ایران کی جانب بیڑا روانہ کیا لیکن استعمال نہ کرنا بہتر: صدرٹرمپ
تہران جنگ شروع نہیں کرے گا، ہم مذاکرات کیلئے تیار ہیں، ایرانی نائب صدر
واشنگٹن، تہران (ویب ڈیسک ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی جانب امریکی بحری بیڑا روانہ کیا لیکن استعمال نہ کرنا بہتر ہوگا۔ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ہمارے بہت سے بڑے اور طاقتور جہاز ایران کی طرف جا رہے ہیں، امید ہے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی ضرورت نہ پڑے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ مزید بات چیت کا ارادہ ہے، پہلے بھی ایران سے بات چیت ہو چکی ہے اور آئندہ بھی ہوگی۔ امریکی صدر نے چین کے ساتھ کاروبار کرنا برطانیہ کے لئے بہت خطرناک قرار دیا اور کہا کہ چین کے ساتھ تجارتی تعاون برطانیہ کیلئے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے اس بیان کی مزید وضاحت نہیں کی۔ کیوبا سے متعلق بات کرتے ہوئے ٹرمپ بولے ان کے خیال سے کیوبا کی حکومت قائم نہیں رہ سکے گی۔
کیوبا گرنے کے قریب ہے، اسے مذاکرات کرنا ہوں گے یا وینزویلا جیسے انجام کیلئے تیار ہونا پڑے گا۔ دوسری جانب ایران کے نائب صدر محمد رضا عارف نے کہا ہے کہ ایران جنگ شروع نہیں کرے گا، تاہم اگر جنگ پر مسلط کی گئی تو ملک اپنی مکمل طاقت کے ساتھ دفاع کرے گا اور کسی بھی مسلح تصادم کے اختتام کا فیصلہ دشمنوں کے ہاتھ میں نہیں ہوگا۔
ایران کے پارلیمنٹ سپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی کہا ہے کہ ایران بات چیت اور سفارتکاری کے لیے تیار ہے، لیکن جنگ اور دھمکیوں کے سائے میں نہیں۔ دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے یورپی یونین کی جانب سے پاسدارانِ انقلاب کو دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے کے فیصلے کو بڑی سٹریٹجک غلطی قرار دے دیا۔
عراقچی کا کہنا ہے کہ یورپ تنازع کو ہوا دینے میں مصروف ہے۔ مزید برآں ایرانی فوج نے دوٹوک الفاظ میں واضح کر دیا کہ کسی بھی نئے حملے کی صورت میں فوری اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔



