمی بادشاہ کو علاج کیلئے شاہی محل پہنچا کر مشہور کر دیاکہ وہ زندہ ہے تاکہ خانہ جنگی کی فضا پیدا نہ ہو ،دھیان سنگھ دوسرے شہزادے شیر سنگھ کو تخت پر بیٹھانے کیلئے کوشاں تھا،جس کیلئے اس نے پہلے شہزادے نو نہال سنگھ کی موت کو 3روز تک چھپائے رکھا،2دسبر1840 کو مہارانی چاند کور نے اپنے اقتدار کا اعلان کر کے طبل جنگ بجا دیا،شہزادہ شیر سنگھ نے صورتحال دیکھی تو مایوس ہو کر واپس بٹالہ اپنی جاگیر جبکہ دھیان سنگھ جموں چلا گیا،لیکن جموں جاتے ہوئے دھیان سنگھ نے فوجی سرداروں ،سکھ کمانڈروں کو شیر سنگھ کی حمایت پر آمادہ کیا۔
شیر سنگھ 13جنوری 1841کو لاہور آیا تو شاہی فوج کا بڑا حصہ اس کے پاس چلا گیا،راجہ دھیان سنگھ17 جنوری کو جموں سے لاہور پہنچاتو شیر سنگھ نے اسے پنجاب کے وزیر کا مہاراجہ بنا دیا۔15 ستمبر1843کو سندھاریوالہ سردارون اجیت سنگھ ،لہنہ سنگھ نے لاہور کے مضافات میں مہاراجہ شیر سنگھ ،وارث پرتاب سنگھ کو قتل کر کے ان کے سر تن سے جدا کر دئیے، وہ یہ سر لے کر شاہی قلعہ سے جا رہے تھے کی ان کی ملاقات دھیان سنگھ سے ہوئی،اس نے مہاراجہ کا وزیر ہونے کا دعویٰ کیا تو اجیت سنگھ نے گولی مار کر راجہ دھیان سنگھ کو ہمیشہ کی نیند سلا دیا۔
اس سے قبل شیر سنگھ کی کھڑک سنگھ کی بیوہ چاند کور کے درمیان جھگڑے کے نتیجے میں شیر سنگھ نے چاند کور کو معزول کر کے ایک حویلی میں دوران قید بے دردی سے قتل کر دیا، دھیان سنگھ کے بعد اس کے بیٹے ہیرا سنگھ نے باپ کی جگہ پر تخت سنبھالا،حویلی کے درمیان میں دھیان سنگھ کا مقبرہ موجود حویلی پر جموںوکشمیر کے بادشاہ رنبیر سنگھ کا قبضہ بھی رہا،1894 میں سکھوں کے گروپوں کے باہمی چپقلش کے نتیجے میں ہونے والی جنگوں سے سکھوں کے اقتدار کا خاتمہ ہو گیا۔ دھیان سنگھ کے بھائی گلاب سنگھ کی طرف سے لارڈ ڈلہوزی کو 75لاکھ کے عوض ریاست جموں کشمیر عطا کی،بعد ازاں اس کے پوتے ہری سنگھ نے ریاست کا کنٹرول بھارت کے حوالے کیا۔
سابق رکن قومی اسمبلی کرن ڈار اور ان کی سات بہنوں کی شادی بھی اسی حویلی دھیان سنگھ میں ہوئی ،جس میں وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی شرکت کی،کرن ڈار کے والد محمد حسین ڈار کی رہائش گاہ سیاسی سرگرمیوں کا مرکز تھی،مقبوضہ کشمیر میں مہاراجہ ہری سنگھ کے خلاف بغاوت بلند کرنے والے سردار فتح محمدکریلوی (والد وزیر اعظم آزاد کشمیر سردار سکندر حیات خان)حاجی سید محمد جرال ، سردار سکندر حیات ،سردار قیوم سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر ، سابق صدر سردارمسعود ،مرزا محمدرفیق جرال ،سردار عالم پیرزادہ شمس الدین ،سردار عتیق احمدخان کے دورہ لاہور میں حویلی دھیان سنگھ جگمگا اٹھتی ،خوب محفلیں جمتیں ، سیاست پر زبر دست تبادلہ خیال ہوتا،حویلی دھیان سنگھ تاریخی اعتبار سے بے شمار کہانیوں کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے،یہ بات خوش آئند ہے کہ حکومت پنجاب نے مریم نواز کی قیادت میں ثقافتی ورثے کے تحفظ کیلئے اربوں روپے کے فنڈمختص کر کے آنے والی نسلوں کیلئے بڑا اقدام کیا۔



