پاکستانتازہ ترینفن اور فنکار

سیف علی خان کا چاقو حملے کے ایک سال بعد نیا انکشاف، بیٹے جہانگیر کے زخمی ہونے کا بھی بتایا

ممبئی (ویب ڈیسک)  بالی ووڈ اداکار سیف علی خان نے ممبئی میں اپنی رہائش گاہ پر ہونے والے چاقو حملے کے ایک سال سے زائد عرصے بعد واقعے کی مزید تفصیلات بیان کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ حملہ آور نے انہیں زخمی کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے چھوٹے بیٹے جہانگیر علی خان (جے) کو بھی نقصان پہنچایا تھا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق سیف علی خان نے بتایا کہ 16 جنوری 2025 کو ممبئی کے علاقے باندرہ میں واقع ان کے گھر میں داخل ہونے والے شخص نے مبینہ طور پر چوری کی نیت سے کارروائی کی، جس کے دوران اداکار پر چاقو سے حملہ کیا گیا۔

حملہ آور نے چاقو کے 6 وار کیے

سیف علی خان کے مطابق حملہ آور کے چاقو کے کئی واروں میں سے ایک انتہائی خطرناک زخم ان کی ریڑھ کی ہڈی کے قریب لگا، جس کے بعد انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کا علاج اور سرجری کی گئی۔

اداکار نے بتایا کہ اس واقعے کی یادیں آج بھی ان کے ذہن میں موجود ہیں اور یہ فیصلہ کرنا آسان نہیں کہ ایسے شخص کو معاف کیا جا سکتا ہے یا نہیں جس نے ان کے خاندان کی زندگی خطرے میں ڈال دی ہو۔

بیٹے کو بچانے کی کوشش میں حملہ ہوا

سیف علی خان نے واقعے کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ گھر میں شور سن کر وہ فوراً اپنے بیٹے جہانگیر کے کمرے کی طرف گئے، جہاں ان کا سامنا ایک ایسے شخص سے ہوا جس کے ہاتھ میں چاقو تھا۔

انہوں نے بتایا کہ حملہ آور نے بچے کو پکڑ رکھا تھا اور مزاحمت کے دوران جہانگیر کو بھی معمولی چوٹ لگی، جبکہ گھریلو ملازمہ کو بھی ہلکے زخم آئے۔

اداکار کے مطابق انہوں نے فوری طور پر اپنے بچے کو محفوظ بنانے کی کوشش کی، جس دوران انہیں چاقو کے وار برداشت کرنا پڑے۔

"اگر بات کرتا تو شاید معاملہ رک سکتا تھا”

سیف علی خان نے کہا کہ اگر اس وقت وہ لائٹس آن کرکے حملہ آور سے بات کرتے اور پوچھتے کہ وہ کیا کر رہا ہے تو شاید صورتحال مختلف ہو سکتی تھی، لیکن حالات اتنے اچانک پیش آئے کہ سوچنے کا موقع نہیں ملا۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت ان کا ردعمل صرف اپنے خاندان کو محفوظ رکھنے کی فطری کوشش تھی۔

معاف کرنا آسان نہیں: سیف علی خان

اداکار نے کہا کہ وہ حملہ آور کو معاف کرنا چاہتے تھے کیونکہ ممکن ہے وہ لڑائی کے ارادے سے نہ آیا ہو، لیکن جس انداز میں ان کی جان کو خطرہ لاحق ہوا، اسے بھولنا ان کے لیے انتہائی مشکل ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی ایسے شخص کو معاف کرنا آسان نہیں جو آپ یا آپ کے بچوں کی زندگی کو خطرے میں ڈال دے۔

سیف علی خان نے اس واقعے کو معاشرتی عدم مساوات سے بھی جوڑا اور کہا کہ وسائل رکھنے والے اور محروم طبقات کے درمیان فرق بعض اوقات ایسے حالات پیدا کر دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس واقعے کے بعد ان کی سوچ بدل گئی ہے اور اب وہ اپنے خاندان کی حفاظت اور سلامتی کو پہلے سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button